ایران میں زہریلی شراب بیچنے کی پاداش میں چار افراد کو سزائے موت

غیر معیاری شراب پینے سے 17 افراد کی موت واقع ہوئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی ایک عدالت نے غیر قانونی شراب فروشی الزام میں چار افراد کو منگل کے روز سزائے موت سنائی ہے جس سے جون میں 17 افراد ہلاک اور درجنوں بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ گئے تھے۔

ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی ہے جو اسمگل شدہ یا چوری چھپے ہونے والی ایک بڑی غیر قانونی تجارت کا سبب ہے۔ اس میں سے کچھ شراب میں زہریلے میتھانول کی ملاوٹ ہوتی ہے۔

جون میں ملاوٹ شدہ شراب پینے کے بعد کم از کم 17 افراد ہلاک اور 191 افراد میتھانول زہر کی علامات کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئے تھے۔

عدلیہ کے ترجمان مسعود ستائشی نے کہا کہ تہران کے مغرب میں البرز صوبے میں زہریلی شراب کی تقسیم کے معاملے پر 11 مدعا علیہان پر زمین پر بدعنوانی کے سنگین جرم کا الزام تھا۔

ستائشی نے کہا کہ 11 میں سے چار کو سزائے موت جبکہ باقی کو ایک تا پانچ سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجرم سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

جون میں حکام نے کہا کہ انہوں نے ایک میک اپ ساز کارخانے پر چھاپہ مارا تھا جہاں سے 6,000 لیٹر (1,585 گیلن) سے زیادہ غیر قانونی شراب ضبط کر کے اس کی تقسیم کو روک دیا گیا تھا۔

ایران کے فرانزک انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ اس سال میں مارچ تک 644 افراد "جعلی الکوحل والے مشروبات" پینے سے ہلاک ہوئے جو گذشتہ 12 ماہ کی مدت کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔

2020 میں کوویڈ وبائی مرض کے عروج کے دوران کم از کم 210 ایرانی غیر قانونی شراب پینے کے بعد ہلاک ہو گئے تھے۔ انہیں یہ غلط فہمی تھی کہ یہ کووڈ وائرس کا علاج تھا۔

صرف ایران کی عیسائی، یہودی اور زرتشتی اقلیتوں کے ارکان کو شراب پر پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ غیر ملکی اس کے احترام کے پابند ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں