سعودی عرب: گلف الیکٹرسٹی مارکیٹ کو عراق سے جوڑنے والے پلیٹ فارم کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے دمام شہر میں گلف الیکٹرسٹی انٹر کنکشن اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹرز گلف الیکٹرسٹی مارکیٹ کو عراق کے ساتھ جوڑنے کے پلیٹ فارم کا افتتاح کردیا۔

سعودی مشرقی صوبے کے گورنر نے کہا ’’جی سی سی‘‘ ملکوں کے درمیان برقی روابط کے منصوبے کا مقصد توانائی کے تحفظ کو برقرار رکھنا اور خلیج کے لوگوں کے فائدے کے لیے ’’جی سی سی‘‘ ملکوں کے درمیان انضمام کو بڑھانا ہے۔

شہزادہ سعود نے کہا کہ دنیا بھر میں ملکوں کی سطح پر توانائی کا تحفظ بہت اہمیت حاصل کر رہی ہے کیونکہ یہ زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ توانائی کی پیداوار اب صرف روایتی طریقوں اور ذرائع تک محدود نہیں رہی ہے۔ یہاں جوہری اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع بھی آگئے ہیں۔

شہزادہ سعود نے اس حوالے سے گلف الیکٹرسٹی انٹر کنکشن اتھارٹی کے انچارجوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا ایسے منصوبے توانائی کے تحفظ کی ساکھ کو بڑھانے میں معاون ہیں۔ ان کی کوششیں خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے نیٹ ورکس میں مسلسل موجودگی کے ذریعے توانائی کی سلامتی کی ایک مثال ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پلیٹ فارم کا افتتاح عراق کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کا بھی ایک ثبوت ہے۔

گلف انٹر کنکشن اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ڈپٹی چیئرمین یعقوب الکیومی نے تقریب کے دوران کہاکہ آج ہم ایک نئے منصوبے کے آغاز کے ساتھ ایسا تاریخی اقدام کر رہے ہیں جو اتھارٹی کے مقاصد میں سے ایک کو حاصل کر رہا اور خلیجی بجلی کی منڈی کو عراق کے ساتھ جوڑنے کے منصوبے کے لیے پلیٹ فارم کا آغاز کر رہا ہے۔

الکیومی نے کہا کہ توانائی کے تبادلے اور تجارتی پلیٹ فارم پراجیکٹ کو الیکٹرسٹی مارکیٹ کے انتظام کے لیے ایک درست نظام سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ پلیٹ فارم خلیجی الیکٹریکل انٹر کنکشن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کارکردگی کی سطح کو بڑھانے میں مدد دے گا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اتھارٹی موسم گرما کے دوران عراق کے ساتھ تقریباً 2 ٹیرا واٹ یونٹس کی تجارت کی توقع رکھتی ہے۔ یہ بھی توقع ہے کہ جمہوریہ عراق کے ساتھ تجارت سردیوں کے عرصے تک نصف یعنی ایک ٹیرا واٹ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے ساتھ توانائی کی تجارت سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی کمی کی صورت میں اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں