مصر میں دریا میں تیرتا ہوٹل پُل سے ٹکرا کر جزوی ڈوب گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں دریائے نیل میں تیرتا ہوا حیران کن ہوٹل جزوی طور پر ڈوب گیا، مصری حکام نے اس حوالے سے تفصیل بتائی اور کہا کہ ہوٹل ہفتہ کے روز جزوی طور پر ڈوب گیا تھا۔ وزارت سیاحت اور نوادرات نے کہا کہ تیرتے ہوئے ہوٹلوں میں سے ایک آج منیا گورنری کے دریائی نیویگیشن کوریڈور سے گزرتے ہوئے تصادم کا شکار ہو گیا۔ تصادم کے وقت یہ ہوٹل قاہرہ سے لکسر گورنری کی طرف جا رہا تھا۔

ہوٹل کے قیام، دکانوں اور سیاحتی سرگرمیوں کی وزارت کی مرکزی انتظامیہ کے سربراہ محمد عامر نے بتایا کہ ہوٹل میں کوئی مہمان موجود نہیں تھا۔ مصری اور نہ ہی کوئی غیر ملکی مہمان ہوٹل میں موجود تھا۔ اس ہوٹل کا سیاحتی آپریٹنگ لائسنس گزشتہ مئی میں ختم ہو گیا تھا اور اس کی اب تک تجدید نہیں کرائی گئی تھی۔

مصری عہدیدار نے کہا کہ ہوٹل میں گزشتہ عرصے کے دوران کوئی مصری یا غیر ملکی مہمان نہیں آیا تھا۔ یہ ہوٹل حال ہی میں قاہرہ کے جنوب میں واقع ہیلوان کے علاقے میں ایک ورکشاپ میں موجود تھا تاکہ ضروری ترقیاتی، تزئین و آرائش اور دیکھ بھال کا کام کیا جاسکے۔ یہ ہوٹل سردیوں کے موسم میں کام کر سکتا ہے۔ یہ ہوٹل اکتوبر سے دوبارہ کام شروع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔

مصر میں تیرتا ہوٹل جزوی ڈوب گیا

عہدیدار نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہوٹل منیا گورنری میں ایک پل کے نیچے سے گزرتے ہوئے تصادم کا شکار ہوگیا۔ پُل سے ٹکرانے کے باعث تیرتے ہوئے اس انوکھے ہوٹل میں دراڑ آگئی اور اس کی پہلی منزل میں پانی داخل ہوگیا۔ ہوٹل کے کپتان نے اسے زمین پر لنگر انداز کیا تاکہ نیوی گیشنل چینل میں بحری نقل و حرکت میں خلل نہ پڑے اور عملے کے ارکان اس پر سے اتر جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ استغاثہ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے فلوٹنگ ہوٹل کی مالک کمپنی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جارہی ہے۔ یاد تین ہفتے قبل ملک کے جنوب میں لکسر گورنری کے قریب دریائے نیل میں ایک تیرتا ہوا سیاحتی ہوٹل ڈوب گیا تھا اور اس حادثے کے نتیجے میں دو مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں