18 سال بندش کے بعد مصر میں رومن اور یونانی نوادرات کا سب سے بڑا میوزیم کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قاہرہ – مایسہ السروی

مصر میں اسکندریہ میں 18 برس تک بندش رہنے کے بعد گریکو رومن میوزیم کھول دیا گیا۔ میوزیم میں ایک بڑی تاریخی لائبریری شامل ہے جس میں تقریباً 25 ہزار نایاب کتابیں، نوادرات کو محفوظ کرنے اور بحال کرنے کے مراکز، کرنسی کی تحقیق اور بڑی تعداد میں نوادرات ہیں۔ ان نوادرات میں سے بیشتر کا تعلق بطلیما اور رومی عہد سے ہے۔

مصر میں نوادرات کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ یہ میوزیم اپنی بندش کے 18 سال بعد دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ اس میں موجود نوادرات کو گوداموں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ عجائب گھر بحیرہ روم کے طاس میں صرف ایک ہے جو یونانی نوادرات کی نمائش میں مہارت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میوزیم کا افتتاح 2005 میں شروع ہونے والے بحالی اور ترقیاتی کام کی تکمیل کے بعد اس وقت ہوا جب ڈاکٹر ضحی حواث نے قدیم نوادرات کی سپریم کونسل کی صدارت سنبھالی تھی۔ اس حوالے سے انجینئرنگ کے کچھ مسائل تھے۔ عمارت میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ میوزیم کی عمارت کا رقبہ بھی اسکندریہ اور اس کے مضافات اور ڈیلٹا کے علاقے میں کھدائی کے دوران دریافت ہونے والی نوادرات کی بڑی مقدار کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔

ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری نے مزید کہا کہ کچھ نمونے ایسے تھے جنہیں نمائشی ہالوں میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ اس لیے کہ ٹکڑوں کی اونچائی ہالوں کی چھت کی اونچائی سے زیادہ تھی۔ اس لیے سپریم کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر ضحی حواث نے میوزیم کی عمارت کی تزئین اور آرائش کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ میوزیم 2005 سے بند تھا۔

وزیری نے انکشاف کیا کہ بحالی کی کارروائیوں نے اپنی رفتار کو سنجیدگی سے بڑھایا اور 2018 میں خالص مصری فنڈنگ کے ساتھ اس کی بحالی کا کام تیز کیا گیا۔ ایک جامع ترقی کے بعد اسے ایک اہم ترین بین الاقوامی عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نوادرات کی کونسل کے سکریٹری نے کہا کہ میوزیم پہلی بار نئے نوادرات کی نمائش بھی کرے گا ۔ ان نئی اشیا میں میوزیم کے باغ کی زمین کے نیچے سے ملنے والے ٹکڑوں کے ساتھ ساتھ دھنسے ہوئے نوادرات بھی شامل ہیں جو ایسٹرن پورٹ ایریا اور اسکندریہ میں ابو قیر بے کے علاقے میں کھدائی کرکے نکالے گئے تھے۔۔

خیال رہے میوزیم کے قیام کا خیال 1891 میں شروع ہوا اور اسے 1895 میں الخدیوی عباس حلمی دوم کے دور میں کھولا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں