’حماس کی مدد‘ کرنے پر اسرائیل کا الجزیرہ بیورو بند کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل کے وزیر مواصلات کا کہنا ہے کہ وہ الجزیرہ کے مقامی بیورو کو ممکنہ طور پر بند کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں اور انہوں نے قطری نیوز سٹیشن پر حماس کی حمایت میں اُکسانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر مواصلات شلوما کرہی نے کہا کہ ’الجزیرہ کو بند کرنے کی تجویز کو اسرائیل کے سکیورٹی حکام اور قانونی ماہرین نے جانچا ہے۔‘

الجزیرہ اور دوحہ میں قطر کی حکومت نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

شلوما کرہی نے اسرائیل کے ’آرمی ریڈیو‘ کو بتایا کہ ’یہ ایک ایسا سٹیشن ہے جو اُکساتا ہے، یہ ایک ایسا سٹیشن ہے جو (غزہ سے باہر) اسمبلی کے علاقوں میں فوجیوں کی عکسبندی کرتا ہے اور جو اسرائیل کے شہریوں کے خلاف اُکساتا ہے۔ پراپیگنڈہ کرنے والا آلہ۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے ترجمان کا پیغام اس سٹیشن کے ذریعے نشر ہونا غیرمنطقی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ہم آج سے ختم کر دیں گے۔‘

دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ بی بی سی عربی کے صحافیوں کی ایک ٹیم جو اسرائیل پر حماس کے حملے اور اس کے بعد کشیدگی کی کوریج کر رہی تھی، کو پولیس نے ’گن پوائنٹ پر‘ تل ایب میں روک کر حراست میں لے لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size