فلسطین اسرائیل تنازع

کیا غزہ کو اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کا سامنا ہے؟

جاپان میں تعینات فلسطینی سفیر ولید علی صیام کا معاصر عزیز عرب نیوز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فلسطین کے ایک اعلٰی سفارت کار نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری لڑائی کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے اقدامات نہ اٹھائے تو غزہ کو ’مکمل تباہی‘ اور ’نسل کشی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عرب نیوز کے فلیگ شپ پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘سے بات کرتے ہوئے جاپان میں تعینات فلسطینی سفیر ولید علی صیام نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی شہریوں کے گھروں اور روزگار کو تباہ کر رہا ہے اور انہیں اُس فعل کی سزا دے رہا ہے جس میں ان کا عمل دخل بھی نہیں ہے۔

جنوبی اسرائیل کے علاقے اشکیلون میں غزہ کی پٹی سے راکٹ حملے کے بعد کاروں کو آگ لگتی دکھائی دے رہی ہے۔ (فائل/اے ایف پی)
جنوبی اسرائیل کے علاقے اشکیلون میں غزہ کی پٹی سے راکٹ حملے کے بعد کاروں کو آگ لگتی دکھائی دے رہی ہے۔ (فائل/اے ایف پی)

’یہ اجتماعی سزا ہے۔ یہ جنگی جرم ہے۔ آپ پوری آبادی کو سزا نہیں دے سکتے کیونکہ اُس آبادی کے ایک مخصوص حصے نے اسرائیل کے ساتھ کچھ غلط کیا ہے۔‘

پروگرام کی میزبان کیتی جینسن سے بات کرتے ہوئے سفیر نے بتایا کہ ان کا اپنا خاندان بھی اسرائیلی محاصرے کے باعث غزہ میں پھنسا ہوا ہے اور آج پیر کی صبح ان کا گھر بمباری میں تباہ ہو گیا ہے۔

غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر راکٹ حملے کے بعد اشکلون میں جلی ہوئی گاڑیوں کی تصویر ہے۔ (فائل/اے ایف پی)
غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر راکٹ حملے کے بعد اشکلون میں جلی ہوئی گاڑیوں کی تصویر ہے۔ (فائل/اے ایف پی)

’لیکن یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جس سے میرے لوگ گزر رہے ہیں اور سینکڑوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔‘

8 اکتوبر سے غزہ اسرائیلی میزائلوں اور توپوں کی زد میں ہے جب اس سے ایک دن قبل حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا اور اس کے سینکڑوں فوجیوں اور شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ متعدد کو یرغمال بنانے کے علاوہ اسرائیلی شہروں پر راکٹ بھی برسائے۔

جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک زخمی خاتون کی مدد کے لیے فلسطینی اسرائیلی فضائی حملے کے دوران تباہ ہونے والی عمارت سے بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ (فائل/اے ایف پی)
جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک زخمی خاتون کی مدد کے لیے فلسطینی اسرائیلی فضائی حملے کے دوران تباہ ہونے والی عمارت سے بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ (فائل/اے ایف پی)

خیال رہے کہ سنی مسلک سے وابستہ گروپ حماس اخوان المسلمون کی صفوں سے ابھر کر سامنے آیا تھا اور اس کو ایران اور لبنان کی حزب اللہ جماعت کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ آپریشن الاقصیٰ فلڈ فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور یروشلم میں مسجد الاقصیٰ کی بےحرمتی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

15 اکتوبر 2023 کو ایمسٹرڈیم میں فلسطینیوں کی حمایت میں ایک ریلی کے دوران مظاہرین فلسطینی پرچم لہرا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
15 اکتوبر 2023 کو ایمسٹرڈیم میں فلسطینیوں کی حمایت میں ایک ریلی کے دوران مظاہرین فلسطینی پرچم لہرا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

فلسطینی سفیر ولید علی صیام نے بتایا کہ ملبے سے بھری ہوئی سڑکوں کی وجہ سے رسائی مشکل ہو گئی ہے اور اسرائیلی بمباری میں مزید شدت آ گئی ہے، یہ وجہ ہے کہ اپنا گھر چھوڑنے کے بعد سے ان کا خاندان محفوظ جگہ تلاش کرنے سے قاصر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محفوظ جگہ کی تلاش میں ان کی فیملی ایک ہوٹل میں گئی لیکن اسرائیلوں کے کہنے پر انہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا ہے۔
’شاید اسرائیل نے اسے بھی نشانہ بنانا ہو۔ اب وہ (فیملی) ایک گلی سے دوسری میں بھاگتے پھر رہے ہیں۔‘

انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا ’ہم نے اتنے سارے دوستوں کو کھو دیا اور فیملی کے کچھ افراد بھی کھو گئے۔ لیکن میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ یہ سب ہمارے لیے نیا نہیں ہے۔‘

اسرائیلی فوجی 15 اکتوبر 2023 کو جنوبی شہر اشکلون کے قریب ہتھیار اور مسلح گاڑیاں تیار کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
اسرائیلی فوجی 15 اکتوبر 2023 کو جنوبی شہر اشکلون کے قریب ہتھیار اور مسلح گاڑیاں تیار کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

سفیر ولید علی صیام نے کہا کہ فلسطین کے بجائے اسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

’اسرائیل دنیا کے دس طاقتور ممالک میں سے ایک ہے۔ اور امریکہ سب سے زیادہ طاقت رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ اور یہ دونوں غزہ کی 22 لاکھ آبادی اور نام نہاد اسلامی جنگجوؤں یا حماس کے 30 سے 40 ہزار جنگجوؤں کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ انتہائی غیرمتناسب ہے کہ ایک لاکھ فوجی 50 ہزار کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں انسانی بحران کا سامنا ہے۔ نہ بجلی ہے، نہ خوراک، نہ پانی اور نہ ہی ادویات ہیں۔ دو لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس وقت ہم اس صورتحال سے دوچار ہیں۔‘

غزہ کی پٹی کے ایک علاقے پر اسرائیلی بمباری کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ (فائل/اے ایف پی)
غزہ کی پٹی کے ایک علاقے پر اسرائیلی بمباری کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ (فائل/اے ایف پی)

اسرائیل نے غزہ پر بمباری کے علاوہ غزہ کے ساتھ سرحد پر فوجیں بھی تعینات کر رکھی ہیں اور شہریوں کو جنوب کی طرف نقل مکانی کرنے کا کہا ہے جبکہ علاقے میں بجلی اور پانی کی سہولت منقطع کر دی ہے اور خوارک و ادویات کی ترسیل بھی بند کر دی ہے۔

اسرائیل جنگی طیاروں نے گنجان آباد علاقوں میں اندھا دھند بمباری کے دوران شہری املاک کو بھی نہیں چھوڑا۔

اقوام متحدہ کے حکام نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کے اصولوں کا احترام کرے جن کا تقاضہ ہے کہ شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنایا جائے اور اجتماعی سزا کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیا جائے۔

اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے بچوں کو 15 اکتوبر 2023 کو غزہ شہر کے الشفا ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ (اے ایف پی)
اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے بچوں کو 15 اکتوبر 2023 کو غزہ شہر کے الشفا ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ (اے ایف پی)

فلسطینی سفیر سے جب اس تنازعے کے نتائج سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’بدقسمتی ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ اگر بین الاقوامی برادری نے جلد از جلد مداخلت نہ کی تو غزہ میں مکمل تباہی اور شہریوں نسل کشی ہو گی۔

برسوں کی موثر پابندیوں اور 2007 سے حماس کے زیر اقتدار غزہ کی آبادی جو اسرائیل کے ساتھ مسلح تبادلوں کے دوران بمباری کی زد میں رہتی ہے، وہ بالکل بھی موجودہ محاصرے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

15 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پر اسرائیلی حملے میں لوگ ایک عمارت کے ملبے سے سامان بچا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
15 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پر اسرائیلی حملے میں لوگ ایک عمارت کے ملبے سے سامان بچا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

صیام کے خیال میں حماس کے عروج سے اسرائیلی بیانیے کو فائدہ پہنچا ہے جبکہ فلسطینیوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچا۔

’میں فلسطینی حکومت اور فلسطینی عوام کی نمائندگی کرتا ہوں۔ مجھے اپنے لوگوں کی نمائندگی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہماری جدو جہد جائز ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو 75 سال سے ایک خودمختار ریاست کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اور ہم اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر صورت اور رنگ میں لڑائی جاتی رکھیں گے۔‘

جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد ایک فلسطینی لڑکا اپنے پرندے کو پنجرے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ (اے ایف پی)
جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے بعد ایک فلسطینی لڑکا اپنے پرندے کو پنجرے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ (اے ایف پی)

انہوں نے واضح کیا کہ ’جو کچھ سات اکتوبر کو ہوا، میرے لیے اس کی تاریخ 1948 تک جاتی ہے۔ اس کی شروعات سات اکتوبر سے نہیں ہوئی۔‘

 Waleed Ali Siam, the Palestinian ambassador to Japan, discusses the Israeli military onslaught on Gaza and the unprecedented Hamas attack on southern Israel with Katie Jensen. (AN photo)
Waleed Ali Siam, the Palestinian ambassador to Japan, discusses the Israeli military onslaught on Gaza and the unprecedented Hamas attack on southern Israel with Katie Jensen. (AN photo)

فلسطینی سفیر سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، تو اس پر انہوں نے جواب دیا ’امریکہ ہمارے اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں شریک نہیں ہو سکتا۔۔۔ میرے خیال میں جاپان کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے، نہ ہی امریکہ یا کسی اور مغربی ملک کو۔‘

Interview
Interview

انہوں نے اپنے اس موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’فرانس، برطانیہ اور چند دیگر ممالک نے بیانات جاری کیے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ فلسطینی بھی انسان ہیں۔۔۔۔ہم انسان ہیں اور ہماری ایک جائز جدو جہد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں