ناسا نے پہلی مرتبہ سیارچہ بینو کے نمونے حاصل کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سیارچہ بینو کی سطح سے حاصل کیے گئے نمونے لے کر ناسا کا ایک خلائی کیپسول سالٹ لیک سٹی کے مغرب میں امریکی فوج کے وسیع و عریض یوٹاہ ٹیسٹ اور ٹریننگ رینج میں متعین کردہ لینڈنگ زون میں بحفاظت اتر گیا ہے، جہاں زمین پر پہلی مرتبہ پہنچنے والے ان نمونوں کو مزید جانچ کے لیے ناسا کے ہیوسٹن میں واقع جانسن اسپیس سینٹر لے جایا جائے گا۔

سات برس قبل خلائی مشن پر روانہ ہونیوالے امریکی روبوٹک جہاز اوسیرس ریکس نے 1999 میں دریافت ہونے والے سیارچہ بینو سے 2020 میں نمونے حاصل کیے تھے، جنہیں خلائی کیپسول کے ذریعہ زمین کی جانب اس وقت چھوڑا گیا جب خلائی جہاز ایک لاکھ 8 ہزار کلومیٹر کے فاصلہ سے زمین کے پاس سے گزرا تھا۔

کامیابی کے ساتھ زمین پر پہچنے والے سیارچہ بینو کی سطح سے حاصل کیے گئے نمونے ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کی ایک نئی لیب میں بھیجے جائیں گے، جہاں پہلے ہی تقریباً 4 سو کلوگرام چاند کی چٹانیں موجود ہیں جنہیں اپالو کے خلابازوں نے نصف صدی قبل جمع کیا تھا۔

امریکی سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ کیپسول میں کاربن سے بھرپور سیارچے بینو کا کم از کم ایک کپ نمونہ ہے، جس کے بارے میں کنٹینر کے کھلنے تک یقینی طور پر معلوم نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ جاپان، سیارچہ کے نمونے حاصل کرنے والا واحد دوسرا ملک ہے، جس نے اپنے دو مشن کے ذریعہ تقریباً ایک چائے کے چمچہ کے سائز کا نمونہ اکٹھا کیا تھا۔

یونیورسٹی آف ایریزونا سے وابستہ مشن کے سرکردہ سائنسدان دانتے لوریٹا یوٹاہ سے ان تازہ نمونوں کے ساتھ ٹیکساس جائیں گے۔ لینڈنگ سے قبل، ان کا کہنا تھا کہ خلائی کیپسول میں موجود سیارچہ سے حاصل کردہ نمونہ کی مقدار کی اصل حقیقت کے پیش نظر ہیوسٹن میں کنٹینر کا اگلے یا دو دنوں میں کھلنا ’سچائی کا حقیقی لمحہ‘ ہو گا۔

بینو نامی اس چھوٹے سیارچہ کی 1999 میں ’زمین کے قریب ایک چیز‘ کے طور پر درجہ بندی کی گئی تھی، کیونکہ یہ ہر 6 سال بعد زمین کے نسبتاً قریب سے گزرتا ہے، تاہم اس کے زمین سے ٹکرانے کے خدشات بہت کم تصور کیے جاتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ بینو، کچرے کے ڈھیر کی طرح، چٹانوں کے ڈھیلے مجموعے سے بنا ہے۔ اس کی پیمائش 16 سو فیٹ شمار کی گئی ہے جس سے یہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے قدرے چوڑا ہے لیکن اس سیارچہ کے مقابلے میں چھوٹا ہے، جس نے تقریباً 66 ملین سال پہلے زمین سے ٹکراتے ہوئے ڈائنوسار کا صفایا کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں