سات وجوہات جو لاعلمی میں آپ کی بینائی متاثر کر سکتی ہیں!

آنکھوں کے اندر خشکی اور سر درد آنکھوں کے مسائل میں مبتلا ہونے کی کچھ علامات ہوسکتی ہیں: ماہر امراض چشم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بینائی انسانی حواس کا اہم ترین حصہ ہے اور اس کی حفاظت کے لیے ماہرین ضروری احتیاطی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ایک سائنسی تحقیق میں ایسی سات وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے انسانی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔

برطانوی "ڈیلی میل" کے مطابق کچھ لوگ اکثر نظرکی طاقت اور آنکھوں کی حفاظت کو معمولی سمجھتے ہیں۔ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی بینائی متاثر ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک آنکھیں، سر میں درد، اور دھندلا پن آنکھوں کے مسائل کی کچھ علامات ہیں۔ لندن لیزر آئی کلینک کے ڈاکٹر جورن سلوٹ جورگنسن اور مڈل سیکس سینٹرل ہسپتال میں ماہر امراض چشم اور آنکھوں کی سرجن ایولین منسا ان اسباب پر روشنی ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے آپ غیر ارادی طور پر اپنی آنکھوں اور بینائی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

1. متواتر معائنہ کو نظر انداز کرنا

لوگوں کو ہر دو سال بعد آنکھوں کا ٹیسٹ کروانا چاہیے، یا اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر جورگنسن خبردار کیا کہ "آنکھوں کے باقاعدگی سے معائنے کے شیڈول میں ناکامی سے آنکھوں کے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جن کی [بروقت] تشخیص نہیں ہوتی ہے۔ خاص طور پر چونکہ گلوکوما، ذیابیطس ریٹینوپیتھی اور میکولر ڈیجنریشن جیسے حالات اکثر اپنے ابتدائی مراحل میں نمایاں علامات کے بغیر پیدا ہوتے ہیں"۔

ڈاکٹر جورگنسن بتاتے ہیں کہ "آنکھوں کے ٹیسٹ کے ذریعے جلد پتہ لگانا مؤثر علاج اور بینائی کے تحفظ کے لیے اہم ہے"۔

آنکھوں کے معمول کے ٹیسٹ بنیادی نظامی صحت کی حالتوں جیسے ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی علامات کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں۔

2. سکرین کے سامنے طویل وقت

ڈیجیٹل آلات جیسے لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور اسمارٹ فونز کے وسیع پیمانے پر استعمال نے کام اور تفریح دونوں کے لیے اسکرین کے وقت کو بڑھایا ہے۔

ڈاکٹر جورگنسن کہتے ہیں کہ "اس سے آنکھوں میں ڈیجیٹل تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس کی علامات خشک آنکھیں، سر درد، اور دھندلا پن جیسی علامات ہیں"۔ جبکہ ڈاکٹر منسا نے 20-20-2 اصول پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی شخص کو "ہر 20 منٹ میں 20 فٹ دور 20 سیکنڈ تک دیکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ اسکرین کا استعمال کرتے وقت پلک جھپکنا یاد رکھیں۔

3. بالائے بنفشی شعاعوں سے تحفظ کی کمی

مناسب UV [الٹرا وئلٹ ریزز] تحفظ کے ساتھ دھوپ کے چشمے نہ لگانے کے نتیجے میں نقصان دہ UV شعاعیں اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر جوگنسن نے خبردار کیا کہ چشمہ نہ پہننا موتیابند اور عمر سے متعلق میکولر ڈیجنریشن (AMD) جیسے حالات میں حصہ ڈال سکتا ہے۔"آنکھوں کو UV شعاعوں سے بچانا، خاص طور پر دھوپ کی حالت میں، آنکھوں کی طویل مدتی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے"۔

ڈاکٹر منسا کا کہنا ہے کہ بالا بنفشی شعاعوں کو دیکھنا آنکھ کی سطح پر "پٹریجیئم" کہلانے والے مادے کی نشوونما میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔اس سے بچنے کے لیے دھوپ کے چشموں کا استعمال کرنا چاہیے۔ تمام دھوپ کے چشمے بالائے بنفشی شعاعوں کو فلٹر نہیں کرتے۔ اس لیے آپ کو ضروری ہے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان پر CE یا OrUV 400 کا نشان موجود ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ کبھی بھی براہ راست سورج کی طرف نہ دیکھیں کیونکہ اس سے میکولا متاثر ہوسکتا ہے اور اس سے بینائی مستقل طور پر ضائع ہو سکتی ہے۔

4. غذائیت کی کمی

صحت مند، متوازن غذا کھانے سے بینائی کے لیے خطرناک آنکھوں کی بیماریوں جیسے کہ عمر سے متعلق میکولر انحطاط کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو مرکزی بصارت کو متاثر کرتی ہے۔

ڈاکٹر منسا بتاتی ہیں میکولا - ریٹنا کا وہ حصہ جو اس پر کارروائی کرتا ہے جو کوئی شخص اپنے سامنے براہ راست دیکھتا ہے - اس میں قدرتی روغن جیسے lutein اور zeaxanthin ہوتے ہیں جو کہ پالک جیسی سیاہ پتوں والی سبزیوں میں پائے جاتے ہیں۔

"وٹامن A، C اور E بھی فائدہ مند ہیں۔ اس لیے ایک دن میں کم از کم پانچ سرونگ پھل اور سبزیاں کھائیں۔ وہ مشورہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ جن کی فیملی ہسٹری "عمر سے متعلق میکولر ڈیجنریشن" کے حامل ہیں وہ سپلیمنٹس لینے کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں"۔

ڈاکٹر جورگنسن نے مزید کہا کہ "ایک ناقص غذا جس میں ضروری غذائی اجزاء جیسے وٹامن A، C اور E کے ساتھ ساتھ زنک جیسے معدنیات کی کمی ہو آنکھوں کی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، کیونکہ یہ غذائی اجزاء بصارت اور آنکھوں کے مجموعی کام کے لیے بہت ضروری ہیں"۔

5. تمباکو نوشی

تمباکو نوشی ترک کرنے سے عام صحت خصوصاً آنکھوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر منسا نے کہاکہ "تمباکو نوشی کا خاتمہ ایک قابل اصلاح عنصر ہے جو آنکھوں کی کچھ بیماریوں جیسے کہ AMD اور موتیا کے خطرے کو کم کر سکتا ہے"۔

6. طبی چشمہ نہ پہننا

ایک وسیع غلط فہمی ہے کہ چشمہ لگانے سے بینائی خراب ہوتی ہے۔ یہ خیال غلط ہے۔ ڈاکٹر منسا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کے زیر استعمال نسخہ عینک پہننے کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ ایک شخص کو ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ انہیں پہننے میں کوتاہی کرتا ہے تو اسے سر میں درد ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

7. ناکافی روشنی

ڈاکٹر جورگنسن کہتے ہیں "ناکافی روشنی والے علاقوں میں کام کرنا یا پڑھنے سے آنکھیں مشکل کام کر سکتی ہیں۔اس سے آنکھوں میں دباؤ، تکلیف اور بصارت خراب ہو سکتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اچھی روشنی جسے اکثر "ٹاسک لائٹنگ" کہا جاتا ہے لکھنے پڑھنے اور کام کرنے کے لیے آرام دہ حالات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں