کیا ایران میں فتویٰ دینے والا روبوٹ جلد قُم کے علما کی مدد کرے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایسا لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ان شعبوں میں بھی دراندازی شروع کر دی ہے جن کے بارے میں برسوں سے سوچا جاتا تھا کہ وہاں داخلہ ممنوع ہے۔ مصنوعی ذہانت اب ایران اور دیگر بعض ملکوں میں فتویٰ کے میدان میں داخل ہونا بھی شروع ہوگئی ہے۔

ایران کے مشہور شہر قم کو ائمہ اور شیعہ علماء کی تعلیم اور تیاری کے مرکز کے طور جانا جاتا ہے اور اب ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس شہر کے دروازے پر بھی دستک دینا شروع کر دی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی صلاحیت میں عالمی دلچسپی کی لہر علما اور مبلغین تک بھی پہنچ گئی۔ دینی رہنماؤں نے یہ دریافت کرنا شروع کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ان کے شعبے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔ طویل مذہبی تحریروں کا تجزیہ کرنے سے لے کر حکم نامے جاری کرنے اور کچھ قانونی فیصلوں تک مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور شروع کردیا گیا ہے۔

علما کو تیار کرنے والی ایک سرکاری تنظیم کے سربراہ محمد قطبی نے اس تناظر میں تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روبوٹ سینئر علما کی جگہ نہیں لے سکتے لیکن وہ ایک قابل اعتماد معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس طرح یہ علما 50 دن کے بجائے پانچ گھنٹے میں فتویٰ جاری کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میدان میں قُم اور ملک کے دیگر مقامات پر درجنوں منصوبے چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی علما کو کچھ عوامی خدشات کو دور کرنے اور تیزی سے پیچیدہ معاشرے میں فیصلے کرنے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اساتذہ کو زیادہ سماجی اثر ڈالنے کی اجازت دے گی۔

یاد رہے کہ 2020 میں قُم شہر میں پہلی مصنوعی ذہانت کانفرنس کے انعقاد کے بعد سے ایرانی مذہبی اسٹیبلشمنٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں