ابوظبی: پاکستان، چین اور سعودیہ سے توانائی کی صنعت میں سرمایہ کاری کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں جاری توانائی صعنت کی نمائش میں پاکستان نے چین اور سعودی عرب سے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مذاکرات پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی۔ اس نمائش کا اہتمام صدر متحدہ عرب امارات محمد بن زاید آل نہیان کی رہمنائی میں ابوظبی میں کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر نمایاں حیثیت کے حامل ابوظبی میں جاری ADIPEC توانائی کی صنعت کے ایونٹ کو پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک اہم موقع سمجھتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی وزارت توانائی اور پیٹرولیم کے ایک وفد نے سعودی آرامکو کی ایک ٹیم سے ملاقات کی اور تیل اور گیس کے کنوؤں کی تلاش اور ڈیجیٹلائزیشن میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ توانائی اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاکستان نے اس سال جون میں سرمایہ کاری کی خصوصی سہولت کار کونسل (SIFC) کے نام سے ایک سول ملٹری ہائبرڈ فورم قائم کیا تھا تاکہ فیصلہ سازی کو تیز کیا جا سکے۔ اس حوالے سے کونسل نے ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاری کے لیے توانائی، زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار جیسے پانچ شعبوں کی نشاندہی کی ہے۔

پاکستان اس وقت ادائیگیوں کے عدم توازن کے بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسلام آباد کو اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے اور بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کی ضرورت ہے۔

پاکستانی وزارت نے سٹریٹجک پارٹنرز کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے بیان میں کہا کہ "عبوری وزیر برائے توانائی محمد علی کی قیادت میں وفد نے ارامکو ایشیا کے سربراہ سے ملاقات کی۔ جہاں باہمی تعاون کے شعبوں بشمول تیل اور گیس کے کنوؤں کی ڈیجیٹلائزیشن پر بات چیت ہوئی۔

اس سال جولائی میں دونوں ملکوں نے ایک تاریخی اعلان کیا تھا کہ چار حکومتی حمایت یافتہ تیل اور گیس کمپنیاں 10 بلین ڈالر کے گرین فیلڈ ریفائنری منصوبے کے لیے تیل کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو کے ساتھ مل کر گوادر میں سرمایہ کاری کریں گی۔

اس موقع پر پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ "مشترکہ سرمایہ کاری کی حکمت عملی" کے ذریعے، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ، پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ آرامکو کے ساتھ کام کریں گی۔ یہ منصوبہ ملک کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں سٹریٹجک گوادر پورٹ پر تعمیر کیا جائے گا۔

نمائش APIDEC کے دوران ایک اور ملاقات میں، پاکستانی وزیر برائے پیٹرولیم نے پیر کو چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن کے نائب صدر سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تعاون کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں