کون سی مرچ نر اور کون سی مادہ ہے؟ ہم مرچوں کے جنس کا تعین کیسے کرسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا کے دور میں ایسا لگتا ہے کہ جعلی خبریں ہر چیز پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ سبزیوں اور پھلوں کی دنیا بھی جعلی اور بے بنیاد خبروں کے چنگل سے نہیں بچتی۔

اس بار غلط معلومات نے سبزمرچ کو موضوع بنا رکھا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ پھلوں پر چھالوں کی تعداد کی بنیاد پر مرچوں کی جنس کا تعین کرنا ممکن ہے۔ تاہم ان دعووں کی کوئی سائنسی توجیح نہیں ہے، کیونکہ مرچ کی کوئی جنس نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیلنے والی اس پوسٹ میں دو ہری مرچیں دکھائی گئیں۔ پہلی میں تین اور دوسری میں چارلکیریں۔ ان صارفین کا کہنا ہے کہ تین ٹکڑوں والا پھل نر ہے جبکہ چار مادہ ہے۔

ان تصاویر میں کہا گیا ہے کہ مادہ پھل بیجوں سے بھرا ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے جبکہ نر پھل کو پکایا جاتا ہے۔

یہ پوسٹس 2013 سے کئی زبانوں میں سوشل میڈیا سائٹس پر یلغار کر چکی ہیں اور ہر سال دوبارہ پھیلتی ہیں۔ تاہم سائنسدانوں کے مطابق ان پوسٹس میں موجود معلومات غلط ہیں۔ مرچ کی کوئی جنس نہیں ہوتی۔

’اے ایف پی‘ ہیلتھ انویسٹی گیشن سروس کی رپورٹ کے مطابق درست سائنسی معلومات یونیورسٹی آف ویسٹرن سڈنی کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ ہیلتھ کے پروفیسر جونگوا شن نے فراہم کی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میٹھی مرچ (کیپسیکم سالانہ) ) میں ایک انفرادی پھول ہے جس میں نر اور مادہ حصے ہوتے ہیں۔ پھل کی خود کوئی جنس نہیں ہوتی۔

پھل میں چند سو بیج ہوتے ہیں جو نئے پودے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کے پھولوں میں نر اور مادہ کے اعضاء بھی ہوتے ہیں۔

پروفیسر شین اس بات پر زور دیتے ہین کہ پھل پر چھالوں کی تعداد اس کی جنس کی نشاندہی نہیں کرتی اور اس کے ذائقے کو کسی بھی طرح متاثر نہیں کرتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں