انسانی عمر بڑھانے کے لیے سعودی عرب کا اربوں ڈالر مالیتی منصوبہ کیا ہے؟

ہیوولوشن فاؤنڈیشن عمر بڑھنے کے عمل کو "سست کرنے" اور لوگوں کی اچھی صحت والے لمحات کو بڑھانے کے لیے اختراعی طریقے تلاش کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی خواہاں ہے: سعودی شہزادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چار سال قبل ایک شاہی فرمان کے ذریعے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تحقیق کے لیے ایک وسیع مالیاتی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا - ایک ارب ڈالر سے زیادہ – یہ تحقیق انسانی عمر میں توسیع کرنے کے لیے تھی جس کی وجہ سے مملکت کی ہیوولوشن فاؤنڈیشن کی داغ بیل رکھی گئی۔

فاؤنڈیشن - ایک عالمی فنڈ جس کا مقصد عمر بڑھنے کے عمل کو "سست کرنے" کے جدید طریقوں کی تلاش اور ان میں سرمایہ کاری کرنا اور لوگوں کی اچھی صحت والے سالوں کی تعداد کو بڑھانا ہے – نے تعلیمی تحقیق اور بائیوٹیک اسٹارٹ اپس میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے جو عمر بڑھنے کو سست اور عمر سے متعلق بیماریوں کا مقابلہ کرکے طویل عمری کو فروغ دیتے ہیں۔

سعودی شہزادی ڈاکٹر ھیا بنت خالد بن بندر آل سعود جو تنظیم کی نائب صدر برائے تنظیمی حکمتِ عملی اور ترقی ہیں، نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ فاؤنڈیشن کا کام چند سالوں میں بڑھاپے کو کم کرنے کے کام کے ٹھوس نتائج دیکھے گا۔

انہوں نے کہا، "ہم ایک ایسی تنظیم ہیں جو پوری انسانیت کی مدد کر رہی ہے،" اور مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد عمر سے متعلقہ علاج میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پہلی غیر منافع بخش تنظیم بننا ہے۔ یہ عالمی سائنسی دریافت کی مالی اعانت اور ان نجی کمپنیوں اور کاروباری افراد میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہے جو عمر رسیدگی کی سائنس کو آگے بڑھانے کے لیے وقف ہیں۔

"ہیوولیوشن ایک داعی اور عامل بننا چاہتی ہے اور سرمایہ کاری اور سائنس کے لحاظ سے فنڈنگ کے فرق کو ختم کرنا چاہتی ہے اور فاؤنڈیشن نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے گذشتہ ایک سال میں متعدد سرگرمیاں کی ہیں کہ ہم کنویننگ اور عمل انگیزی کا یہ پلیٹ فارم تیار کریں تاکہ تمام انسانیت کے فائدے کے لیے صحت کے دورانیے کی سائنس کو آگے بڑھایا جائے۔

ڈاکٹر آل سعود نے کہا کہ صحت مند انسانی عمر میں توسیع کرنے والے علاج سے 21ویں صدی میں صحت کی نگہداشت کے نئے معنی سامنے آئیں گے۔

2023 تک اس غیر منافع بخش تنظیم – جس کا ہیڈکوارٹر ریاض ہے – نے مملکت کی سرحدوں سے باہر توسیع کی اور بوسٹن، میساچوسٹس میں اپنا پہلا بین الاقوامی مرکز قائم کیا ہے۔ امریکی دفتر نے اسے لائف سائنسز میں ملک کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ سال کے آخر تک برطانیہ میں ایک اور عالمی مرکز بنانے پر نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہے اور اس کے پاس ایشیا کے مرکز کا منصوبہ ہے۔

تنظیم نے گذشتہ 18 مہینوں میں بڑھاپے کے خلاف، لمبی عمر کے بائیوٹیک اور صحت مند زندگی کے بارے میں تحقیق کے لیے 200 ملین ڈالر کا وعدہ بھی کیا ہے، دو بائیوٹیک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے، دنیا بھر میں 150 سے زائد کمپنیوں کا جائزہ لیا ہے کیونکہ اس کی نظر فنڈنگ کے مواقع پر ہے، دنیا بھر کے سائنسدانوں کی جانب سے 500 سے زیادہ گرانٹ کی درخواستوں کو بتدریج کم کر رہی ہے، صحت مند انسانی زندگی میں جی سی سی کا اولین روڈ میپ شائع کر چکی ہے، اور نومبر میں مملکت کے پہلے گلوبل ہیلتھ اسپین سمٹ کی میزبانی کی تیاری کر رہی ہے۔

اس تنظیم نے اعلیٰ درجے کے اداروں میں متعدد محققین کو مالی امداد فراہم کی ہے جس میں امریکن فیڈریشن فار ایجنگ ریسرچ (اے ایف اے آر) کے ساتھ شراکت داری بھی شامل ہے۔ اے ایف اے آر بائیومیڈیکل ایجنگ ریسرچ کی حمایت کرنے والی ایک معروف غیر منافع بخش تنظیم ہے۔

عمر رسیدگی کی بنیادی وجہ کو نشانہ بنانا

ہیوولیوشن فاؤنڈیشن کی بنیادی سرمایہ کاری کی توجہ ابتدائی مرحلے کی کمپنیوں پر ہے جو عمر رسیدگی کی بنیادی وجوہات کو نشانہ بنانے والے علاج اور ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہیں۔

سعودی میں ہیڈکوارٹر رکھنے والی فاؤنڈیشن ایسے پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجیز میں بھی سرمایہ کاری کرے گی جن کا مقصد منشیات کی نشوونما کی ٹائم لائنز کو کم کرنا یا صحت مند انسانی عمر کو بڑھانے کے تناظر میں علاج تک رسائی کو بڑھانا ہے۔

العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہیوولوشن فاؤنڈیشن کے سی ای او ڈاکٹر محمود خان نے کہا کہ ہیوولوشن فاؤنڈیشن کی "پیدائش" "ایک عالمی صحت کے چیلنج سے نمٹنا ہے جو کرۂ ارض کے ہر فرد پر اثر انداز ہوتا ہے - یعنی ہر کسی کی عمر بڑھنا۔" ڈاکٹر خان نے کہا کہ اوسط عمر میں اضافے کے ساتھ معذوری اور بڑھتی ہوئی بیماریاں بھی شامل ہیں جو عمر رسیدگی سے منسلک ہیں۔

"اور برطانیہ کے این ایچ ایس سے بہتر کوئی بھی نہیں جانتا جو بنیادی طور پر عمر رسیدگی سے متعلق بیماریوں کے بوجھ کے نتیجے میں گر رہا ہے۔ امریکہ میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور جیسا کہ ہم عالمی چیلنج کو دیکھتے ہیں تو چین، جاپان، جنوبی کوریا اور اب ترقی پذیر دنیا بھی عمر رسیدہ آبادی میں جبکہ شرقِ اوسط میں نوجوان آبادی میں ذیابیطس، کینسر کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔"

سعودی شہزادی ڈاکٹر ھیا بنت خالد بن بندر آل سعود، نائب صدر تنظیمی حکمت عملی اور ترقی اور ہیوولوشن فاؤنڈیشن کے سی ای او ڈاکٹر محمود خان نے کہا ہے کہ سعودی تنظیم تمام انسانیت کی مدد کرے گی۔
سعودی شہزادی ڈاکٹر ھیا بنت خالد بن بندر آل سعود، نائب صدر تنظیمی حکمت عملی اور ترقی اور ہیوولوشن فاؤنڈیشن کے سی ای او ڈاکٹر محمود خان نے کہا ہے کہ سعودی تنظیم تمام انسانیت کی مدد کرے گی۔

ڈاکٹر خان نشان دہی کرتے ہیں کہ اوسط عمر 1800 کے وسط سے ڈرامائی طور پر بڑھی ہے۔ تاہم اوسط صحت مند عمر (اچھی صحت میں گزارے گئے سال) میں بمشکل اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ لوگ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں لیکن ان کے اضافی سال عموماً خراب صحت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس بیماری کا بوجھ زیادہ تر عمر رسیدگی سے متعلق اور غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہے۔

مزید برآں دنیا بھر میں بہت سے معاشرے مستقل طور پر خاکستری ہو رہے ہیں اور عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے (ایک ایسا رجحان جسے عمر کی لہر یا چاندی کا سونامی کہا جاتا ہے) یہاں تک کہ شرحِ پیدائش گر رہی ہے۔ عمر رسیدہ معاشروں کو ایک ایسے مستقبل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں بوڑھے افراد کی تعداد کام کرنے کی عمر کی آبادی سے نمایاں طور پر زیادہ ہو گی جو ایک بے مثال معاشی چیلنج پیش کرے گا اور ممکنہ طور پر نسل در نسل تناؤ کو تقویت دے گا۔ یہ پہلے سے ہی کچھ ممالک میں ہے مثلاً جاپان جہاں 30 فیصد آبادی 65 یا اس سے زیادہ عمر کی ہے۔

حتیٰ کہ صحت عامہ کے چیلنجوں سے بھی آگے آبادی کی عمر رسیدگی سے بنیادی اور پورے معاشرے میں تبدیلیوں کا آغاز ہو گا جو آبادی کے تبدیل شدہ ڈھانچے کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے درکار ہے۔

ڈاکٹر خان نے کہا۔ "یہ [عمر رسیدگی پر تحقیق] ضرورت کے لحاظ سے سب سے کم سرمایہ کاری والے شعبوں میں سے ایک ہے۔ تو ہم اس میں توازن پیدا کرنا چاہتے ہیں اور نجی شعبے سمیت تمام متعلقین کو میز پر لانا چاہتے ہیں۔"

"تو یہ ہیوولوشن کی ابتداء اور اس کا مقصد ہے جو صحت مند زندگی کو بڑھانا ہے۔ اور ہر وہ چیز جس میں ہم سرمایہ کاری کرتے اور کام کرتے ہیں کو جمہوری ہونا چاہیے اور ہم واقعی ایسی چیزوں کی تلاش میں ہیں جن کا اثر دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں پر ہو- ان کے مقام، جنس، عمر اور مذہب وغیرہ سے قطع نظر۔"

فاؤنڈیشن - ایک عالمی فنڈ جس کا مقصد عمر بڑھنے کے عمل کو "سست کرنے" کے جدید طریقوں کی تلاش اور ان میں سرمایہ کاری کرنا اور لوگوں کی اچھی صحت والے سالوں کی تعداد کو بڑھانا ہے – نے تعلیمی تحقیق اور بائیوٹیک اسٹارٹ اپس میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے جو عمر رسیدگی کو سست اور عمر سے متعلق بیماریوں کا مقابلہ کرکے طویل عمری کو فروغ دیتے ہیں۔ (فراہم کردہ)
فاؤنڈیشن - ایک عالمی فنڈ جس کا مقصد عمر بڑھنے کے عمل کو "سست کرنے" کے جدید طریقوں کی تلاش اور ان میں سرمایہ کاری کرنا اور لوگوں کی اچھی صحت والے سالوں کی تعداد کو بڑھانا ہے – نے تعلیمی تحقیق اور بائیوٹیک اسٹارٹ اپس میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے جو عمر رسیدگی کو سست اور عمر سے متعلق بیماریوں کا مقابلہ کرکے طویل عمری کو فروغ دیتے ہیں۔ (فراہم کردہ)

لیکن عمر رسیدگی کی مخالفت کیوں؟

سعودی ویژن 2030 - ایک اسٹریٹجک فریم ورک جو سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانے کی کوشش کرتا ہے، کے حوالے سے ڈاکٹر خان نے کہا کہ ہیوولوشن فاؤنڈیشن مملکت کے ترقیاتی خاکے کے اہداف کے ساتھ "مکمل ہم آہنگ" ہے۔ ڈاکٹر خان کو سعودی شاہی خاندان نے 2020 میں عالمی فاؤنڈیشن کی نگرانی کے لیے رکھا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) اور صحت کی نگہداشت 2030 فریم ورک کے مرکز میں ہے۔ یہ منصوبہ صحت کی نگہداشت، تعلیم، مصنوعی ذہانت اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرکے عالمی سطح پر ملک کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔

مزید برآں صحت سے متعلق موجودہ اصلاحات کے لیے اس مقصد کی تین ترجیحات ہیں: صحت کی نگہداشت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا، صحت کے نظام کے معیار اور کارکردگی کو بہتر بنانا، اور صحت کے خطرات کے خلاف روک تھام کو مضبوط بنانا، یہ سب صحت مند عمر رسیدگی ایجنڈے سے متعلق ہیں۔

ڈاکٹر خان نے کہا، "وژن 2030 واضح طور پر دو چیزیں پیش کرتا ہے۔ ایک مقصد ملک میں اوسط عمر کو بڑھانا ہے۔ ہاں، اس کا مقصد دائمی بیماریوں کو روکنا اور آبادی کی صحت کو بہتر بنانا بھی ہے۔ جب آپ وژن 2030 کے ان دو حصوں کو یکجا کرتے ہیں تو آپ کو ہیوولوشن فاؤنڈیشن ملتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "عمر بڑھنے کا نتیجہ شرقِ اوسط کے لیے بہت متعلقہ ہے۔ شرقِ اوسط کے کسی بھی رہائشی سے پوچھیں، اور ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں یا تو ذیابیطس ہے یا وہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جن کا کوئی عزیز ذیابیطس یا دل کی بیماری کا شکار ہے۔"

"اب خطے میں عام پائے جانے والے کینسر میں سے ایک بڑی آنت کا کینسر ہے (جس کا نام) تقریباً دو یا تین عشروں (پہلے) نہیں سنا گیا تھا۔"

تو ان تمام وجوہات کی بناء پر اس کے لیے کافی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ ہمارے شاہی فرمان کی بنیاد پر ہم اپنی ذات کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جو دنیا کے فائدے کے لیے اس اقدام کی قیادت میں مدد کرنے کے لیے ہے۔ لیکن یہ جی سی سی کے شہریوں کے لیے زیادہ متعلقہ ہے اور شاید متناسب بھی۔

تیزی سے توسیع

ٹیم - جس کا آغاز 2019 میں دو افراد پر مشتمل ایک بینڈ کے طور پر ہوا تھا جس میں ڈاکٹر آل سعود اور خان پہلے دو ملازمین تھے - نے تیزی سے سائز میں توسیع کی ہے جس میں اب 60 ملازمین ہیں اور سال کے آخر تک مزید 70 کا منصوبہ بنایا گیا ہے - اور ڈاکٹر خان نے کہا کہ یہ ایک ایسی ٹیم ہے جسے خواتین پر مشتمل اپنی نصف سینئر افرادی قوت پر فخر ہے – جن میں سے اکثر سعودی ہیں۔

ڈاکٹر خان نے کہا کہ ریاست سے باہر اپنے اولین ہیڈکوارٹر کے لیے امریکی مرکز "واضح" انتخاب تھا۔

ہیوولیوشن فاؤنڈیشن دنیا بھر کے سائنس دانوں کو عمر رسیدگی کے موضوع پر تحقیق کے لیے فنڈ فراہم کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)
ہیوولیوشن فاؤنڈیشن دنیا بھر کے سائنس دانوں کو عمر رسیدگی کے موضوع پر تحقیق کے لیے فنڈ فراہم کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)

"ہم نے عمر رسیدگی، سائنسز اور عمر رسیدگی کی حیاتیات پر عمومی لائف سائنسز میں سرگرمی کے عالمی نقشے کو دیکھا کیونکہ ہمارا مقصد صرف بیماریوں کا آخری مرحلے کے طور پر علاج کرنا نہیں ہے - ہم ذیابیطس کی دوسری دوا تیار نہیں کر رہے ہیں - ہم یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ خود عمر رسیدگی کے عمل کو کیسے بدلا جائے۔"

ڈاکٹر خان نے کہا، "ایک بار پھر ہمارا زور (اس پر نہیں) کہ آپ زیادہ دیر تک زندہ رہ سکیں بلکہ اس پر ہے کہ آپ صحت کے ساتھ طویل عرصے تک زندہ رہیں۔"

"اگر آپ کے پاس واقعی ایک لانچنگ پیڈ ہے جہاں آپ اس فیلڈ کو منتقل کر رہے ہیں تو آپ کو وہاں جانا پڑے گا جہاں کارروائی کرنی ہے۔ امریکہ نے یہ واضح کیا۔ اگر ہم بوسٹن کو دیکھیں جو تعلیمی اداروں، سائنس کی سرگرمیوں اور بائیو ٹیکنالوجی کمپنیوں میں وینچر کیپیٹل کے ساتھ ساتھ بگ فارما کا مجموعہ ہے تو کوئی سوال نہیں کہ بوسٹن میں یہ سب کچھ ہے۔

برطانیہ - صحت کی نگہداشت کا "سرخیل" - اگلے سال کھلنے والے تیسرے ہیڈ کوارٹر کے لیے ایک اور یقینی انتخاب تھا حالانکہ اس مرکز کے صحیح جغرافیائی محل وقوع کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

اگلا مرحلہ ایشیا ہے

ڈاکٹر خان نے کہا۔ "ایشیا تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ہم ایک عالمی ادارہ ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سرگرمی کہاں بڑھے گی۔ جاپان اس شعبے میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔"

"جنوبی کوریا، سنگاپور، چین وغیرہ بھی بڑے فریقین ہیں۔ آئیے اس بات پر غور کریں کہ جاپان کی 40 فیصد آبادی پہلے ہی 60 سال پر مشتمل ہے۔ چین کے تقریباً نصف - ایک بچہ کی پالیسی کے ساتھ - کو بڑھاپے کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ سنگاپور کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ دریں اثناء جنوبی کوریا کی زرخیزی کی شرح دنیا میں کم ترین ہے۔ اس لیے شرحِ پیدائش آبادی میں موجودہ اموات کی جگہ بھی نہیں لے سکتی۔ تو آپ کی عمر رسیدہ آبادی بہت کم نوجوانوں کے ساتھ ہوگی۔ یہ سب بڑے چیلنجز ہیں۔’’

ہیوولیوشن فاؤنڈیشن دنیا بھر کے سائنس دانوں کو عمر رسیدگی کے موضوع پر تحقیق کے لیے فنڈ فراہم کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)
ہیوولیوشن فاؤنڈیشن دنیا بھر کے سائنس دانوں کو عمر رسیدگی کے موضوع پر تحقیق کے لیے فنڈ فراہم کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)

ڈاکٹر خان کہتے ہیں کہ صحت مند زندگی کا دورانیہ بڑھانے کے لیے تحقیق کو صرف گرانٹس دینے سے کہیں زیادہ ہیوولوشن فاؤنڈیشن کا خیال ہے کہ دنیا بھر کے شعبوں سے ماہرین کو بلایا جائے جو شاید دوسری صورت میں جمع نہ ہوں۔ اور وہ سوچیں اور ایسی اختراعات کے ساتھ سامنے آئیں جو عمر رسیدگی سے متعلق بے شمار بیماریوں میں مدد کر سکیں – ذیابیطس اور کینسر سے لے کر دل کی بیماری تک۔

"مثلاً ہم بیک وقت سرمایہ کاروں، سائنسدانوں، بگ فارما، ریگولیٹرز، اور پالیسی سازوں کو جمع کرتے ہیں۔ تو ہم کنوینر ہیں۔ ہم ایک عامل ہیں اور یہ بتانے کے لیے متعدد لیور استعمال کر رہے ہیں کہ ہم تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے کس طرح عمل انگیز ہیں۔"

"بہت سے لوگ عمر رسیدگی سے متعلق بیماریوں کے نتائج سے دوچار ہیں۔ اور اس لیے ہم جتنی تیزی سے کام کریں، اتنی ہی تیزی سے ہم ایسے حل لا سکتے ہیں جو پریکٹیشنرز کو، صحت کی نگہداشت فراہم کرنے والوں کو اور بالآخر صارفین اور مریضوں کو دستیاب ہوں۔ یہی ہمارا مشن ہے۔"

اپنے وعدے پر پورا اترنا

ہیوولیوشن فاؤنڈیشن پہلے ہی اس وعدے کو پورا کر رہی ہے۔

ڈاکٹر خان نے کہا، "ہمارے آپریشن کے ابتدائی پہلے سال میں اور اس سال کے آخر تک ہم دنیا بھر میں دو درجن سے زائد تجربہ گاہوں میں پہلے ہی سائنسدانوں کو فنڈ فراہم کر چکے ہوں گے۔ اس سال ہم نے متعدد اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں میں $200 ملین سے زیادہ کی فنڈنگ کا عہد کیا ہے۔ ہم صرف سعودی مملکت میں درجن بھر سائنسدانوں کی مالی معاونت بھی کریں گے۔"

مالی معاونت پہلے ہی لمبی عمر میں تحقیقی شعبوں کی ایک وسیع رینج کے لیے ہیں۔ مثلاً سائنس دان تحقیقات کر رہے ہیں کہ کس طرح لوگوں کی عمر کے ساتھ ساتھ عضلات کے سٹیم سیل اور نیورو مسکلر جنکشن تبدیل ہوتے ہیں۔ محققین بوڑھے افراد میں کمزوری کے آغاز کے پیچھے سیلولر عمل کا بھی مطالعہ کر رہے ہیں۔

چھ سائنس دان یہ کھوج لگا رہے ہیں کہ آر این اے کی تدوین کس طرح اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ہمارے جسم عمر بڑھنے سے متعلق مائٹوکونڈریل مسائل کا جواب دیں۔ دوسرے افراد ایک اعلی تھرو پٹ اپروچ کا استعمال کرتے ہوئے انفرادی خلیوں کے ایپی جینیٹکس میں عمر سے متعلق تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تحقیق یہ سمجھنے پر بھی مرکوز ہے کہ مائٹوکونڈریل جینز سے منسلک مدافعتی نظام آبادی کی عمر رسیدگی کے ساتھ کیسے کام کرتا ہے۔

ڈاکٹر خان نے مزید کہا: "ہم نے دنیا بھر میں 150 سے زائد کمپنیوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ہم نے پہلے ہی ان کمپنیوں کے ساتھ ایک ڈیٹا بیس بنایا ہے جو عالمی سطح پر عمر رسیدہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔ اور ہمیں دنیا بھر کے سائنسدانوں سے درخواستیں اور خطوط موصول ہوئے ہیں۔ 500 سے زیادہ سائنسدانوں نے فنڈ کے ساتھ تعاون کرنے اور اس شعبے میں ہم سے فنڈ حاصل کرنے کے لیے کسی نہ کسی طریقے سے درخواست دی ہے۔"

ڈاکٹر آل سعود نے کہا کہ 2023 میں فاؤنڈیشن کے کام کے لیے ایک اور قدم جی سی سی کا اولین روڈمیپ بنانا ہے کہ خلیج میں صحت مند لمبی عمر اور صحت مند عمررسیدگی کو کیسے فروغ دیا جائے۔ یہ خطہ عمر سے متعلقہ بیماریوں اور مسائل کے بہت زیادہ بوجھ کا شکار ہے۔

اس میں سائنس، پالیسی، وینچر کیپیٹلسٹ، سرمایہ کاری، فارما سے لے کر مختلف شعبوں اور عام عوام میں "بہترین ذہنیت" کو لانا شامل ہے۔

"خطے میں غیر متعدی بیماریوں کی کثرت کو دیکھ کر عمر رسیدگی اور تیز رفتار عمر کے لحاظ سے جو کچھ آج ہم مشاہدہ کرتے ہیں، اسے حل کرنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ اور ہم نے اس پر بات چیت شروع کی کہ ہم اس خلیج کو کیسے پُر کریں اور جی سی سی اور بالخصوص سعودی مملکت میں ان چیلنجوں سے کیسے نمٹیں۔"

سعودی مملکت کی صحت مند زندگی

یہ ہمیں 'سعودی عرب کے لیے صحت مند زندگی کو فعال کرنا' کی رپورٹ تک لے گئی جو سعودی عرب کی موجودہ فائدہ مند آبادیاتی صورتحال کو نمایاں کرتی ہے جس میں بنیادی طور پر کام کی عمر کی آبادی اور کم عمر پر انحصار کا تناسب ہے۔ تاہم افرادی قوت کی عمر اور شرحِ پیدائش میں کمی کے ساتھ یہ فائدہ کم ہو جائے گا۔ رپورٹ میں سعودی عرب کے لیے صحت مند لمبی عمر میں سرمایہ کاری کرنے کے مواقع پر زور دیا گیا ہے۔

متوقع زندگی کے رجحانات، متوقع زندگی اور صحت مند متوقع زندگی کے درمیان فرق، غیر متعدی بیماری کے خطرے کے عوامل، جی سی سی ممالک میں عمر بڑھنے کی منتقلی، اور آبادی کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی اس رپورٹ کے کلیدی موضوعات میں شامل ہیں۔

سعودی عرب نے اوسط عمر میں نمایاں بہتری دیکھی ہے جو 2020 تک 46 سے بڑھ کر 76 سال ہو گئی ہے۔ تاہم صحت مند متوقع زندگی 64 سال کے قریب ہے جو عمر اور صحت مند سالوں کے درمیان 10 سال کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ ہیلتھ اسپین ریسرچ کا مقصد اس خلا کو پُر کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف 3 کا مقصد ہے کہ 2030 تک عالمی سطح پر بڑے این سی ڈیز سے قبل از وقت اموات میں ایک تہائی کمی لائے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 30 سالہ سعودیوں کو این سی ڈیز سے قبل از وقت موت کے 20.9 فیصد امکان کا سامنا ہے جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ سعودی عرب میں ذیابیطس کا پھیلاؤ 18.7 فیصد ہے جبکہ بلڈ پریشر کی شرح 20 فیصد سے زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر ایک عمر رسیدہ ہونے والے معاشرے سے عمر رسیدہ ہوچکے معاشرے کی طرف منتقلی تیز ہو رہی ہے۔ 10 سال کی عبوری مدت کے ساتھ سعودی عرب میں 2042 تک ایک معمر معاشرے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

دمام، سعودی عرب میں خبار شہر میں ایک مرد اور عورت ایک ہسپتال کے قریب سے گذر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
دمام، سعودی عرب میں خبار شہر میں ایک مرد اور عورت ایک ہسپتال کے قریب سے گذر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

عمر سے متعلق این سی ڈیز صحت کی نگہداشت کے نظام اور بجٹ پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ 2015 میں سعودی عرب کے صحت کے اخراجات کا 17.5 فیصد صرف ذیابیطس پر مشتمل ہے۔ این سی ڈیز حاضری اور غیر حاضری کے ذریعے معاشی پیداوار کی صلاحیت پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ جی سی سی میں بڑی این سی ڈیز کی سالانہ لاگت $97.3 بلین ہے جو 2019 میں جی ڈی پی کے 3.4 فیصد کے برابر ہے۔

جیسےجیسے آبادی کی عمر بڑھتی جائے گی، این سی ڈی کا بوجھ اور اخراجات بڑھتے جائیں گے۔

صحت مند زندگی کو فروغ دے کر "طویل عمر کے منافع" کو حاصل کیا جا سکتا ہے جس سے افراد ایک طویل مدت تک معاشرے میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنے کے قابل بن جائیں۔

ڈاکٹر آل سعود نے کہا: "ہم یہاں جو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو ویژن 2030 کا حصہ ہے، وہ یہ ہے کہ ہم عمر رسیدگی اور اس سے متعلقہ بیماریوں کو کیسے کم کر سکتے ہیں جو سعودی آبادی میں بکثرت ہیں۔"

"تاہم بیک وقت ہم عمر بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن غیر متعدی امراض یا عمر رسیدگی سے متعلقہ بیماریوں میں کمی اور عمر میں اضافہ - ان دونوں چیزوں کو ایک ساتھ رکھنا بالآخر صحت مند عمر میں اضافے کا باعث بنے گا۔ سو ہیوولیوشن فاؤنڈیشن میں کام کر کے، مستقبل کے لحاظ سے مملکت میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس میں مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے بیرونی طور پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔"

سعودی مالیاتی عزم

جبکہ ہیوولوشن فاؤنڈیشن کے ابتدائی طور پر بتائے گئے مالی عزم کی بھاری لاگت یعنی 4 بلین ($1.07 بلین) سعودی ریال کے بارے میں بڑے پیمانے پر بات کی گئی ہے – تو ڈاکٹر خان نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیگر ایجنٹوں اور صنعتوں کو میز پر لانے کے لیے تاکہ وہ زیادہ سرمایہ کاری کریں، اپنی فنڈنگ کی سرمایہ کاری کا فائدہ اٹھانا ہے۔

ڈاکٹر خان نے کہا، "سو (اب) ہم بڑے فریقین میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر ہم چند سالوں میں چھوٹے فریقوں میں سے ایک بن جاتے ہیں تو یہ خوشی کی بات ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا، اس سے ظاہر ہو گا کہ ہیوولیوشن فاؤنڈیشن نے عمر رسیدگی کے خلاف اور لمبی عمر کی فنڈنگ کے بارے میں بات پھیلانے میں مدد کی ہے اور لمبی عمر کے بائیوٹیک کے کم فنڈ والے شعبے میں اس ضروری سرمایہ کاری کو بڑھایا گیا ہے۔

گرانٹس کی تقسیم کے بارے میں ڈاکٹر خان نے کہا کہ ایک کلیدی دلچسپی یہ ہے کہ کئی راستے ہیں جو عمر بڑھنے کے عمل کو متأثر اور منظم کرتے ہیں۔

"توانائی کو سنبھالنے کی ہماری صلاحیت، خلیوں میں ملبے سے نجات حاصل کرنے کی صلاحیت، ہمارے ڈی این اے کے کام کی بحالی کی صلاحیت اور اس طرح کی چیزیں۔ ہم ان سب کو دیکھ رہے ہیں۔ ان شعبوں میں کچھ امید افزا شعبے ہیں جن کو ہم فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ وہ عمر بڑھنے کی مناسب پیمائش کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

"حیاتیاتی سطح پر عمر رسیدگی کی پیمائش کے دو حصے ہیں۔ آپ پیدائش کے سال کی بنیاد پر اپنی تاریخی عمر کو دیکھیں۔ یہ ایک چیز ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ لوگوں کی عمریں مختلف شرح سے بڑھتی ہیں۔ بس اپنی ہائی اسکول کی تصاویر پر واپس جائیں اور اپنے ان دوستوں کو دیکھیں جن کے ساتھ آپ نے ہائی اسکول سے گریجویشن کیا ہے۔ اب ان کو دیکھو تو کچھ جوان اور کچھ بوڑھے نظر آتے ہیں۔ تو اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔"

ڈاکٹر خان نے کہا، لیکن جس کے بارے میں کم بات کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہی شخص کے اندر جسم کی عمر یکساں نہیں ہوتی۔

"کچھ لوگوں کے دل کی عمر ان کے دماغ سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ کچھ لوگ - ان کا دماغ تیز ہے لیکن ان کے جسم کی عمر بڑھ گئی ہے۔ اور فطرت کے مطابق ہڈیوں کی عمر مختلف شرح پر بڑھ سکتی ہے۔ اب خواتین کی ہڈیوں کی عمر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سو ہمیں پتا چلا کہ آبادی میں عمر رسیدگی یکساں نہیں ہے۔ حتیٰ کہ یہ ایک ہی شخص میں بھی یکساں نہیں ہے۔"

"تو اگر ہم اس فیلڈ کو آگے بڑھانے جا رہے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کسی کی عمر کی پیمائش کیسے کرتے ہیں۔ اور پھر آپ کیسے طے کرتے ہیں کہ ان کی عمر کتنی تیز ہے۔ آپ کو ایک چیز بتاتا ہوں: میں آپ کی عمر رسیدگی کے عمل کو سست کرنے میں آپ کی مدد کرنے جا رہا ہوں۔ لیکن یہ ایک حل نہیں ہے کیونکہ ہو سکتا ہے یہ آپ کے دل کے لیے اہم ہو، ہو سکتا ہے یہ میرے گردوں کے لیےاہم ہو وغیرہ۔"

"ہم یہ دیکھنے جا رہے ہیں کہ ہم اسے درست کرنے کے لیے سائنسدانوں کے ساتھ کیسے کام کرتے ہیں۔ یہ بہت بنیادی لگتا ہے لیکن جب تک آپ درست طور پر سمجھ نہیں لیتے، آپ مکمل طور پر اس طرح کے کلینیکل ٹرائلز کو شروع نہیں کر سکیں گے جو یہ ظاہر کرنے کے لیے درکار ہیں کہ یہ وہ ہے جس پر دراصل آپ اثرانداز ہو سکتے ہیں۔"

اب ایک رکاوٹ یہ ہے کہ لمبی عمر کے بائیوٹیک کا شعبہ فنڈنگ کی اس سطح کو "جذب نہیں کر سکتا" جو ہیوولوشن فاؤنڈیشن سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے کیونکہ اس وقت صلاحیت موجود نہیں ہے اور اسے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

صلاحیت اور گھریلو ہنر کی تعمیر

ایک حل کے طور پر فاؤنڈیشن نئے سائنسدانوں کو بالخصوص لمبی عمر کے حصول اور بڑھاپے کے خلاف تربیت دینے کے لیے مملکت کے اندر اور باہر متعدد پروگرام بنا رہی ہے۔

"ہم نے متعدد پروگرام بنائے ہیں جو نئے سائنسدانوں کو تربیت دینے اور انہیں عمر رسیدہ سائنس سے متعارف کرانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور ہم مختلف فیلوشپ پروگرام مثلاً پی ایچ ڈی پروگرام بنا رہے ہیں جو پوسٹ ڈاکس کو عمر رسیدگی کا سائنسدان بننے کی تربیت دیں گے۔ ہم نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد گرانٹ پروگرام بھی شروع کیے ہیں۔"

"ہم اس شعبے میں سائنسدانوں کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔"

"ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ دنیا بھر کے مختلف جغرافیائی خطوں میں سے بہترین علم کی منتقلی مملکت میں ہو، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہم سعودی سائنسدانوں کے لیے مناسب تربیت حاصل کریں اور سعودی سائنسدانوں کو اس شعبے کی طرف راغب کریں۔"

"ظاہر ہے ہم ایک ایسی آبادی ہیں جس میں غیر متعدی بیماریوں کی زیادہ تعداد ہے اور جو ہر روز اس چیلنج کا سامنا کرتی ہے۔ اور بڑھاپے کے شعبے کو متعارف کرانا اور اس بات کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ سعودی آبادی درحقیقت اس چیلنج کو حل کرنے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ امید ہے کہ اگلے چند سالوں میں ہمارے پاس نہ صرف ریاض بلکہ پوری مملکت میں عمر رسیدگی کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے متعدد سائنس دان ہوں گے۔"

ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ بعض خصوصیات - جیسے جیرو سائنسدانوں – کی عالمی طلب ہے لیکن اس شعبے میں بہت کم افراد تربیت یافتہ ہیں۔

"ہم اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ تو معاملہ یہ نہیں کہ کیا ہمیں یہ کرنا چاہئے؟ کوئی متبادل نہیں ہے۔ ہمیں تربیتی پروگرام اور صلاحیت کو تیار کرنا ہوگا کیونکہ یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ ہم یہ باہر سے منگواتے ہیں۔

کیونکہ باہر - امریکہ، برطانیہ وغیرہ - کے پاس اپنے لیے ہی کافی نہیں ہے۔ آپ کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملکی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوگا۔"

"ریاض میں اپنا ہیڈکوارٹر بنا کر ہمیں ایک تربیت یافتہ افرادی قوت اور ماحولیاتی نظام کو یہیں مملکت میں رکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ ہمیں علمی شعبے میں لائف سائنسز کے لیے اس علمی ماحولیاتی نظام میں تعاون کرنے کی اجازت دیتا ہے بلکہ اس ابھرتی ہوئی زندگی میں بائیو ٹیکنالوجی، فارما اور لائف سائنسز کے نئے نجی شعبے میں بھی۔

جیسا کہ ڈاکٹر خان نے نشاندہی کی 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ایک ارب سے زیادہ ہیں۔ 2050 تک یہ تعداد بڑھ کر دو ارب تک پہنچ جائے گی۔

"تصور کریں کہ اگر کچھ نہ بدلے؟ تو کیا ہو گا؟ برطانیہ کے این ایچ ایس یا امریکی صحت کے نظام کا کیا ہوگا؟ اگر دوگنی تعداد میں لوگوں کا خیال رکھنا پڑ جائے تو؟

ڈاکٹر السعود نے کہا۔ "میں دیکھ رہا ہوں کہ ہیوولیوشن اپنے مشن میں آگے بڑھ رہا ہے۔ میں عمر اور عمر رسیدگی سے متعلق بیماریوں کے لحاظ سے تعداد میں کمی اور پوری دنیا اور مملکت میں ٹھوس نتائج دیکھ سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بہت مشکل کام ہے۔ لیکن ہماری ٹیم - ہم خود کو ہیوولیوشنریز کہتے ہیں - اس چیلنج سے نمٹنے اور اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے یہاں موجود ہے۔"

"یہ تنظیم درحقیقت تمام تر انسانیت کی مدد کر رہی ہے اور میں واقعی مستقبل کا منتظر ہوں۔ ہم اسے پوری انسانیت تک پہنچا سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں