سعودی عرب اور ایران کے درمیان کھیل تصادم نہیں رابطے کا ذریعہ

اپنی ٹیموں کے درمیان پیش آئے واقعہ پر سعودیہ اور ایران نے کیسے قابو پایا، تہران میں سعودی سفیر عبد اللہ العنزی کی سرگرمیوں کی اہمیت رہی ؟ ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کی خصوصی رپورٹ میں جانیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

گزشتہ ستمبر میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ ایران سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سنجیدہ پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہیں دنوں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تعلقات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے فائدے کے لیے ایسا کرتا رہے گا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی اس گفتگو سے معلوم ہوا تھا کہ ریاض اور تہران کے تعلقات درست راستے پر گامزن ہیں۔ تعلقات کا مقصد گزشتہ برسوں میں جمع ہونے والے مسائل کو حل کرنا ہے۔ جس بہترین نقطہ نظر کا انتخاب کیا گیا ہے وہ بات چیت اور سفارت کاری ہے۔ اعتماد سازی کے بعد۔ سب سے پہلے اچھے ارادے اور اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے نمبر پر زمینی اقدامات ایک بنیادی مساوات قائم کرتے ہیں۔ یہ تعلقات اچھے پڑوس اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہونے چاہیں۔

احتیاط سے اقدامات

سعودی ایران مذاکرات کے آغاز کے بعد سے دو سال تک عراق یا سلطنت عمان میں بات چیت رہی اور نتیجے میں مارچ میں چین کی سرپرستی میں دارالحکومت بیجنگ میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس وقت سے سعودی عرب نے محسوس کیا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کے ساتھ معاملہ کر رہا ہے جس کا اپنا وژن اور آزاد پالیسی ہے۔ یہ ملک اسلامی ریپبلکن نظام کو اپنائے ہوئے ہے۔ اس طرح سعودی عرب کے ساتھ ایران کا کئی نکات پر اختلاف ہے۔ خاص طور پر انقلاب، ایرانی انقلابی تحریک اور پاسداران انقلاب کی غیر معمولی اثر و رسوخ کے تصورات کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ اس حوالے سے ریاض نے ہمیشہ ان چیزوں کی نفی کی ہے۔ سیکورٹی کے مسائل رہے۔ ایران کی جانب سے ملیشیاؤں اور دہشت گرد اور بنیاد پرستوں گروہوں کے لیے پناہ گاہوں کی سرپرستی کی گئی ہے۔ یہ ایسی چیزیں تھیں جن سے سعودی عرب اور خلیج کی سلامتی کو خطرہ لاحق رہا ہے۔

یہی وجہ ہے اب یہ پیچیدہ مسائل راتوں رات حل نہیں ہوں گے بلکہ ایک طویل وقت اور ان کے بارے میں شفاف مذاکرات کی ضرورت ہے۔ تاکہ ان خطرات کو بے اثر کیا جا سکے جو نہ صرف سعودی قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خود ایرانی قومی سلامتی پر بھی وسیع منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

ماہرین نے محسوس کیا ہے کہ خلیج عرب اور مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی کو مستحکم کرنے کے حوالے سے سعودی خواہش واضح ہے۔ کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر ایرانی قیادت کا بھی فیصلہ ہے۔ اسی وجہ سے ایران ہمسایہ ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ باہمی تعلقات کو بہتر کرنا چاہتا ہے۔

تاہم یہ معاملہ یقینی طور پر کچھ رکاوٹوں کا سامنا کرے گا۔ خاص طور پر اس صورت میں بھی کہ ایسی انتہا پسند اور فرقہ پرست جماعتیں موجود ہیں جو ریاض اور تہران کے درمیان میل جول نہیں چاہتیں۔ یہ جماعتیں اس وقت ہونے والی بات چیت کی سنجیدگی پر شکوک پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ جماعتیں کسی بھی واقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ دونوں ملکوں میں تعلقات قائم نہیں بلکہ تصادم موجود ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بات چیت یا تعاون موجود نہیں ہے۔

الاتحاد اور سپاہان

سعودی "الاتحاد" کلب اور ایرانی "سپاہان" کلب کے درمیان ہونے والے فٹبال میچ ملتوی ہونے کو کچھ لوگوں نے اس تقریب کو اداسی کا ماحول پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یہ ظاہر کیا گیا کہ گویا سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں اور تباہی کے دہانے پر ہیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب کو تعلقات کے پہلے دن سے ہی معلوم تھا کہ بہت سی مشکلات پیش آئیں گی۔ اور فضا میں کچھ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم مقصد یہ ہا کہ ان حقائق کو حل کریں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارت کاری اور موثر رابطے کے ذریعے ان پر قابو پایا جائے۔ یہ رابطہ دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے درمیان براہ راست ہوا تھا۔

سعودی فٹ بال فیڈریشن نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ وہ سعودی الاتحاد کلب کے ساتھ کھڑی ہے لیکن ساتھ ہی اس نے اس واقعے کو اس کے فطری تناظر میں رکھا۔ فیڈریشن نے اس حوالے سے کسی قسم کی بڑھکتی ہوئی زبان کو اپنانے سے گریز کیا گیا اور ایک پیشہ ورانہ رویہ اپنایا گیا جس کا مقصد مسئلے کو قابل اطلاق قواعد و ضوابط کے مطابق حل کرنا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبداللہیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ میچ کے واقعات کے دوران سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے۔ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ اس معاہدے پر زور دیا کہ وہ کھیل کو سیاسی ہتھیار نہ بننے دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

سعودی سرگرمیاں

اسی وقت ایران میں سعودی سفیر عبداللہ العنزی بھی معمول کے مطابق اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے منگل کے روز ’’ ایکس‘‘ پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ آزادی سٹیڈیم تہران میں الہلال سعودی کلب اور ناساجی مازندران کلب کے درمیان اے ایف سی چیمپئنز لیگ کے فریم ورک میں میچ ہو رہا ہے۔

سفیر العنیزی نے 4 اکتوبر کو آزادی سٹیڈیم سے اپنی تصاویر بھی شائع کیں جہاں انہوں نے الہلال ٹیم اور ناساجی مازندران ٹیم کے درمیان کھیلے گئے میچ میں ایرانی معاون وزیر کھیل، چین اور عراق کے سفیروں کی موجودگی میں شرکت کی۔ اس موقع پر سلطنت عمان کے مشن کے ارکان اور دیگر متعدد عہدیداران بھی موجود تھے۔

سعودی سفارتی سرگرمیاں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب "کھیل" کو ایک ایسا پل بنانے کے لیے پرعزم ہے جو خطے میں امن کی طرف لے جاتا ہے اور دشمنی اور تصادم کی طرف نہیں لے کر جاتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size