فرانس: پولیس نے 6 خواتین تارکین کو ریفریجریٹڈ ٹرک میں مرنے سے بچا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بی بی سی اور فرانسیسی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ ریفریجریٹڈ فوڈ ٹرک کے اندر پھنسی چھ خواتین تارکین وطن کو فرانسیسی پولیس نے اس وقت بچا لیا جب ان میں سے ایک خاتون نے ایک رپورٹر کو پریشان کن کال کردی۔ ان خواتین میں سے چار کا تعلق ویت نام اور دو کا عراق سے تھا۔ وہ شمالی فرانس میں کیلے کے ڈبوں سے لدے ٹرک میں گھنٹوں چھپے رہیں، ان کا خیال تھا کہ گاڑی برطانیہ یا آئرلینڈ جا رہی تھی۔

جب انہیں معلوم ہوا کہ ٹرک الٹے راستے پر جا رہا ہے تو وہ سردی اور تنگ و تاریک مقام سے گھبرانے لگیں۔ ان میں سے ایک لندن میں بی بی سی کے رپورٹر سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس رپورٹر نے خواتین کی فرانسیسی پولیس کو الرٹ کرنے میں مدد کی۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر لیٹیٹیا فرانکارٹ نے بتایا کہ ٹرک ڈرائیور درحقیقت اٹلی جا رہا تھا۔ خواتین نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ڈرائیور اس میں ملوث نہیں تھا۔ خواتین نے کہا کہ وہ ٹرک پر یہ سوچ کر چڑھ گئی تھیں کہ اس پر آئریش رجسٹریشن کی پلیٹس ہیں اور اس لیے یہ برطانیہ جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی گھنٹے سڑک پر بغیر رکے رہنے کے بعد ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور ہم نے ایک صحافی کو آگاہ کردیا۔ براڈکاسٹر نے اطلاع دی کہ خاتون ٹیکسٹ میسجز، ٹرک کے جی پی ایس لوکیشن اور مختصر ویڈیوز بھیجنے میں کامیاب رہی جس میں ٹرک کے اندر کی صورتحال دکھائی گئی۔

بی بی سی کے مطابق خواتین کو فرش پر ایک تنگ جگہ پر پھلوں کے ڈبوں سے گھرا ہوا دیکھا گیا۔ ان پر گھبراہٹ تھی اور انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔ ٹرک میں درجہ حرارت صرف 6 سنٹی گریڈ تھا۔ تمام خواتین نے موٹے کوٹ پہن رکھے تھے۔

براڈکاسٹر نے کہا کہ فرانسیسی پولیس نے جلد ہی ان کا سراغ لگایا اور ایک ہائی وے پر ٹرک کو روکنے میں کامیاب ہو گئی۔ ڈرائیور نے اپنے ٹریلر سے آنے والی آواز سن کر پولیس کو بھی بلایا۔

چھ خواتین کو رہائی سے قبل غیر قانونی طور پر فرانس میں رہنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ چاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا گیا تھا۔ باقی دو کو رہنے کی اجازت دی گئی تاکہ وہ پناہ کی درخواست کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں