مصری خاتون رکن پارلیمان کا سکولوں میں مار پیٹ کی اجازت کامطالبہ، دلائل کیا دئیے

حقائق تصدیق ٹرینڈنگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصری وزیر تعلیم نے 2016 میں ایک وزارتی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں طلبہ کے لیے جسمانی اور نفسیاتی سزا کے استعمال کی ممانعت کردی گئی اور سکولوں میں سماجی کارکن کے کردار کو فعال کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

اس سال تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے جاری ہونے والی متواتر لیٹر میں وزیر نے سکولوں کے اندر ہر قسم کے تشدد، جسمانی سزا اور غنڈہ گردی کی روک تھام اور سکول کے نظم و ضبط کے ضوابط کو نافذ کرنے پر زور دیا۔ اس حوالے سے اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑ گیا جب گزشتہ دنوں ایوان نمائندگان میں ایک تجویز پیش کی گئی جس میں طلبہ کو مار پیٹ کی واپسی پر زور دیا گیا تھا۔ تجویز دی گئی کہ استاذ کے وقار کو بحال کرنے، ڈسپلن پیدا کرنے کے لیے سزا کے وسیع تر اختیارات فراہم کئے جائیں۔ ٹیچر کو ڈنڈا رکھنے کی اجازت بھی دی جائے۔

آمال
آمال

مصری خاتون رکن پارلیمنٹ آمال عبد الحمید نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو اپنی اس تجویز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں مصری معاشرے میں دیکھا گیا ہے کہ سکولوں میں نظم و ضبط کے فقدان کے نتیجے میں بچوں اور طالب علموں میں طرز عمل اور سماجی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

آمال نے مار پیٹ کی اجازت دینے کی اپنی تجویز کو ڈسپلن نافذ کرنے کی ایک شکل کے طور پر درست قرار دیا اور کہا کہ اس سے سکول کے طللبہ کو دوبارہ تعلیم دینے اور ان کے رویے کو درست کرنے کی صلاحیت کو بحال کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا نظم و ضبط اور اصلاح کے لیے چھڑی کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اساتذہ کا احترام کیا جانا چاہیے اور ان کے ساتھ وقار کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔۔

اپنی عجیب و غریب تجاویز سے ہمیشہ تنازع کھڑا کرنے والی مصری رکن پارلیمنٹ نے اپنے اس قدیم ورثے تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا جس پر ان کی پرورش کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں اب تعلیم کے ساتھ ساتھ امریکہ کے کچھ سکولوں میں بھی اس قسم کی سزا کا سہارا لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سزا بچے کو نظم و ضبط اور ان کی اصلاح کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ استاد کا احترام کرنا، طالبعلم کو اخلاقی طور پر قابو میں رکھنا، اس کو فرار کو روکنا بچے کی نفسیات تباہ کرنا نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ فسادیوں کے لیے چھڑی کا استعمال کرنے کے ساتھ انہوں نے نظم و ضبط رکھنے والے طلبہ کو انعام دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ غیر ملکی سکول پرعزم اور شاندار طالب علم کو انعام یا مالی وظیفہ دیتے ہیں۔

رکن پارلیمان آمال کی اس تجویز نے سوشل میڈیا پر مصریوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تنازع پیدا کردیا ہے۔ بعض افراد نے آمال کے خیال کی حمایت کی اور بہت سے لوگوں نے اس تجویز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں