کیا ترکیہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے ترکیہ کے ہاتھ میں واحد کارڈ حماس سے قربت ہے: تجزیہ کار موسیٰ اوزوگورلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روز قبل شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے ملک کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ۔کیا ترک صدر واقعی اسرائیل اور فلسطینی فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ انہوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ کیا؟

اس حوالے سے ترکیہ کے سیاسی تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہر موسیٰ اوزوگورلو نے کہا ہے کہ تل ابیب اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار تجویز کرنے کے لیے ترکیہ کے ہاتھ میں واحد کارڈ فلسطینی تنظیموں خاص طور پر حماس کے ساتھ قربت ہے۔ ترک صدر پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے حماس کے لیڈروں کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دئیے رکھی تھی۔ تاہم اسرائیل ترکیہ کو ممکنہ ثالثی کے لیے زیادہ گنجائش نہیں دینا چاہتا۔

انہوں نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ تل ابیب بعد میں حماس تحریک کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات سے فائدہ اٹھانا چاہے گا۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ اور اسرائیل حماس کو روکنے کے لیے ترکیہ سے مدد کی درخواست کر سکتے ہیں ناکہ اس کی ثالثی کی۔

موسیٰ اوزوگورلو نے کہا تل ابیب اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کا سب سے زیادہ امکان مصر کے حوالے سے ہے۔ مصر دونوں فریقوں کے درمیان بحران کی لکیر پر پہلے سے موجود ہے ۔ مصر کی غزہ کے ساتھ زمینی سرحد بھی ہے۔ اس وجہ سے نازک وقت میں ترکیہ کے بجائے قاہرہ دونوں فریقوں کے درمیان سب سے موزوں ثالث ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بات جاری رکھی اور کہا کہ تل ابیب اور حماس کے درمیان ثالثی کی تجویز دینے کے لیے ترکی کے کارڈ ابھی تک سود مند نہیں ہیں۔ خاص طور پر چونکہ دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ جنگ ایک بین الاقوامی بحران ہے اور خطے میں ترکیہ کی اہمیت کے باوجود فریقین میں ثالثی کے لیے ترجیح مصر کی ہو گی۔

ترکیہ کے ایک ماہر تعلیم اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر حسین باگچی نے سیاسی تجزیہ کار اوزوگورلو سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کے پاس ابھی تک ایسے اہم کارڈ نہیں ہیں جو اسے تل ابیب اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کے قابل بنادیں۔

پروفیسر حسین باگچی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ترکیہ دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کا امیدوار ہے لیکن تنازع کے دونوں فریقوں نے ترک صدر ایردوان کی دعوت کو قبول نہیں کیا ہے۔ ایردوان ثالث بننے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اب تک جو چیز اس میں رکاوٹ بن رہی ہے وہ ترکی کے دونوں فریقوں کے ساتھ یکساں تعلقات کے حوالے سے اعتماد کا فقدان ہے۔

ایردوان نے پیر کے روز انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی اپنے ملک کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں