ایئر لائنز ’’ السعودیہ‘‘ نے اپنی نئی شناخت متعارف کرادی

نیا لوگو 1980 کی دہائی میں شناخت سے متاثر ہوکر بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’’ السعودیہ‘‘ ایئرلائنز نے جدہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنی نئی بصری شناخت کی نقاب کشائی کردی۔ اس کے 1980 کی دہائی کے برانڈ ڈیزائن کو معمولی اپ ڈیٹس کے ساتھ واپس لایا گیا ہے۔ سعودی ایئر لائنز کا نیا لوگو 1980 کی دہائی میں اس کی شناخت سے متاثر ہے۔

سعودیہ گروپ میں مواصلات اور میڈیا کے امور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر عبداللہ الشہرانی نے بتایا کہ سعودی ویژن 2030 نے ہوابازی کے شعبے کو ترقی اور اختراع کی رفتار کو تیز کرنے کی تحریک دی ہے۔ سعودی ایئر لائنز آج اپنے نئے دور کا اعلان کر رہی ہے۔

30 ستمبر کا انتخاب السعودیہ ایئر لائنز کے نئے دور کے آغاز کی تاریخ کے طور پر آتا ہے۔ عفیف سے طائف تک السعودیہ کے ’’ ڈی سی 3‘‘ طیارے میں شاہ عبدالعزیز کی پہلی پرواز کی سالگرہ کے اعزاز میں میں 30 ستمبر کو اختیار کیا گیا۔ اس موقع پر ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے کے فریم ورک کے اندر اقدامات کے ایک پیکیج کے اعلان کیا گیا۔ اس کی شروعات مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ساتھ بطور ورچوئل اسسٹنٹ "السعودیہ" کے نام سے ہوئی۔ یہ خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔ مہمانوں کو چیٹ کے دو طریقوں کے ذریعے اس موثر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تمام ریزرویشن اور پرواز کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کا بتایا گیا۔ ۔ تحریری اور آواز کے علاوہ الیکٹرانک والیٹ سروس بھی متعارف کرائی گئی۔ یہ ٹیکنالوجی سرکاری پبلک سیکٹر کو ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آسانی سے سرکاری ٹکٹ جاری کرنے اور دوبارہ جاری کرنے کے قابل بنائے گی۔

"السعودیہ" نے اپنے تین رنگوں سے اپنی نئی شناخت کا آغاز کرکے سعودی عرب کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کیا۔ سبز جو پرچم کا رنگ، فخر اور عزت کی علامت ہے۔ کھجور کے درخت کا رنگ جو سعودی سخاوت، ثقافت اور مہمان نوازی کی علامت ہے۔ نیلا رنگ جو مملکت کے سمندر اور آسمان کے رنگ کی نمائندگی کرتا ہے۔

اس سے السعودیہ ایئر لائنز مستقبل میں شروع کیے جانے والے معیاری اقدامات کے ذریعے اپنے عزائم کی حد کو بڑھانے کے لیے تحریک حاصل کر رہی ہے۔ ریت کا رنگ قوم کی دولت کی علامت ہے اور یہ صداقت اور مضبوط جڑوں کو بڑھاتا ہے۔

"السعودیہ" ایئر لائنز ثقافت اور قومی شناخت میں اپنی دلچسپی کو اس انداز میں ظاہر کر رہی ہے جو مہمانوں کے پانچ حواس کو لبھا رہا ہے۔

اس کے طیارے میں مینیو کے باضابطہ اعلان کے ذریعے لوگوں کو متاثر کیا گیا۔ اس مینیو میں 40 سے زیادہ پکوان شامل ہیں۔ اس میں سعودی کھانا ہے جس کے ذریعے مہمان مملکت کے مختلف خطوں کے کھانے کے تنوع کے بارے میں جانیں گے۔ روایتی خوشبو والے ٹشوز کو فراہم کیا جائے گا جن کی خوشبو سعودی غیر محسوس ورثے سے متاثر ہورہی ہے۔

"السعودیہ" نے فضائی نیویگیٹرز کے لیے نیا یونیفارم بھی لانچ کیا جسے ایک منفرد سعودی کردار کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مہمان نوازی کا انداز اعلیٰ معیار کی سعودی کافی فراہم کر کے قومی تشخص کی عکاسی کر رہا ہے۔ کھانے میں سعودی ثقافت کی عکاسی کرنے کے لیے ایئر شیف کے کردار کو رکھا گیا ہے۔

سعودیہ گروپ کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر ابراہیم بن عبدالرحمٰن العمر نے بتایا کہ "السعودیہ" ایک نئے دور اور ایک مخصوص مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس نے اپنا آغاز ایک طیارے سے کیا تھا اور اب اس کا بیڑا 140 طیاروں سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ ایئر لائنز مملکت کے تمام حصوں کو جوڑتی ہے اور دنیا بھر کے 4 براعظموں میں 100 سے زیادہ منزلوں تک پہنچتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں