جگر کی مریضہ یمنی بچی کے ساتھ سعودی نرس کا محبت بھرا سلوک

نرس عبیر نے اپنی بیٹی کی طرح بچی ڈیانا کو پیار دیا، سوشل میڈیا پر پذیرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں بچوں کی ایک نرس نے جگر کی پیوند کاری کی ضرورت رکھنے والی یمنی بچی کے کیس کو بہترین طریقے سے سنبھال کر لوگوں کے دل موہ لیے۔

سعودی پیڈیا ٹرک نرس کی کہانی نے شہریوں کے جذبات کو بر انگیختہ کردیا۔ سعودی نرس عبیر نے بچی کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ انہوں نے بچی کے خیال رکھنے اور اس کی مکمل دیکھ بھال کرنے کے حوالے سے بتایا تو سوشل میڈیا صارفین نے نرس کی انسانی ہمدردی کے اس عمل کو خوب سراہا۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کرتے ہوئے نرس عبیر نے کہا کہ میری ڈیانا کے ساتھ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ڈیانا ہسپتال میں بیمار تھی۔ کچھ دن گزرنے پر میں اسے جاننے لگی۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ خاص اور دوسرے بچوں سے مختلف ہے۔ وہ کھیلنا اور بات چیت کرنا پسند کرتی ہے۔ اس وقت میں نے اس سے پیار کرنا اور اس کا دل لگانا شروع کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیانا کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ خاص طور پر اس کا جگر خراب ہے۔ جب وہ تین ماہ کی تھی تو تو گردے کی خرابی کی وجہ سے اس کی والدہ کی موت کا علم ہونے کے بعد اس کے لیے میری محبت میں اضافہ ہوگیا۔

نرس عبیر نے کہا ڈیانا اب مجھ سے مسلسل ملنے آتی ہے اور میں اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہوں جیسے وہ میری بیٹی ہو۔ میں اس کی پڑھائی میں مدد کرتی ہوں ۔اس کے ساتھ سیر کے لیے جاتی ہوں۔ ڈیانا کی بیماری اور اس کی ماں کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے دکھ کے بعد میں نے اپنا جگر عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس کے والد نے جگر عطیہ کرنے میں پہل کر لی ۔ اس کے بعد ڈیانا کی لیور ٹرانسپلانٹ ہوا اور اب اس کی حالت مستحکم ہوگئی ہے۔

سعودی نرس نے بتایا کہ میں نے یہ سارا قصہ سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ شیئر کیا۔ ڈیانا کو ہر قسم کی پیشہ ورانہ، نفسیاتی اور اخلاقی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اب اس پابندی کو جاری رکھ رہی ہوں جس سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔ ڈینانا میری بیٹی کی طرح ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں