سعودی گھڑ سوار خاتون اسمی نے سلواکیہ میں طلائی تمغہ جیت لیا

میں سعودی عرب اور بیرون ملک سب سے بڑی بین الاقوامی اور مقامی ریسوں میں حصہ لینا چاہتی ہوں: اسمی بنت عبد اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی خاتون گھڑ سوار اسمی بنت عبداللہ السیھاتی نے دوسری کوالیفائنگ ریس "ڈینوب کپ اینڈیورینس ریس" میں 80 کلومیٹر کے فاصلے کی ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ یہ مقابلہ سلواکیہ میں دو روز تک جاری رہا۔

اسمی نامی اس گھڑ سوار کا مقصد کوالیفائنگ ریس میں شرکت کرنا ہے تاکہ وہ سعودی عرب میں ہونے والی بین الاقوامی اور مقامی ریسوں میں حصہ لے سکیں اورخود کو 100 کلومیٹر کی دوڑ میں حصہ لینے کے قابل بھی بنا سکیں۔

گزشتہ اگست میں اسمی بنت عبد اللہ نے 40 کلومیٹر ریس میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ خادم حرمین شریفین چیمپیئن شپ میں حصہ لینے کی اپنی خواہش کے مطابق بین الاقوامی برداشت چیمپیئن شپ میں حصہ لیا۔ یہ سعودی عرب میں گھڑ سواری کیلنڈر کے سب سے بڑے برداشت کے مقابلوں میں سے ایک ہے۔

اسمی السیھاتی نے تصدیق کی کہ سعودی ویژن 2030 کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کا خیال میرے لیے گھوڑوں کے برداشت کے کھیل میں داخل ہونے کی پہلی ترغیب تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں