غزہ کے ہسپتال اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی سے نمٹنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے حملے کے جواب میں کئی دنوں کے شدید فضائی کارروائیوں اور ناکہ بندی کے بعد جب غزہ کے رہائشی اسرائیل کے زمینی حملے کے لیے تیار ہیں، ایسے میں وزارتِ صحت کے اہلکار اشرف القدرہ حیران ہیں کہ ہسپتال کیسے ان حالات سے نبرد آزما ہوں گے۔

ڈاکٹر فضائی حملوں میں زخمی ہونے والے بچوں سمیت مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مدد کے لیے پرہجوم ہسپتالوں میں بھاگے پھر رہے ہیں جہاں ناکہ بندی کی وجہ سے ادویہ اور ایندھن کی کمی ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ صرف انتہائی شدید کیسز کی سرجری ہو رہی ہے کیونکہ وسائل ناکافی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر (او سی ایچ اے) نے پیر کو کہا کہ غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں مزید صرف 24 گھنٹے کے لیے ایندھن باقی رہ گیا ہے، جس سے ہزاروں مریضوں کو خطرہ لاحق ہے۔

وزارتِ صحت نے پیر کو بتایا کہ 7 اکتوبر سے کم از کم 2,750 فلسطینی ہلاک اور 9,700 زخمی ہو چکے ہیں۔

مزید 1,000 لوگ لاپتا ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہیں۔

قدرہ نے لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کے لیے شفا ہسپتال جانے کی اپیل کی جو علاقے کی 13 عوامی طبی سہولیات میں سے سب سے بڑا ہے۔

قدرہ نے کہا، "اگر ہسپتال کام کرنا بند کر دیتا ہے تو پوری دنیا سینکڑوں ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کی ذمہ دار ہو گی جو ہماری خدمات پر انحصار کرتے ہیں خاص طور پر شفا سے۔"

اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینی 16 اکتوبر 2023 کو ایک ٹرک میں غزہ شہر کے شفا ہسپتال میں پہنچ رہے ہیں۔ (رائٹرز)
اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینی 16 اکتوبر 2023 کو ایک ٹرک میں غزہ شہر کے شفا ہسپتال میں پہنچ رہے ہیں۔ (رائٹرز)

الشفاء ہسپتال غزہ کی پٹی سمیت غزہ شہر میں رہنے والے تقریباً 800,000 لوگوں کی براہِ راست خدمت کرتا ہے۔

اسرائیل اپنے اب تک کے شدید ترین فضائی حملے کر رہا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ غزہ پر زمینی حملہ کرے گا جو کہ 2.3 ملین آبادی کے ساتھ دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔

اسرائیل نے نو روز قبل اسرائیلی یہودی بستیوں میں حماس کے جنگجوؤں کی طرف سے ہنگامہ آرائی کا انتقامم لینے کی خاطر تنظیم کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

'یہ کتنا مشکل ہے'

اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوب کی طرف منتقلی کی وارننگ کے بعد کچھ فلسطینی غزہ شہر میں اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں اس سفر میں اسرائیلی فضائی حملوں کا خطرہ تھا اور کچھ شمال کی طرف لوٹ رہے ہیں کیونکہ عدم تحفظ اور زیادہ پرہجوم جنوب میں رہنے کے لیے کہیں جگہ نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج اس پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھی۔

غزہ میں فلسطینیوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے رات بھر کی بمباری مہم اس کے جوابی حملوں کے بعد سے شدید ترین تھی۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ شہر میں بمباری خاص طور پر شدید تھی جس میں فضائی حملے شہر کے دو اہم ہسپتالوں کے ارد گرد کے علاقوں کو نشانہ بناتے تھے۔

سعید العبدلہ ہسپتال کے بستر پر ڈائیلاسز مشین لگائے پڑے تھے۔ وہ خان یونس میں اپنے گھر پر بم دھماکے سے بچ گئے۔

انہوں نے کہا۔ "میں گردے کا ڈائیلاسز کروا رہا ہوں اور یہ عمل بہت مشکل ہے، ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیں آمد ورفت اور گھومنے پھرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔"

"اور اب ہم جنگ کی زد میں ہیں، جنگ تباہی اور موت اور اذیت ہے۔ ہم اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں اور اب ہم اپنے گھروں میں نہیں رہے۔ یہ کتنا مشکل ہے۔"

مصر کے زیرِ قبضہ سرحدی گذرگاہ کو غزہ میں کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور غیر ملکی امداد کے عطیات مصر کی طرف پہنچائے جا رہے ہیں۔

جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے ناصر ہسپتال میں جہاں میتوں کو لے جانے والی ایمبولینسیں آتی رہتی ہیں، دائمی بیماریوں کے مریضوں کو طبی آلات کے ناکام ہونے کے خدشات کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر محمد ذقوت نے کہا۔ "ہمارے پاس 220 (گردے) کے مریض ہیں۔ آدھے آلات آج رات سروس دینا بند کر دیں گے اور ہم ان سب کا ڈائیلاسز نہیں کر سکیں گے۔ یہ ایک انسانی المیہ ہے۔"

گردے کے مریض ناہید الخزندار جو اپنے خاندان کے ساتھ غزہ شہر سے خان یونس بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے، نے بتایا کہ انہیں فی ہفتہ تین ڈائیلاسز سیشن لینے پڑتے ہیں لیکن اب تک کوئی نہیں ہوا۔

خزندار نے رائٹرز کو بتایا، "میری ٹانگیں پھولنے لگیں، مجھے گھٹن محسوس ہو رہی ہے اور مجھے فوری طور پر ڈائیلاسز کی ضرورت ہے۔" وہ خان یونس ہسپتال میں کڈنی ڈیپارٹمنٹ کے باہر انتظار کر رہے تھے جہاں درجنوں زخمی مرنے والوں کی لاشوں کے ساتھ آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں