نجی چینی طیارے پر بشار الاسد کا سفر کئی چھپے پیغامات دے گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

چین اور شام کے درمیان دو روز قبل سٹریٹجک پارٹنر شپ کا اعلان کیا گیا۔ یہ اعلان شام کے صدر بشار الاسد کے تقریباً دو دہائیوں میں اتحادی ملک کے پہلے سرکاری دورے کے دوران کیا گیا۔ یہ دورہ عالمی سطح پر خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں اپنے کردار کو بڑھانے کے لیے چینی کوششوں کی عکاسی کر رہا ہے۔

چینی حکومت برسوں سے ایک سفارتی نقطہ نظر پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد اپنی سیاسی اور اقتصادی موجودگی کو اجاگر کرنا اور شام جیسے جنگ اور تنہائی کا شکار ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

72
72

دوسری طرف دمشق بھی تعمیر نو کے مرحلے کے لیے اتحادی ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شام میں لڑائی شروع ہونے کے بعد 12 سال گزر گئے ہیں اور جنگ نے اس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ مغربی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کی وجہ سے شام کی معیشت مسلسل بگاڑ کا شکار ہے۔

دمشق کی سفارتی تنہائی کی دیواروں کو توڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے بیجنگ نے ہفتے کے روز چین کے شہر ہانگ زو میں ہونے والے ایشین گیمز کے انیسویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کو سرکاری دعوت پر مدعو کیا۔

چین کا نجی طیارہ

مشرق وسطی میں چینی مفادات کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اور چینی امور کے محقق ڈاکٹر نبیل سورور کا خیال ہے کہ بشار الاسد کے دورے سے ملنے والی توجہ پورے خطے میں چین کی دلچسپی کے دائرے میں آتی ہے۔ عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (اے ڈبلیو پی) کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شام کے صدر اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کو اس کی سرزمین پر پہنچانے کے لیے چین نے نجی طیارہ دمشق بھیجا تھا۔ یہ اقدام شام میں مغربی پابندیوں اور امریکی پابندیوں کو توڑنے کے لیے کارروائی کا پیغام لئے ہوئے تھا۔ اسی طرح بشار الاسد کے سرکاری استقبال کے سائز سے بھی اشارہ دیا گیا۔

انہوں نے اس اقدام کو ایک چینی پیغام قرار دیا جس میں نئے اتحادیوں کو محفوظ بنانے اور سیاسی اور اقتصادی سطح پر مفادات حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

تعمیر نو

علاوہ ازیں ڈاکٹر نبیل سورور نے وضاحت کی کہ شام چین سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ چین بڑی صلاحیت کے حامل تکنیکی ادارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مشترکہ سرمایہ کاری کے ذریعہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ چین خطے کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھتا ہے لیکن ساتھ ہی دمشق بھی چین کو بنیادی ڈھانچےکی بحالی اور تعمیر نو کے اندرونی منصوبوں کے گروپ میں شامل کر کے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

دوسری طرف ان کا خیال تھا کہ چین کے لیے شام میں قدم جمانا بھی فائدہ مند ہوگا جس کا ایک سٹریٹجک مقام ہے جو بہت سے ملکوں کے لیے توجہ کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے چین کا رخ کرنے کے شامی آپشن کو ایک جرات مندانہ انتخاب قرار دیا اور کہا کہ یہ ضروری تھا کیونکہ شام کے پاس کوئی متبادل آپشن بھی نہیں تھا۔

واضح ہے کہ روس یوکرین کی جنگ میں اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے۔ اس لیے دمشق کا بیجنگ کی طرف دیکھنا اس کی ہوشیاری کو ظاہر کر رہا ہے۔

پابندیوں کی دیوار میں دراڑ

جہاں تک دورے کے نتائج کا تعلق ہے تو ڈاکٹر نبیل سورور نے کہا کہ آپ کو نتائج جاننے کے لیے چار یا پانچ ماہ انتظار کرنا ہوگا۔ اس وقت تک آپ کو کوئی تبدیلی نظر آ سکتی ہے۔ چین کو اپنی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ شام آنے کے معاملے میں ایک محفوظ ماحول کی ضرورت ہے جب کہ شام اس وقت غیر مستحکم ہے۔ مثل مشہور ہے کہ سرمایہ بزدل ہوتا ہے اور اسے سلامتی اور استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے شلر انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ کے اقتصادی اور تزویراتی تجزیہ کار حسین العسکری نے کہا کہ بشار الاسد کا دورہ شام پر پابندیوں کی دیوار میں دراڑ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے ایسا ہو سکتا ہے۔ ایک عالمی اقتصادی اور مالیاتی بلاک کی موجودگی جس میں روس، چین، برکس کے باقی ممالک اور شنگھائی تنظیم نے ان ملکوں کو فنانسنگ اور تجارت کا ایک خاص طریقہ کار دیا ہے۔ ان اقتصادی تعلقات میں مقامی کرنسیاں استعمال ہوتی ہیں اور امریکی یا یورپی پابندیوں سے خوفزدہ کیے بغیر ان ملکوں سے ایک مختلف انداز میں برتاؤ کیا جاتا ہے۔

جہاں تک طویل مدتی تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ترقی ایک اہم تزویراتی تبدیلی کی نمائندگی کر رہی ہے۔ خاص طور پر شام اب مستقبل میں شنگھائی تعاون تنظیم میں داخل ہونے کی صورت میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

متعدد پیغامات

شامی چینی اقتصادی امور کے ماہر اور چین میں شامی کمیونٹی کے سربراہ فیصل العطاری نے کہا کہ یہ دورہ نہ صرف شام کے لیے بلکہ تمام تیسری دنیا کے ملکوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعہ یہ مضبوط پیغامات دئیے گئے ہیں کہ دنیا امریکی پالیسیوں سے تنگ آچکی ہے۔

چینی طیارے میں بشارالاسد اور ان کے خاندان کے سفر نے واضح پیغامات دیے ہیں کہ شام نے اعلیٰ سطح پر محاصرہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ پیغام بھی دے دیا گیا ہے کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے چین اسے سرخ آنکھ سے دیکھ رہا ہے۔

سٹریٹجک دورہ

شام کے سیاسی اور تزویراتی ماہر علاء الصفاری نے اس دورے کو اعلیٰ ترین صلاحیتوں کا سٹریٹجک دورہ قرار دیا اور کہا کہ چین نے اپنے صدر کے ذریعے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے ان کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کی ایک تصویر ہیں۔ یہ دورہ شام کی معیشت کو بچانے اور ایک پائیدار شراکت داری کی نمائندگی بھی کر رہا ہے۔ دورہ یہ بھی ظاہر کر رہا ہے کہ شام اور چین دونوں بین الاقوامی اور علاقائی نقطہ نظر پر ہم خیال ہیں۔ یہ دورہ امریکی- مغربی اثر و رسوخ کے خلاف جنگ کا بھی اظہار کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں