ہائےغربت! والدین بچوں کی تعلیم اور زندگی میں سے ایک کے انتخاب پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

شام کی سنگین معاشی صورتحال نے غربت کے حامل طلباء کو اس سال اسکول سے محرومی پر مجبور کردیا ہے کیونکہ خاندان اپنے اخراجات میں کمی اور بچوں کو کام پر بھیج کر گھریلو آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق شام کے حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں اسکول موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد ستمبر میں تقریباً 3.7 ملین بچوں کے لیے دوبارہ کھل گئے تاہم کئی بچے سکول نہ آئے۔

غیر حاضر بچوں میں وہ شامل تھے جن کے پاس پیسہ کمانے اور اپنے خاندانوں کی مدد کرنے کے لیے مزدور بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ شامی قوم تباہ کن اور بے مثال معاشی بحران سے دوچار ہے۔

معاشی انحطاط نے کئی غریب گھرانوں کے لیے نصابی کتابیں، یونیفارم اور اسٹیشنری کے اخراجات ناقابلِ برداشت کر دیئے ہیں۔

"گمشدہ نسل" خدشات کا شکار ہے کیونکہ تنازعات، زلزلے اور اخراجات میں کٹوتیوں کی وجہ سے اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے اور فنڈز کم ہیں۔

بچوں کو حقِ تعلیم سے محرومی سے روکنے کی کوشش میں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ استحصالی بچہ مزدوری پر مجبور نہ ہوں، سول سوسائٹی کے گروپوں نے ایسے منصوبے قائم کیے ہیں جو کمزور طلبا کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

مثلاً دمشق میں ایک خیراتی ادارے مارٹ ٹیم نے پرائمری اسکول کے جدوجہد کرنے والے طلباء کی مدد کے لیے ایک مہم " اقلمونا عملونا" کا آغاز کیا ہے جس کا ترجمہ ہے "ہمارے قلم میں امید"۔

بچوں کو حقِ تعلیم سے محرومی سے روکنے کی کوشش میں سول سوسائٹی کے گروپوں نے ایسے منصوبے قائم کیے ہیں جو کمزور طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ (اے ایف پی)
بچوں کو حقِ تعلیم سے محرومی سے روکنے کی کوشش میں سول سوسائٹی کے گروپوں نے ایسے منصوبے قائم کیے ہیں جو کمزور طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ (اے ایف پی)

مارٹ ٹیم کے جنرل مینیجر مروان الریز نے عرب نیوز کو بتایا، "اس بات کی تحقیقات کرنے کے بعد کہ اول تا ششم جماعت تک کے کئی طلباء اسکول کیوں نہیں جا رہے تھے، ہمیں پتا چلا کہ اس میں اسٹیشنری اور تعلیمی سامان کی بڑھتی ہوئی قیمت ایک بڑا عنصر تھی۔"

"والدین نے ہمیں بتایا ہے کہ اسکول بھاری فیسوں اور اخراجات کا تقاضہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں سے کئی اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھا کر گھر کی کمائی میں حصہ ڈالنے کے لیے مزدور مارکیٹ میں لے جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔"

دونیہ ابو الزہاب جو ایک سال سے دمشق کے ایک پرائمری اسکول میں دوسرے درجے کی کلاس کو پڑھا رہی ہیں، نے دیکھا کہ ان کے کئی نوجوان طلباء کے لیے صورتحال کتنی مایوس کن ہو گئی ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کو کچھ بتا بھی نہیں سکتے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں بطور سکول ٹیچر اپنی پہلی نوکری شروع کرنے پر بہت خوش تھی۔ مجھے بہت کم پتا تھا کہ بہت زیادہ ضروری مدد اور تدریسی امداد کی کمی کے پیشِ نظر یہ ایک مہنگا اور اہم چیلنج ثابت ہو گا۔"

کچھ طلباء سیکھنے کے معاملے میں اپنے ساتھیوں سے تین سال پیچھے رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے الزہاب جیسے اساتذہ اکثر مجبور ہو جاتے ہیں کہ خود اپنی معمولی آمدنی کا ایک بڑا حصہ درسی کتابوں سمیت ضروری تدریسی امداد پر خرچ کریں جو سستی نہیں ہوتیں۔ اس وقت ملک کی کرنسی کی قدر ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گئی ہے۔

 شام کی سنگین معاشی صورتحال نے غریب پس منظر کے حامل طلباء کو اس سال سکول سے محروم رہ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ (اے ایف پی)
شام کی سنگین معاشی صورتحال نے غریب پس منظر کے حامل طلباء کو اس سال سکول سے محروم رہ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ (اے ایف پی)

الریز نے کہا کہ ایک پرائمری اسکول کے طالب علم کے لیے تعلیمی سامان کی اوسط قیمت کم از کم 200,000 شامی پاؤنڈز (تقریباً $16) ہے۔ صرف ایک بیگ کی قیمت 100,000 پاؤنڈ ہو سکتی ہے۔ اگر اسکول طلباء کو نصابی کتب فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو والدین کے اضافی 50,000 پاؤنڈ خرچ ہو سکتے ہیں۔

الزہاب جنہوں نے خصوصی تعلیمی ضروریات میں ڈگری حاصل کی ہے، نے کہا کہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات ماہانہ 80,000 پاؤنڈ سے تجاوز کر سکتے ہیں جو ان کی تقریباً نصف تنخواہ کے برابر ہے۔ وہ ٹیچنگ کے امدادی سامان پر 30,000 پاؤنڈ اور ٹیچر پلانر کے لیے بھی 15,000 پاؤنڈ خرچ کرتی ہیں جسے ہر ماہ تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا، "میں اپنی نوکری کیوں نہیں چھوڑوں گی، اس کی واحد وجہ طلباء ہیں۔ اگر میں استعفیٰ دے دوں تو وہ طویل عرصے تک بغیر کسی متبادل کے (تعلیم سے محروم) رہ جائیں گے۔"

تعلیم میں ایسا وفقہ ان کے شاگردوں کے سیکھنے کے نتائج کے لیے تباہ کن ہو گا جو پہلے ہی کئی طرح سے طے شدہ وقت سے پیچھے ہیں۔ ان کی کلاس کے 30 میں سے 20 طلباء پڑھنے یا لکھنے سے قاصر ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ جس کا عنوان "ہر دن کی گنتی" ہے، میں انکشاف ہوا ہے کہ 2022 میں شام میں تقریباً 2.4 ملین بچے اسکول نہیں جاتے تھے اور مزید 1.6 ملین بچے اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار تھے۔

یونیسیف کا اندازہ ہے کہ 2011 میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی نے ملک بھر میں 7000 سکولوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا ہے۔ (اے ایف پی)
یونیسیف کا اندازہ ہے کہ 2011 میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی نے ملک بھر میں 7000 سکولوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا ہے۔ (اے ایف پی)

جب تک ملک میں معاشی بحران پر قابو نہیں پایا جاتا تب تک کئی خاندان بقا کو اسکول کی تعلیم پر ترجیح دیتے رہیں گے۔

بچوں پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم ورلڈ وژن کے وکالت اور مواصلات کے مینیجر حمزہ برہمیح نے عرب نیوز کو بتایا، "شام کے بچوں کو اکثر ایک مخمصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے: آیا زندہ رہنے کے لیے اپنے خاندانوں کی مدد کریں یا اپنی تعلیم جاری رکھیں۔"

الریز نے اسکول کے بچوں کی مدد کی اہمیت کو نمایاں کیا کیونکہ "یہ نسل شام کا مستقبل ہے۔"

 یونیسیف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں شام میں تقریباً 2.4 ملین بچے سکول نہیں جاتے تھے۔ (اے ایف پی)
یونیسیف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں شام میں تقریباً 2.4 ملین بچے سکول نہیں جاتے تھے۔ (اے ایف پی)

حکومت کے کنٹرول سے باہر شام کے کچھ حصوں میں بچوں کے لیے حالات شاید ہی بہتر ہوں۔ فروری میں آنے والے زلزلوں نے بڑے پیمانے پر شمال مغرب میں حزبِ اختلاف کے زیرِ قبضہ علاقوں کو متأثر کیا جہاں تنازعات کی وجہ سے بچوں کے لیے سہولیات پہلے ہی خراب ہو چکی تھیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کی اپریل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شمال مغرب میں کم از کم 450 اسکولوں کو زلزلوں سے "مختلف درجات تک نقصان پہنچا"۔ 12 سال سے زیادہ کی خانہ جنگی کے دوران ہزاروں کو مزید نقصان ہوا یا وہ تباہ ہو چکے ہیں۔

برہمیح نے کہا کہ ورلڈ ویژن کے اس وقت شمال مغربی شام میں چھ تعلیمی منصوبے جاری ہیں جن کی توجہ "اسکولوں کی بحالی، تعلیمی مراکز، اسکولوں کو موسمِ سرما کے لیے تیار رکھنا اور اساتذہ کی تربیت" پر مرکوز ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "ان منصوبوں میں روزی روٹی کی مداخلت (پروگرام) بھی شامل ہے جو کھانے کے پیکجز، حفظانِ صحت کی کٹس، اسکول کے سامان اور بعض صورتوں میں خاندانوں کو نقد واؤچر فراہم کرتا ہے تاکہ بچوں کو کام پر بھیجنے کی ضرورت کو کم کیا جا سکے۔"

پھر بھی کلاس رومز کو بھرنے کا کام ایک مشکل جنگ ہے بالخصوص یہ دیکھتے ہوئے کہ شمال مغربی شام میں 1.7 ملین سے زیادہ بچے انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

برہمیح نے کہا، "خوراک کا بحران اور ورلڈ فوڈ پروگرام میں حالیہ کٹوتیاں نوجوان لڑکوں کو مزدور مارکیٹ کی طرف بڑھنے اور اسکول چھوڑنے پر فعال طور پر مجبور کر رہی ہیں۔ اس سے شامی بچوں کے مستقبل پر تباہ کن اثر ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں