حالیہ جنگ میں اسرائیل کو ابتدائی نقصان کا تخمینہ 6.8 بلین ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے اسرائیل پر حیران کن حملے کے بعد جنگ پانچویں روز جاری رہی۔ اس لڑائی کے دوران اسرائیل کو معاشی بحران پر بھی بڑا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ معاشی محاذ پر ایک تباہی منڈلا رہی ہے، ہمیشہ کی طرح غزہ کے ساتھ جنگ معمول کے مطابق معاشی نقصان کا باعث بنے گی۔ اسرائیل کی سیاحت کے شعبہ کی کارکردگی معطل ہو کر رہ جائے گی۔ جنوب میں اقتصادی سرگرمیاں مفلوج ہو جائیں گی۔ دفاعی اخراجات بڑھیں گے۔ ریزرو فوجی خصوصی ڈیوٹی کے لیے اپنی ملازمتوں سے غائب رہیں گے۔ اسرائیلی اخبار ’’ ہارٹز‘‘ نے ایک رپورٹ میں جنگ کے باعث اسرائیل کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔

سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات کو محدود کرنے کے لیے اسرائیل میں ایک نئے قانون کی منظوری کے نتیجے میں تنازعات کے باعث اسرائیل کی معیشت 7 اکتوبر کی جنگ کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسرائیل موڈیز اور سٹینڈرڈ اینڈ پوور جیسی ایجنسیوں سے اپنی کریڈٹ ریٹنگ کے اجراء کا انتظار کر رہا تھا۔

گزشتہ جولائی میںموڈیز نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات کو محدود کرنے والے نئے قانون کی منظوری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی تناؤ جاری رہے گا اور ممکنہ طور پر اس کے اسرائیل میں اقتصادی اور سلامتی کے حالات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس سیاسی تناؤ کے دوران ہی اسرائیل کی معیشت غزہ کے اچانک حملے سے حیران رہ گئی ہے۔

اسرائیل کے سب سے بڑے بینک ہاپولیم بینک کے مارکیٹ سٹریٹجسٹ مودی شیفرر نے موجودہ بجٹ میں جنگ کے باعث نقصانات کا تخمینہ جی ڈی پی کے لگ بھگ 1.5 فیصد کی شرح سے لگایا ہے۔ یہ نقصان 6.8 بلین ڈالر بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے اسرائیل کی شرح نمو اس سال 1.5 فیصد رہے گی۔ اسرائیل کی کی معیشت کو یہ متوقع نقصان 1973 کی جنگ کے بعد سب سے زیادہ ہوگا۔

یہ نقصان جولائی 2014 میں غزہ پر اسرائیلی آپریشن ’’ پروٹیکٹو ایج‘‘ سے ہونے والے نقصان سے بھی زیادہ ہے۔ اس وقت 3.5 بلین شیکل نقصان کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ یہ جی ڈی پی کا تقریا 0.3 فیصد تھا۔

حالیہ جھڑپیں معیشت کے زخموں کو مزید گہرا کر دیں گی۔ اسرائیلی معیشت کی سرگرمیاں 2023 میں سست ہونے کی توقع تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں