سعودی کارٹون آرٹسٹ نے مصر کے مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی

امین ناصر الحبارہ نے "اکتوبر فتح" پینٹنگ کے ذریعے "گولڈن جوبلی" مقابلے میں پوزیشن حاصل کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی کارٹون آرٹسٹ نے مصر میں ہونے والے ایک مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ کارٹون کی زبان اور اس کی نرم طاقت کے ساتھ سعودی کارٹون آرٹسٹ امین ناصر الحبارہ نے مصر میں "گولڈن جوبلی" مقابلے میں " نصر اکتوبر" کے متعلق ایک پینٹنگ تیار کی اور اس پر ایک ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

الحبارہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے اپنی جیت کی تفصیلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مصر میں گولڈن جوبلی مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ مقابلہ اکتوبر 1973 میں فتح کی گولڈن جوبلی منانے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں دنیا بھر سے فنکاروں نے حصہ لیا۔ مقابلے کا موضوع "جیت۔" تھا۔ میں تیسرا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ میں فن مصوری کے ذریعے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تخلیق کار کے لیے انعامات ایندھن ہوتے ہیں۔ ان اعزازات کی بدولت ہی وہ کامیابی کی راہوں کا سفر جاری رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا مصر میں ہونے والے اس مقابلے میں عالمی ججز نے فیصلہ کیا۔

کارٹون دو

کارٹون سازی کا آغاز

الحبارہ جو الاحساء میں سعودی صحافیوں کی ایسوسی ایشن سے وابستہ "کارٹون اویسس" کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کیریکیچر کے فن میں میرا آغاز 2017 میں ہوا۔ اس وقت میں نے مقامی اور بین الاقوامی میگزینوں میں بہت سے کام شائع کرائے۔ مجھے نیدر لینڈز میں کارٹون موومنٹ میں دلچسپی رکھنے والے عالمی پلیٹ فارم کی رکنیت دی گئی۔

کارٹون کے فن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے خیالات اور اپنی کمیونٹی کے خدشات کو نقش نگاری کے ذریعے بیان کرنا پسند کرتا تھا۔ کیونکہ یہ اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو الفاظ سے زیادہ مضبوط ہے اور ایک نرم طاقت ہے جو تقریر کی حدوں سے باہر نکل جاتی ہے۔ کارٹون آرٹسٹ ایک مفکر کا درجہ رکھنے والا فنکار ہوتا ہے۔ وہ پورے مضمون کو ایک سادہ خیال تک محدود کر دیتا ہے جس کی طاقت الفاظ کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہی اچھے کارٹونسٹ کی کامیابی کا راز ہے۔

نقطہ آغاز

الحبارہ نے مزید کہا کہ مجھے بچپن سے ہی ڈرائنگ کا شوق تھا۔ مجھے کارٹون فلموں کو دیکھنے اور کارٹون کرداروں کو ڈرائنگ کرنے کے شوق سے کارٹونوں سے اپنی محبت کا پتہ چلا۔ میں نے کارٹون کرداروں کو ڈرائنگ کرنے کی بنیادی باتیں تیار کیں تو میں نے اپنے اندر یہ صلاحیت پائی۔ کارٹون کے ذریعے لوگوں کے خیالات، احساسات، تشویشات اور خوشیوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔

کارٹون آرٹسٹ ایک طنزیہ تنقید کا آلہ ہے جو معاشرے کی رائے کے اظہار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ سماجی واقعات اور مظاہر کو تفریح کے جذبے کے ساتھ ملا کر بیان کرتا ہے۔ کارٹون ایک ایسا آئینہ ہے جو انسانی حقیقت کو بہت ہی بااثر اور مبالغہ آمیز انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارسطو نے اسے عجیب و غریب فن قرار دیا۔

خاموش کارٹون

انہوں نے کہا کہا میں نے ثانوی مرحلے میں "فری سٹوڈیو" کا ایوارڈ جیتا۔ اس کا اہتمام وزارت تعلیم نے کیا تھا۔ یہ میری زندگی میں نقالی کے فن میں تخلیقی صلاحیتوں اور خاموش زبان میں اظہار خیال کا نقطہ آغاز تھا۔ یہ بات چیت کی ایک عام زبان ہے جو اس سیارے پر رہنے والے ہر شخص کو حروف اور الفاظ کی ضرورت کے بغیر سمجھ میں آتی ہے۔ اس تصویر پر بھروسہ کر کے جو میں چاہتا ہوں معنی دیتا ہے۔ یہ بین الاقوامی مقابلوں کی زبان ہے۔

اس کے لیے آپ کو ایک خاموش خیال تخلیق کرنے کا ہنر درکار ہوتا ہے۔ کارٹون آرٹسٹ تیسری آنکھ سے دیکھتا ہے اور تین کانوں سے سنتا ہے۔ وہ واقعات کو فن میں تبدیل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہی صلاحیت کارٹون آرٹسٹ کو دیگر سے ممتاز کرتی ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی ایوارڈز

الحبارہ نے کہا کہ میں نے بہت سے بین الاقوامی مقابلوں میں سعودی عرب کی نمائندگی کی ہے۔ میں نے بہت سے بین الاقوامی اور مقامی ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان میں سے سب سے آخری یہ ہے کہ میں رومانیہ میں ہونے والے 17ویں بوکووینا بین الاقوامی مقابلے میں دوسرے نمبر پر آیا تھا۔ میں اپنے عاجزانہ کیریئر میں 18 مقامی اور بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کرنے پر خوش ہوں۔

مستقبل کی خواہشات

الحبارہ نے مزید کہا میرے پاس اس وقت ایک سے زیادہ پروجیکٹ ہیں جن پر میں کام کر رہا ہوں۔ ان پروجیکٹس میں اپنے فنی کیریئر کے بارے میں ایک کتاب لکھنا اور اپنے بہترین کاموں کو ایک کتاب میں جمع کر کے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنا بھی شامل ہے۔ بچوں کی دنیا میں داخل ہونا ایک نیا اور بھرپور تجربہ ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ’’کارٹون اویسس‘‘ کے ذریعے میں نمائشوں میں کارٹون کی ثقافت کو پھیلانے کی خواہش رکھتا ہوں۔ 93 ویں سعودی قومی دن کے دوران وی ڈریم اینڈ اچیو کی تنظیم کے ساتھ نمائش میں 57 افراد نے شرکت کی تھی۔ اس میں 18 ملکوں کے فنکار موجود تھے۔

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایک کیریکیچر ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو سعودی فنکاروں کے لیے ایک چھتری بنے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں