کراچی میں قدیم نوادرات کے نجی عجائب گھر میں کیا کیا محفوظ ہے؟

67 سالہ فنکار احمد انور نے اپنے گھر کو نوادرات اور فن کے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے جنوبی ساحلی شہر کراچی کے ایک پرہجوم محلے میں ایک صدی پرانی عمارت میں ایک تنگ زینہ عمارت کی دوسری منزل کی رہائش گاہ تک جاتا ہے جہاں فارسی میں ایک نشان - "کسبِ کمال کُن کہ عزیز جہاں شوی" - مہمانوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

اس رہائش گاہ کے اندر 67 سالہ فنکار احمد انور کے کئی عشروں کے جمع کردہ نوادرات کا خزانہ ہے۔ لالٹین، چراغ، کیمروں اور گراموفون سے لے کر سکے، ڈاک ٹکٹ، اور ایک باکس کیمرے تک انور کا خانگی عجائب گھر آرٹ کے لیے مالک کی اپنی محبت اور نوادرات کے لیے جذبۂ جنون کی توسیع ہے۔

جب انور کے والد جو ایک ٹیکسٹائل ڈیزائنر اور پرنٹر تھے، 1947 میں آزادی کے تقریباً ایک عشرے کے بعد ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر آئے تو انور تین سال کے تھے۔ وہ اپنے ساتھ نوادرات کا ایک چھوٹا سا ذخیرہ بھی لے کر آئے جس میں سکے، ڈاک ٹکٹ، اور ایک باکس کیمرہ شامل تھا۔

اس مال و اسباب کے درمیان پرورش پانے سے ان کے جوان بیٹے میں نوادرات جمع کرنے کا ایک جذبہ پیدا ہوا جو زندگی بھر کی محبت میں بدل گیا۔

منی ایچر پینٹنگ، تقابلی مصوری اور خطاطی میں مہارت رکھنے والے ایوارڈ یافتہ فنکار انور نے عرب نیوز کو بتایا، "مجھے اپنا شوق والد سے وراثت میں ملا جن کے پاس پرانے سکوں کا مجموعہ تھا۔"

"میں اکثر انہیں الٹ پلٹ کر دیکھتا اور مختلف البمز میں ترتیب دیتا۔ جوں جوں میں اپنی طالب علمانہ زندگی میں آگے بڑھا، میں نے سکوں کے بارے میں مزید جاننا شروع کیا اور یہ کہ سکے جمع کرنے چاہییں۔ سو پرانے سکے میں شروع سے جمع کر رہا ہوں۔"

سکوں سے شروع ہونے والا جذبے میں اور بھی بہت کچھ شامل ہوتا چلا گیا۔

انور نے کہا، "اپنے نوادرات کے مجموعے میں میں نے مختلف اشیاء جیسے ٹکٹس، پرانے سکے، قدیمی لیمپ، اور دیگر چھوٹے قدیم نوادرات جمع کیے ہیں۔ اس میں پرانے ریڈیوز، پرانے گراموفون ریکارڈز، پرانے گراموفونز، اور اسی طرح کے اور خزانے شامل ہیں جو میں جمع کرتا ہوں۔"

اس فنکار کو چراغوں اور لیمپ کے ساتھ ایک خاص دلچسپی ہے بشمول ایک سو سال پرانے لیمپ کے۔

"مجھے اپنی زندگی کے اس دور میں لیمپ جمع کرنے کا شوق پیدا ہوا جب میں [پینٹ] کا کام کرتا تھا۔ اس لیے دستیاب روشنی کی قسم سے قطع نظر میرے پاس ہمیشہ ایک لیمپ جلتا رہتا۔ ایک لیمپ کی روشنی اور دوسری اگربتیوں کی خوشبو، میں ان کے بغیر کبھی کام نہیں کرتا تھا۔"

پھر قدیم چیزوں سے آراستہ ریک سے احتیاط سے ایک باکس کیمرہ نکالنے کے لیے انور اٹھ کھڑے ہوئے۔

انہوں نے کہا، "ہمارے [میرے خاندان] پاس کوڈک باکس کیمرہ تھا۔ وہ ہماری ملکیت تھا اور کراچی میں یا جہاں بھی ہم گئے اپنی تمام تصاویر کھینچنے کے لیے اسے استعمال کرتے تھے۔"

اب انور کے پاس کئی قدیمی کیمرے ہیں جنہیں وہ ان کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے پسند کرتے ہیں اور اپنے بیرونِ خانہ آبی رنگوں کے سیشنز کے لیے بھی انہیں استعمال کرتے ہیں۔

انور نے کہا، "ایک فنکار کے طور پر میرے لیے فوٹوگرافر ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات جب ہم آبی رنگوں کے سیشنز کے لیے جاتے ہیں تو گفتگو میں الجھ جاتے ہیں، کھانے میں تاخیر یا کچھ اور ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے منظر اور روشنی بالکل بدل جاتی ہے۔"

انور نے کہا، پھر پرانے کیمروں سے لی گئی تصاویر پینٹنگ کو مکمل کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

فنکار نے متعدد ممالک سے نوادرات جمع کیے ہیں اور کہا کہ وہ کسی بھی ایسی چیز حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسے وہ دریافت کریں - اگر یہ ان کے وسائل میں ہو تو۔

"اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ان چیزوں کو جمع کرنے کے لیے خود کو ہر حد تک لے جانا چاہیے۔ مجھے ان چیزوں کو تلاش کرنے کے لیے اپنی ضروریات کو قربان کرنا پڑتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں