ریاض کے روایتی پکوان جو مقامی لوگوں کے لیے ناقابلِ فراموش ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

تیرہ صوبوں میں منقسم سعودی عرب میں ہر صوبے کے روایتی مقامی پکوان ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتے ہیں۔

ہر کھانا علاقے کے ورثے کی نشاندہی کرتا ہے اور مقامی کھانے اجزاء کی دستیابی کے مطابق ہوتے ہیں۔ دارالحکومت ریاض کے اپنے روایتی پکوان ہیں جن پر مقامی لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایک مقامی رہائشی حصہ عبدالعزیز نے کہا، "ریاض کے مقامی پکوان مملکت کے دوسرے خطوں میں بھی بآسانی مل جاتے ہیں لیکن ہمارے مقامی پکوانوں کا ذائقہ ریاض میں مختلف اور بہتر ہوتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ (یہ) بنیادی طور پر اس لیے ہے کہ ہم مقامی طور پر اگنے والی سبزیاں استعمال کر رہے ہیں، وہی سبزیاں جو تب استعمال ہوئیں جب یہ پکوان پہلی بار بنائے گئے تھے۔"

دارالحکومت میں زبردست ذائقے کے حامل مقامی پکوان زیادہ تر چاول، چپٹی روٹیوں، گوشت اور چند مصالحہ جات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ مقبول مطازیز، جریش، قرصان اور متلوتھا ہیں۔

مطازیز ایک ایسا کھابہ ہے جس میں سبزیوں، ٹماٹروں، گوشت اور مصالحہ جات کے سٹو میں پکائے گئے چپٹے پکوڑے ہوتے ہیں۔ پکوڑوں کا آٹا پورے گندم کے آٹے، تیل، نمک اور پانی میں گوندھ کر چپٹے دائروں میں کاٹ لیا جاتا ہے۔

جریش ایک اور پسندیدہ مقامی پکوان ہے۔ اسے گندم کے آٹے، چاول، کٹی اور تلی ہوئی پیاز، سبزیوں اور چکن کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔

قرصان تازہ روٹی کی پتلی تہوں سے بنتا ہے جسے ٹماٹر پر مبنی سبزیوں کی چٹنی میں ڈالا جاتا ہے اور اس پر تازہ پیاز اور دھنیا چھڑکا جاتا ہے۔

متلوتھا تین پکوانوں پر مشتمل ریاض کی ایک مقبول پیشکش ہے جو چاول، جریش اور قرصان کا مرکب ہوتا ہے۔ چونکہ اس کے لیے کافی محنت درکار ہوتی ہے تو اسے عموماً شادیوں اور عید کے خاص موقع پر ہی پیش کیا جاتا ہے۔

میٹھے کے شوقین افراد کے لیے ریاض روایتی ڈیزرٹس اور اسنیکس کا ایک سلسلہ پیش کرتا ہے جن میں حینینی، مراحف اور کلیجہ شامل ہیں۔

حینینی میں کھجور، مکھن اور براؤن بریڈ کے اوپر زعفران اور الائچی جیسے مصالحے چھڑک دیتے ہیں۔ یہ عام طور پر سردیوں میں بنائی اور کھائی جاتی ہے۔

مراحف کو چائے یا کافی کے ساتھ سنیک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ذائقہ اور ساخت میں فرانسیسی کریپز سے ملتا جلتا ہے اور اسے کڑاہی پر مائع آٹے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے پکی ہوئی ہری پیاز، دھنیا، اور چند مصالحہ جات سے بنی نمکین فلنگ یا گھی اور شہد سے بنی میٹھی فلنگ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

کلیجہ آٹے سے بنا ایک مشہور میٹھا کھوکھلا کیک ہے جس میں کھجور، شہد، کھجور کے گڑ، چینی یا گری دار میوے بھرے ہوتے ہیں۔ بھرنے کا انحصار ذاتی ترجیح پر ہے لیکن ریاض میں ہر خاندان کے فریج میں کلیجہ کے ایک یا دو جار پیش کرنے کے لیے تیار رکھے ہوتے ہیں۔

آج ریاض کے بہت سے روایتی پکوان مقامی حتیٰ کہ ان ریستورانوں میں بھی پیش کیے جاتے ہیں جو ظاہری طور پر غیر ملکی کھانوں کے لیے وقف ہیں۔

ایک اور رہائشی فہد المطیری نے کہا، "ریاض میں لاتعداد مغربی ریستوران ہیں جہاں مجھ سمیت مقامی لوگ اکثر آتے ہیں لیکن یہاں ہر تھوڑے عرصے بعد ایک مستند مقامی ڈش کھانے کا رجحان ہے۔"

دارالحکومت کے سب سے مشہور سعودی ریستوران الرومانسیہ، السعودی، نجد ولیج اور سہیل ہیں۔

الرومانسیہ ریستورانوں کا ایک سلسلہ ہے جو تازہ ترین اجزاء کا استعمال کرتے ہوئے مقامی پکوان پیش کرتا ہے۔ قرصان اور جریش کے ساتھ چکن والا متھلوتھا ان کی خاصیت ہے۔

السعودی ایک روایتی ریستوران ہے جو 1994 سے ریاض کا مستند ذائقہ پیش کرتا ہے۔ یہ اپنے انتہائی لذیذ کبسہ کے لیے مشہور ہے۔ یہ چاول کی ایک ڈش ہے جو چکن یا بھیڑ کے بچے گوشت سے بنتی ہے۔

نجد ولیج مقامی کھانے کے لیے ایک اور مقبول جگہ اور یقیناً مشہور ترین ہے۔ ریستوران کبسہ ڈشز کی ایک رینج اور مطازیز کا حقیقی ذائقہ پیش کرتا ہے۔

سہیل پرانے شہر میں واقع ایک شاندار سعودی ریستوران ہے جو جدید طرز کے ساتھ اصلی اور روایتی مقامی کھانے پیش کرتا ہے۔ یہ اپنی مزیدار جریش کے لیے مشہور ہے جس میں کیرامل والی پیاز اور گھی شامل ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں