اسرائیل کا حماس کے دو کمانڈروں کو فنا کے گھاٹ اتارنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ حماس کے ایک فوجی کمان دار فضائی حملے میں جان گنوا بیٹھے ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ کمانڈو فورسز کے ایک یونٹ کی قیادت کر رہے تھے جس نے جنوبی اسرائیل پر گذشتہ ہفتے کے حملے میں شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے 'طیارے نے حماس کے 'نخبہ' (ایلیٹ) کمانڈو فورس کے کمپنی کمانڈر علی قادی کو ہلاک کر دیا۔"

حماس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ فلسطینی گروپ کے پاس اسرائیلی دعوے کے بارے میں "کوئی تبصرہ نہیں" ہے۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ 37 سالہ قادی حماس کی ایلیٹ فورس میں یونٹ کمانڈر تھا۔

فلسطینی عہدیدار اور اسرائیلی فوج دونوں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قادی ان 1000 سے زائد فلسطینی قیدیوں میں سے ایک تھے جنہیں اسرائیل نے 2011 میں ایک فوجی گیلاد شالیت کے بدلے رہا کیا تھا جسے 2006 میں حماس نے گرفتار کیا تھا۔

قادی کو اسرائیل نے 2005 میں ایک اسرائیلی شخص کے اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا جسے اس وقت کی میڈیا رپورٹس کے مطابق شن بیٹ کی داخلی سلامتی ایجنسی کے بروکر کے طور پر شناخت کی گئی تھی۔

اس سے قبل ہفتے کے روز فوج نے کہا تھا کہ حماس کا ایک سینئر فوجی کمانڈر جو غزہ شہر میں گروپ کی فضائی کارروائیوں کی سربراہی کر رہا تھا، اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں