کافی کی مہنگی ترین ایک قسم کیسے پرندے کی بیٹ سے نکالی جاتی؟

انڈونیشیا میں ایک کافی کی پھلیاں جانور کے فضلے میں سے بھی نکالی جاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برازیل پرندے ’’جیکو‘‘ کے بیٹ سے نکالی گئی پھلیوں سے دنیا کی سب سے مہنگی کافیوں میں سے ایک تیار کرتا ہے۔ یہ پرندہ جنگلات میں رہتا ہے۔ 23 سالہ اینیل کوسٹا نے درخت کے تنوں کے درمیان موجود پرندے کا قیمتی فضلہ جمع کرتے ہوئے بتایا کہ جیکو پرندہ کافی کی پھلیاں پسند کرتا ہے۔ یہ ان پھلیوں میں بہترین اور پکے ہوئے بیجوں کا انتخاب کرتا اور انہیں کھاتا ہے۔

ریاست ایسپریٹو سانٹو (جنوب مشرق) میں ڈومنگو مارٹنز کے دیہی پہاڑی علاقے میں فارم پر کافی کا پودا درختوں کے ساتھ گھنے جنگل میں اگتا ہے۔ فارم کے مالک اینریک سلوپر کہتے ہیں کہ پائیدار زرعی جنگلات کے اس ماڈل کے بغیر یہ کافی پیدا کرنا ناممکن ہو گا۔

اس پروڈکٹ کا ایک کلو گرام برازیل میں تقریباً 229 ڈالر میں فروخت ہوتا ہے اور بیرون ملک برآمد کرنے پر اس سے زیادہ قیمت پر بکتا ہے۔ یہ کافی برٹش ہیروڈز سمیت دنیا بھر کے کئی سٹورز میں تقسیم کی جاتی ہے۔

جیکو کالے پروں اور سرخ رنگ کے گلے والا جنگلی پرندہ ہے۔ یہ کیموسم کے فارم پر پہلے ناپسندیدہ تھا کیونکہ اسے ایک ایسا پرندہ سمجھا جاتا تھا جس سے فصلوں کو خطرہ ہوتا تھا۔ پھر اینریک نے اس پرندے سے فائدہ اٹھانے اور اسے اپنے فارم کا دشمن سمجھنا چھوڑنے کا اس وقت فیصلہ کیا جب اس نے "کوبی لواک" کافی دریافت کی۔ یہ کافی انڈونیشیا میں ایک بلی نما جانور ’’ الزَّبَاد‘‘ کے فضلے سے ملنے والی پھلیوں سے بنتی ہے۔ الزَّبَاد ایک چھوٹا سا ممالیہ ہے جو جنگی بلی اور کوبی کے درمیان کی کوئی شکل لئے ہوئے ہے۔

’’لواک‘‘ کافی اگرچہ بہت زیادہ قیمت پر بھی فروخت ہوتی ہے۔ تاہم اس جانور کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے اس کافی کو تیار کرنے کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ دوسری طرف برازیلی جیکو پرندہ جنگل میں آزادی انجوائے کرتا ہے۔

فارم کے پروڈکشن سپروائزر روجیریو لیمکے نے بتایا کہ پرندہ ’’جیکو‘‘ اپنے قدرتی مسکن میں رہتا ہے۔ اس کا مسکن برازیل میں اٹلانٹیکا جنگل ہے۔ یہ ایک محفوظ علاقہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کافی کی کاشت میں کوئی کیمیائی مصنوعات استعمال نہیں کرتے۔ جیکو کا فضلہ کچھ حد تک اناج کی چادر سے ملتا جلتا ہے۔ یہ خاکستری دانے سیاہ ماس کے اندر ہوتے ہیں۔

جمع کرنے کے بعد فضلہ کو گرین ہاؤس میں خشک کیا جاتا ہے. اس کے بعد اناج کو ٹھنڈے کمرے میں رکھنے سے پہلے احتیاط سے چھانٹ کر چھیل لیا جاتا ہے۔ پرندوں کی بیٹ سے حاصل کی جانے والی کافی فارم کی کل پیداوار کا 2 فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کافی کی کٹائی کے بہترین وقت کا تعین کرنے میں پرندہ ہماری مدد کرتا ہے کیونکہ اس کے کھانے کی بے تابی کا مطلب ہے کہ پھلیاں پک چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں