بوڑھی اسرائیلی خاتون کی پیزا کے ساتھ تصویر لگانے پر فلسطینی ریسٹورنٹ منہدم کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک چھوٹے سے فلسطینی ریسٹورنٹ نے پیزا کی پیشکش کے لیے ایک تشہیری اشتہار شائع کیا۔ اس اشتہار کی پوسٹ کو چند گھنٹے ہی گزرے تھے ریسٹورنٹ اور اس کے مالک پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے کے قصبے حوارا میں واقع ریسٹورنٹ کو اس وقت بند کر دیا جب اس نے انٹرنیٹ پر ایک اشتہار شائع کیا۔ اس اشتہار میں اس بزرگ اسرائیلی خاتون کی تصویر شامل کی گئی تھی جسے ہفتہ کے روز غزہ میں حماس کے ارکان نے حراست میں لیا تھا۔

متعدد مشتعل آباد کار سٹور کے ارد گرد جمع ہوئے اور اس کے انہدام کا مطالبہ کردیا۔ یہودی انتہا پسندوں نے ریسورنٹ کے داخلی دروازے کو بلڈوز کر دیا۔ اسرائیلی فوج کا بلڈوزر جائے وقوعہ پر پہنچا اور دکان کے اگلے حصے کو منہدم کر دیا۔

دریں اثنا سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر یہودا فوچس نے سٹور کو پانچ ماہ کے لیے بند کرنے کے فوجی حکم نامے پر دستخط کر دئیے۔ کمانڈر نے کہا کہ ریسٹورنٹ کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے اکسانے اور حمایت کرنے کی بنا پر گرایا گیا ہے۔

ریسٹورنٹ کے مالک کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری جانب سٹور نے بعد میں اپنے فیس بک پیج پر معافی نامہ پوسٹ کیا۔ اس میں تصدیق کی گئی کہ کسی اور فریق نے سٹور کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کی اطلاع کے بغیر اشتہار شائع کیا تھا۔

ریسورنٹ مالک نے زور دیا کہ وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے کی مخالفت کرتا ہے اور صرف عزت سے روزی کمانے اور سب کے ساتھ امن سے رہنا چاہتا ہے۔

یاد رہے اس بوڑھی عورت کی تصویر گزشتہ ہفتے کے روز اس وقت پھیل گئی تھی جب اسے حماس کے ارکان نے گرفتار کیا تھا۔ یہ خاتون غزہ کے اندر ایک علاقے میں مشین گن پکڑے دکھائی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں