زلزلہ میں جزوی منہدم مراکش کی سب سے بڑی مسجد کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو ہفتے قبل مراکش میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے صوبہ الحوز کے بہت سے دیہاتوں کا عمومی منظر نامہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس زلزلے میں ہزاروں جانیں چلی گئی ہیں۔

تباہ شدہ ملک میں شاید سب سے اہم تاریخی یادگاروں میں سے ایک تینمل مسجد ہے جو مراکش کی سب سے بڑی مسجد ہے ۔ اسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر رینکنگ دے رکھی ہے۔ یہ مسجد 9 صدیوں کے زیادہ عرصہ سے قائم ہے۔ 8 ستمبر کو الحوز اور تارودانت کے علاقے میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے آثار قدیمہ کے متعدد مقامات کے منہدم ہو گئے جن میں یہ عظیم مسجد بھی شامل ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز خلیفہ عبد المومن ابن علی المحدث نے 1148 عیسوی میں ابن تمرت کی یاد میں کیا تھا۔

اس عظیم مسجد کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا ہے۔ یہ الموحد ریاست کے قیام کے دور سے موجود تھا۔ مسجد کی جگہ صدیوں پہلے اس وقت مشہور تھی جب ابن تمرت نے حکومت کرنے والی الموحد ریاست کی تعمیر کے لیے اپنی دعوت کا آغاز کیا تھا۔ موحدین کی حکومت مراکش میں 1121 سے 1269 کے درمیان رہی۔ تینمل مسجد کو یہاں کی سب سے پہلی مسجد سمجھا جاتا تھا۔

یہ مسجد 1,230 میٹر کی بلندی پر اٹلس پہاڑوں کے وسط میں "تھلاس نیاقوب" کے قصبے میں واقع ہے۔ یہ اسلامی فن تعمیر اور اپنے اندلس- مراکشی تعمیرات کے منفرد آثار کی وجہ سے ممتاز عمارت ہے۔

واضح رہے مراکش کے وزیر ثقافت و مواصلات محمد مہدی بن سعید نے زلزلے سے تباہ ہونے کے بعد عظیم مسجد کا معائنہ کیا اور مقامی میڈیا کو کہا کہ وزارت نے مسجد کی بحالی اور مرمت کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ 18 ماہ تک جاری رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں