اردن: اسرائیل کی حمایت کرنے والے معروف ریسٹورنٹس کی بائیکاٹ مہم شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن میں شہریوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی حمایت کرنے والے تمام ریسٹورنٹس کی بائیکاٹ کی مہم شروع کردی۔ اس مہم میں غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی حمایت کرنے والے تمام ریسٹورنٹس سے خریداری روک دینے کا کہا گیا ہے۔ اس شاندار اقدام کو بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب ایک مشہور بین الاقوامی ریسٹورنٹ کی ایک شاخ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کو کھانا تقسیم کرنے کی تصویریں شائع کیں اور اپنے اس اقدام کو اسرائیلی فوجیوں کی مدد میں پہل کرنے کا عنوان دیا۔

سوشل میڈیا پر کچھ دنوں سے بہت سے پوسٹوں میں ایسے ریسٹورنٹس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان پوسٹوں میں بیک وقت سیاسی اور صحت سے متعلق تبصرے بھی شامل کئے گئے ہیں۔

کچھ صارفین نے بھرپور طنز کرنے ہوئے کہا فاسٹ فوڈ غیر صحت بخش اور نقصان دہ ہے۔ اگر آپ سیاسی وجوہات کی بنا پر اس کا بائیکاٹ نہیں کرتے تو صحت کی وجوہات کی بنا پر ہی اس سے پرہیز کرلیں۔

اردنی وکیل ڈاکٹر مھند ابو طربوش نے اسرائیلی فوجیوں کی حمایت کرنے والے تمام ریستورانوں اور کیفوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بائیکاٹ کا کھلم کھلا اعلان کیا۔

ابو طربوش نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے پاس جنگ میں مرد موجود ہیں اور ان کی ثابت قدمی کی حمایت کی جانی چاہیے۔ غزہ کے لوگوں کو کم از کم ہر اس شخص کی حمایت روک دینی چاہیے جو اسرائیلی فوجیوں کی حمایت کرتا ہے۔

اردن میں "نیشنل کمپین فار سٹوڈنٹ رائٹس" کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فخر دعاس نے کہا کہ بائیکاٹ کسی بھی مسئلے کی طرف معاشرے کی قیادت میں پرامن جدوجہد کی بہترین اور مضبوط ترین صورتوں میں سے ایک ہوتا ہے۔

دعاس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے مزید کہا کہ "اسرائیلی فوجیوں کی مدد کرنے والی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو اخلاقی ہے۔ اس بائیکاٹ کی وجہ سے اردنی شہریوں کو غزہ میں جاری جارحیت کے خلاف کچھ نہ کچھ کرنے کی تسلی ملے گی۔

دوسرا یہ بائیکاٹ کی جانے والی پارٹی کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو غزہ کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2007 میں بائیکاٹ وسیع پیمانے پر پھیلنے میں کامیاب ہوا تھا جب اس وقت بائیکاٹ کی مہم تاریخ میں پہلی بار ایک امریکی ریسٹورنٹ چین کے لیے ممکن ہوئی تھی۔ بائیکاٹ کے نتیجے میں اردن میں ایک شاخ کو بند کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سنجیدگی ہو تو یہ بائیکاٹ تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بائیکاٹ میں پیغام دینے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں