ایتھوپیا: وہ ملک جہاں 3 فیصد طلبہ یونیورسٹی کے داخلے کا امتحان پاس کر پاتے

داخلے کے امتحانات میں شریک 8 لاکھ 45 ہزار 188 میں سے صرف 27 ہزار طلبہ نے درکار اوسط حاصل کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایتھوپیا کے ثانوی سکولوں کے صرف 3 فیصد طلبہ ہی یونیورسٹی کے داخلے کے امتحانات میں کامیابی حاصل کر سکے ہیں۔ ایتھوپیا کے وزیر تعلیم نے نتائج کا اعلان کیا۔ یہ نتائج گزشتہ برس کے ریکارڈ سے ملتے جلتے تھے۔

ایتھوپیا کی قومی خبر رساں ایجنسی نے وزیر برہانو نیگا کے حوالے سے بتایا کہ انٹری امتحانات میں حصہ لینے والے 8 لاکھ 45 ہزار 188 میں سے صرف 27 ہزار طلبہ نے درکار اوسط حاصل کی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امتحان پاس کرنے والوں کی تعداد 3.2 فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ شرح گزشتہ تعلیمی سال کے مقابلے میں 0.01 فیصد کم تھی۔ امتحان میں حصہ لینے والے سکولوں میں سے نصف سکولوں کا کوئی بھی طالبعلم یونیورسٹی میں داخلے کا اہل نہیں ہوسکا۔

ادیس ابابا یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشنل اینڈ بی ہیورل سائنسز کے پروفیسر میسرت اسیفا نے وضاحت کی کہ اس کم نتائج کی بنیادی وجہ تعلیمی ذرائع کی کمی اور سیکھنے اور سکھانے کے کمزور طریقے ہیں۔

انہوں نے امتحانوں میں دھوکہ دہی کو کم کرنے کی حالیہ کوششوں کی تعریف کی لیکن کہا کہ اصل تدریس اور سیکھنے کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی کا فقدان ہے جو طلباء کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ ’’یونیسیف‘‘ نے رپورٹ کیا کہ ایتھوپیا نے حالیہ برسوں میں عالمگیر پرائمری تعلیم کی طرف زبردست پیش رفت کی ہے۔ ملک کے 88.7 فیصد بچوں نے تعلیمی سال 2021-22 کے دوران پرائمری سکولوں میں داخلہ لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں