چیچن لیڈر قدیروف کا صاحبزادے کے قرآن جلانے والے یوکرینی کو پھینٹی لگانے پراظہارِتفاخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کی جمہوریہ چیچنیا کے رہ نما رمضان قدیروف نے پیر کے روز کہا ہے کہ انھیں اپنے نوعمر بیٹے آدم پر فخر ہے جس نے قرآن جلانے کے الزام میں ایک قیدی کو مارا پیٹا تھا۔

قدیروف نے ٹیلی گرام پرایک کلپ کے ساتھ یہ تبصرہ پوسٹ کیا۔اس میں خاکی لباس میں ملبوس ایک نوجوان کو کرسی پر بیٹھے ایک اور شخص کو تھپڑ مارتے اور لات رسید کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

خود کو صدر ولادی میرپوتین کا بے رحم اتحادی ظاہر کرنے والے چیچن رہ نما نے کہا کہ وہ یہ ویڈیو جاری کر رہے ہیں تاکہ اس بارے میں کسی بھی قسم کے شکوک کو دور کیا جا سکے کہ آیا یہ واقعہ فی الواقع پیش آیا تھا یا نہیں۔قدیروف نے کہا:’’اس (آدم) نے اسے مارا ہے اور اس نے ٹھیک کام کیا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’بغیر کسی مبالغہ آرائی کے، مجھے آدم کے اس اقدام پر فخر ہے‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ 'عزت، وقار اور اپنے مذہب کے دفاع میں بالغ نظریات' کا حامل ہونے پراس لڑکے کا احترام کرتے ہیں۔

یوکرینی قیدی نکیتا ژوراویل نے اس حملے کی شکایت روس کی انسانی حقوق کی خاتون کارکن سے کی تھی جس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ اس نے اس معاملے کو چیچنیا میں اپنے ہم منصب کو بھیج دیا تھا۔

رمضان قدیروف کے 15 سالہ بیٹے آدم نے مبیّنہ طور پر روسی شہر وولگوگراڈ میں قرآن جلانے کے الزام میں گرفتار یوکرین کے اس باشندے کو تشدد کا نشانہ بنایاتھا۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق نکیتا ژوراویل کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج ہے۔ اس پر روسی فیڈریشن کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 148 کی شق 2 کے تحت جرم کا مرتکب ہونے کا شُبہ تھا۔اس کے تحت عوامی سطح پر معاشرے کی واضح توہین کے اظہار اور اہل عقیدہ کے مذہبی جذبات کی توہین پرسزا سنائی جاسکتی ہے۔

چھیالیس سالہ رمضان قدیروف 2007 میں صدر بننے کے بعد سے چیچنیا پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کر رہے ہیں اور اپنے والد اخمت کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ان کے والد 2004 میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔انھیں صدر پوتین کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقے کی تعمیرِنو کے لیے فراخدلانہ فنڈز مہیا کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ چیچنیا نے 1990ء کے عشرے میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کے کنٹرول سے الگ ہونے کی کوشش کی تھی اور ماسکو نے اس مسلم اکثریتی جمہوریہ میں اپنی فوجیں داخل کردی تھیں۔اس کی مسلط کردہ دو جنگوں میں یہ جمہوریہ تباہی کا شکار ہوگئی تھی لیکن رمضان قدیروف کے کنٹرول کے بعد سے چیچنیا میں استحکام آیا ہے۔

قدیروف اپنے تین نوعمر بیٹوں کی خوب تشہیر کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں انھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ وہ انھیں یوکرین کی جنگ میں روس کی طرف سے لڑنے کے لیے بھیج رہے ہیں۔تاہم کسی بھی جنگی کارروائی میں ان کی اصل میں شمولیت واضح نہیں ہے۔

ان کے سب سے بڑے بیٹے اخمت کو مارچ میں کریملن میں صدرپوتین کے ساتھ ایک تصویر میں دیکھا گیا تھا، جس سے ان افواہوں کو تقویت ملی تھی کہ انھیں قدیروف کے جانشین کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

قدیروف کی صحت کے بارے میں بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور رواں ماہ یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ گزرگئے ہیں یا کوما میں ہیں۔ گذشتہ ہفتے انھوں نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ شائع کی تھی جس میں کہا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور ماسکو کے اسپتال میں تو وہ اپنے ایک بیمار چچا کی تیمارداری کے لیے گئے تھے۔

چیچن لیڈر نے متعدد مواقع پر اسلام کی توہین، خاص طور پر قرآن کی بے حرمتی جیسے کسی بھی اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بار بار ایسے افراد یا گروہوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے جو قرآن جلانے کے واقعات میں ملوّث ہیں۔ وہ اس طرح کے اقدامات کو نہ صرف توہین مذہب بلکہ اشتعال انگیزی کے طور پر بھی دیکھتے ہیں جو تشدد کو بھڑکا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں