آم کے درختوں کی دبئی منتقلی کے ساتھ بنگلہ دیشی کسان شرق اوسط کا رُخ کرنے لگے

بنگلہ دیشی کاشتکاروں نے 2019 میں متحدہ عرب امارات اور قطر کو پودے برآمد کرنا شروع کئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈھاکہ سے تقریباً 100 کلومیٹر دور کمیلا میں اپنی نرسری میں طویل تحقیق اور آزمائشوں کے بعد شمس عالم نے چھوٹے آم ، جیک فروٹ اور انجیر کے درخت خلیجی خطے میں لانا شروع کردیے ہیں۔ اس کے درختوں نے حال ہی میں پھل دینا شروع کر دیا ہے۔ اس سے دوسرے بنگلہ دیشی کسانوں کو اس کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب ملی ہے۔

شمس عالم نے 2019 میں قطر کو پھلوں کے پودے برآمد کرنا شروع کیے اور جلد ہی متحدہ عرب امارات اور عمان کو بھی برآمد شروع کردی۔ شمس نے بتایا کہ 2019 سے میں نے تقریباً 15 ہزار پودے امارات، قطر اور عمان کو برآمد کیے ہیں۔ یہ تمام پودے اب اگائے گئے ہیں اور عربوں کو بنگلہ دیشی پھلوں کا ذائقہ پیش کرتے ہیں۔ بنگلہ دیشی پھلوں کے باغات اب قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات میں نظر آتے ہیں۔

شمس نے صحیح وقت پر مارکیٹ میں رسائی حاصل کرلی تھی۔ حالیہ برسوں میں خلیجی ملکوں میں شجرکاری کے پروگرام زور پکڑ رہے ہیں۔ اس سال شمس عالم آم کے درختوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ وہ اپنی گرین ورلڈ نرسری میں پہلے ہی کئی اقسام کے آم تیار کر چکے ہیں۔

شمس نے کہا کہ دبئی نے مجھ سے کچھ بنگلہ دیشی آم کے پودے منگوائے۔ میں نے بنگلہ دیشی آموں کی سات اقسام کے ساتھ 400 آم کے پودے تیار کیے ہیں۔ یہ پودے اب تیار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اکتوبر میں شپمنٹ ہو جائے گی۔

دبئی سفاری پارک کے پرنسپل وائلڈ لائف سپیشلسٹ ڈاکٹر رضا خان نے بھی شمس عالم سے پودے منگوائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان پودوں کو دبئی کے صحرا میں ایک تجرباتی اقدام کے تحت لگایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر صحرا میں چاول اگائے جاسکتے ہیں تو مجھے امید ہے کہ مناسب دیکھ بھال کے ساتھ یہاں آم کی کاشت بھی کی جاسکتی ہے۔

یہاں بنگلہ دیشی کاشتکاروں کے لیے کاروبار کے مواقع ہیں۔ بنگلہ دیش میں نرسریوں میں درختوں کے ایک پودے کو تیار کرنے میں تقریباً 2 ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور وہ انہیں خلیجی بازار میں تقریباً چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق قطر بنگلہ دیشی پھلوں کے پودوں کی برآمد کا سب سے بڑا مقام رہا ہے۔ لیکن اس حوالے سے متحدہ عرب امارات بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں