سعودی عرب کی معیشت ٹریلین ڈالر کلب میں شامل: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) پہلی بار ایک ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر گئی ہے جس سے مملکت کی معیشت نے ٹریلین ڈالر کلب میں شمولیت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ یاد رہے مملکت نے 2025 سے بہت پہلے ہی یہ قومی ہدف حاصل کر لیا ہے۔

ان اعداد وشمار کا انکشاف جمعے کے روز مملکت کے 93 ویں قومی دن کے موقع پر سعودی چیمبرز کی فیڈریشن کی ایک رپورٹ میں کیا گیا اور انہیں سرکاری سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے جاری کیا ہے۔

یہ رپورٹ اسی ہفتے کے دوران آئی جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا کہ 2022 میں گروپ آف ٹوئنٹی (جی 20) کے رکن ممالک میں سعودی معیشت تیز ترین رفتار سے ترقی کر رہی تھی۔

سعودی چیمبرز کی رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ مملکت نے - جی 20 کے رکن ممالک میں سب سے زیادہ - 8.7 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی تھی جسے بنیادی طور پر مملکت کی پیداواری صلاحیتوں سے مہمیز ملی۔ اس ترقی کی عکاسی سعودی معیشت کی خود کفالت کی شرح میں 81.2 فیصد اور ملک کی سرمایہ کاری شرح (آؤٹ پٹ کی سرمایہ کاری کی فیصد) میں 27.3 فیصد تک اضافے سے ہوتی ہے۔

رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ سعودی نجی شعبہ - جامع ترقیاتی عمل میں اور بلند پایہ وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں ایک مؤثر شراکت دار کی حیثیت کی بدولت - اپنے مضبوط کردار اور کارکردگی کو جاری رکھے گا۔

فیڈریشن آف سعودی چیمبرز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 5.3 فیصد شرحِ نمو کے ساتھ جی ڈی پی میں نجی شعبے کا حصہ بڑھ کر 440 بلین ڈالر یا جی ڈی پی کا 41 فیصد ہو گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نجی شعبے میں کارکنان کی تعداد 2021 میں 8.084 ملین سے بڑھ کر 2022 میں 9.422 ملین ہو گئی ہے جس کی شرح نمو 16.6 فیصد ہے۔

افرادی قوت کو مقامی بنانے کی کوششوں کے تحت نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودیوں کی تعداد 14.9 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ 2021 میں 1.910 ملین سے بڑھ کر 2022 میں 2.195 ملین ہو گئی ہے جو نجی شعبے میں سعودی کارکنان کی تعداد میں 58.2 فیصد اضافے سے ظاہر ہوتا تھا۔

رپورٹ میں اقتصادی بنیاد کے تنوع اور عالمی منڈیوں میں سعودی برآمدات کے لیے حمایت کے حوالے سے مملکت کی پالیسیوں کی کامیابی پر روشنی ڈالی گئی۔ جہاں اشیاء اور خدمات کی برآمدات میں 54.4 فیصد اضافہ ہوا، وہیں سعودی معیشت کی برآمدی صلاحیت 33 فیصد سے بڑھ کر جی ڈی پی کے 39.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ سامان اور خدمات کی برآمدات کی مالیت 2022 کے مقابلے میں 171.9 فیصد تک بڑھ گئی – جو گذشتہ سال کے 134.5 فیصد سے زیادہ ہے۔

13.7 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ غیر تیل کی برآمدات کی مالیت 84 بلین ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ اجناس کی برآمدات کا 20.5 فیصد ہے اور یہ برآمدات دنیا کے 178 ممالک تک پہنچتی ہیں۔

مختلف اقتصادی اشاریوں، حکومتی امدادی پیکیجوں اور مملکت کے مختلف خطوں میں شروع کیے جانے والے بڑے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ سعودی معیشت اور ملک کا نجی شعبہ اپنی مضبوط کارکردگی کو جاری رکھیں گے۔

انٹرنیشنل سینٹر فار مینجمنٹ ڈویلپمنٹ (آئی ایم ڈی) کی عالمی مسابقتی رپورٹ کے مطابق مملکت بین الاقوامی سیاحوں کی شرحِ نمو کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور گلوبل انوویشن انڈیکس میں 51ویں نمبر پر ہے۔ مجموعی اقتصادی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی معیشت میں سعودی معیشت کے انضمام کی شرح میں 63.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں