تازہ اور خشک ادرک میں فرق کیا ہے، کون سا بہتر ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ادرک صدیوں سے عالمی کھانوں اور روایتی ادویات کا ایک لازمی حصہ رہا ہے۔ اسے ذائقے کو بہتر بنانے اور داؤں کی خصوصیات کی بنا پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ادرک کی دو بنیادی اقسام خشک ادرک اور تازہ ادرک ہیں۔ اس کے استعمال، غذائیت اور صحت کے فوائد پر نظر ڈالی جائے تو دونوں قسموں کی الگ الگ خصوصیات ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی شائع کردہ ایک رپورٹ میں ان خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

تازہ ادرک

تازہ ادرک اپنے تیز ذائقے اور قدرے میٹھے ذائقے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اسے اکثر دنیا بھر کے بے شمار پکوانوں میں بنیادی جزو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کھانا پکانے کی تیاری کی بات آتی ہے تو تازہ ادرک کو اکثر مختلف قسم کے اسٹر فرائز، سالن، سوپ اور اچار بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پکوانوں میں ایک مخصوص خوشبو اور ذائقہ فراہم کرتا ہے۔

تازہ ادرک بے مثال ذائقے کے لیے چائے، جوس یا لیمونیڈ کے ذائقے کو بڑھانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

گرم اور مسالہ دار ٹچ شامل کرنے کے لیے اس قسم کے ادرک کو بیکڈ اشیا میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایشیا کے بہت سے ملکوں میں تازہ ادرک کا اچار بھی بنایا جاتا ہے ۔ اسے مصالحہ جات کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ جاپان میں اسے گاری کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے وسابی اور سشی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ بھارت میں اسے ادرک کے اچار کے نام سے جانا جاتا ہے۔

خشک ادرک

ادرک کو خشک حالت میں ’’ سونٹھ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسے اکثر پاؤڈر کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر تازہ ادرک ہے جسے خشک کرکے باریک پاؤڈر میں پیس لیا گیا ہے۔

خشک کرنے کا عمل ادرک کے ذائقے کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیتا ہے اور اسے ایک مرتکز مسالا بنا دیتا ہے۔ خشک ادرک کو بھی کچھ عام پکوانوں کے مصالحے کے مرکب میں ایک اہم جزو کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ ان کھانوں میں کری پاؤڈر اور کدو پائی مصالحہ جیسے کھانے شامل ہیں۔

غذائیت اور صحت کے فوائد

تازہ ادرک کی قدرتی شکل اور جنجرول جیسے فعال مرکبات کی موجودگی سے منسوب صحت کے فوائد کی ایک حد ہوتی ہے۔

تازہ ادرک متلی، اپھارہ اور بدہضمی کو کم کرتے ہوئے ہاضمے کے عمل میں مدد کرتا ہے۔ تازہ ادرک گٹھیا کی علامات کو دور کرتا ہے۔ پٹھوں کے درد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ چونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن سی سے بھرپور ہے اس لیے یہ مدافعتی نظام کو طاقت دیتا ہے۔

اگرچہ خشک کرنے کا عمل کچھ غذائی اجزا کی معمولی کمی کا سبب بن سکتا ہے تاہم خشک ادرک بھی بہت سے فائدہ مند خصوصیات کو برقرار رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ اوسٹیو آرتھرائٹس جیسی سوزش کی مختلف حالتوں سے چھٹکارا دلانے میں معاون ہے۔

خشک ادرک میں مرتکز مرکبات انفیکشن سے لڑنے اور نقصان دہ بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

کچھ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ خشک ادرک خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ یہ متلی کی بیماری کو دور کرنے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں