جنگ کے باوجود اسرائیل کے کچھ ارب پتیوں کی دولت میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سات اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوگئی جس کے باعث تل ابیب کی سٹاک مارکیٹ بھی نیچے آگئی۔ بڑی مقدار میں سرمایہ کاری ڈوب گئی۔ تاہم بلومبرگ اور فوربز کی جانب سے پیش کی گئی اسرائیل کے ارب پتیوں کی فہرست کو دیکھیں تو گزشتہ آٹھ روز کے دوران بعض ارب پتیوں کی دولت میں اضافہ ہوگیا۔

بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق اسرائیل کے تین امیر ترین ارب پتیوں کی دولت موجودہ تنازعات کے نتائج سے بچ گئی ہے۔ اسرائیل کی معیشت کو ہونے والے نقصانات اور اس کی سٹاک مارکیٹ اور شیکل میں گراوٹ کے باوجود ان تین ارب پتیوں کی دولت 34.04 ارب ڈالر پر مستحکم رہی۔ جنگ کے آغاز کے دن یہ دولت 34.18 ارب ڈالر تھی۔

غزہ سے اچانک حملے سے اسرائیل کی معیشت کو دھچکا لگا۔ اسرائیل کے سب سے بڑے بینک ’’ ہاپولم بینک‘‘ کے مارکیٹ سٹریٹجسٹ مودی شیفرر نے موجودہ بجٹ میں ان نقصانات کا تخمینہ جی ڈی پی کا لگ بھگ 1.5 فیصد لگایا ہے۔ یہ نقصان 6.8 ارب ڈالر کے برابر بنتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی جی ڈی پی میں کم از کم 1.5 فیصد خسارہ ہوگا۔ یہ اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔

جنگ سے قبل بھی عدالت سے متعلق قانون میں ترمیم کے معاملے پر سیاسی تناؤ اور دیگر تنازعات اسرائیلی معیشت گراوٹ کا شکار تھی۔ سات اکتوبر کو حماس کے حیران کن حملے سے معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

اسرائیل کے امیر ترین ارب پتیوں نے اپنی دولت اسرائیل سے باہر تقسیم کرنے کے نتیجے میں خود کو نقصان سے بچایا ہے۔ دیگر سٹاک ایکسچینجز میں کمپنیوں کو لسٹ کرنے یا اسرائیل کے اندر اور باہر دونوں طرح کی سٹاک ایکسچینجز میں کمپنیوں کو لسٹ کرنے کے باعث یہ ارب پتی اسرائیلی ارب پتی نقصان سے بچ گئے۔

بلومبرگ کی اسرائیلی ارب پتیوں کی فہرست میں سب سے اوپر ارب پتی ایڈان اوفر ہیں جو جہاز رانی، ڈرلنگ اور کان کنی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ ٹینکر پیسیفک کے بانی اور کوانٹم پیسیفک ہولڈنگز کے ڈائریکٹر ہیں اور نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں درج پیسیفک ڈرلنگ کے اکثریتی شیئر ہولڈر ہیں۔

اسرائیل کے امیر ترین ارب پتی ایڈن اوفر کی دولت میں 19.9 بلین ڈالر کی مالیت گزشتہ ہفتہ سے آج تک صرف 100 ملین ڈالر کم ہوئی ہے۔ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق 2023 کے آغاز سے اب تک اس کا منافع تقریباً 8.34 بلین ڈالر رہا۔

اوفر کی دولت کی اکثریت اس حصے کی وجہ سے ہے جو انہیں اور اس کے بھائی ایال اوفر کو اپنے والد سے وراثت میں ملا ہے۔

فوربس کی فہرست کے مطابق ایال کی بہن کی دولت پر بھی اس کا اثر بہت کم تھا۔ اس کی رقم 18.6 بلین ڈالر تھی۔ 2022 کے آخر میں یہ دولت 15.4 ارب ڈالر تھی جس میں اس سال اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل کے امیر ترین ارب پتیوں کے طور پر سیاستدان اور کاروباری شخصیت سٹیو ورتھیمر 7.6 بلین ڈالر کی دولت کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئے۔ انہوں نے اس سال کے آغاز سے اب تک 750 ملین ڈالر کمائے ہیں۔

ورتھیمر پہلے اسرائیلی کنیسٹ کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ اسرائیل اور پڑوسی ممالک میں صنعتی کمپلیکس کے قیام میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ورتھیمر خاندان 2013 تک اسرائیل کا سب سے امیر خاندان تھا۔ اب اسرائیل میں ان کے 6 صنعتی پارک بھی ہیں۔

تیسرے نمبر پر اسرائیلی نژاد امریکی خاتون شیری ایلیسن ہیں جو اسرائیل کی امیر ترین خاتون ہیں۔ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق وہ ارب پتیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ ان کی دولت میں گزشتہ آٹھ دنوں کے دوران 200 ملین ڈالر سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔

اس کمی کے باوجود 2018 میں شکون اینڈ بنوئی کنسٹرکشن کمپنی کا 47 فیصد فروخت کرنے کے بعد ان کی دولت کا بڑا حصہ بنیادی طور پر نقدی ہے۔ ان کی دولت کا حجم 5.75 بلین ڈالر ہے۔ ان کے اسرائیل کے سب سے بڑے ہاپولم بینک میں 8 فیصد حصص ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں