حماس کے حملے میں 22 اسرائیلی ہلاک اور 545 سے زائد زخمی

عرب ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک جنگ میں ساتھ دیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے حملے میں 22 افراد ہلاک اور 545 سے زائد زخمی ہو گئے۔

میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی میڈیکل سروس نے مرنے والوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 22 افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید سینکڑوں مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔ القسام بریگیڈ نے 35 اسرائیلی فوجیوں کو پکڑ لیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں میں 545 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔ حماس کی جانب سے جہاں ایک طرف ہزاروں راکٹ غزہ کی پٹی پر فائر کیے گئے وہیں مسلح افراد بھی شہر میں داخل ہو گئے۔

فلسطین میں سرگرم تنظیم حماس کے عسکری ونگ کے مطابق ہفتے کو آپریشن طوفان الاقصی کا آغاز کرتے ہوئے پانچ ہزار سے زائد راکٹ اسرائیل کی جانب داغے گئے، جسے تل ابیب نے جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فوجی غزہ کی پٹی کے ارد گرد کئی مقامات پر فلسطینی عسکریت پسندوں سے لڑائی میں مصروف ہیں۔

حماس کے فوجی کمانڈر محمد الضیف نے حماس میڈیا پر نشر ہونے والی ایک نشریات میں آپریشن الاقصی فلڈ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینیوں سے ہر جگہ لڑنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ یہ زمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی جنگ کا دن ہے، 5 ہزار سے زائد راکٹ (اسرائیل کی جانب) داغ دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے غاصب (اسرائیل) کے تمام جرائم کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کی بلا احتساب اشتعال انگیزی کا وقت ختم ہو گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم آپریشن الا اقصی فلڈ کا اعلان کرتے ہیں اور ہم نے ابتدائی حملے میں 20 منٹ کے اندر 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے۔ٹیلی گرام پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں حماس نے مغربی کنارے میں مزاحمت کرنے والے مجاہدین کے ساتھ ساتھ عرب ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک سے جنگ کا حصہ بننے کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں