’اصل تباہی‘سے قبل صرف 24 گھنٹے بچے ہیں: عالمی ادارہ صحت

’اگر امداد نہیں پہنچتی ہے تو ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تیار کرنا ہوں گے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صرف ’24 گھنٹوں کا پانی، بجلی اور ایندھن‘ بچا ہے جس کے بعد ’اصل تباہی‘ شروع ہو گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے لیے ریجنل ڈائریکٹر احمد المنظری نے کہا ہے کہ بمباری اور محاصرے کی زد میں آنے والے علاقوں میں فوری طور پر امدادی سامان لانے والے قافلوں کو اجازت دی جائے جو اس وقت مصر کے ساتھ رفح کراسنگ پر پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ’اگر امداد نہیں پہنچتی ہے تو ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تیار کرنا ہوں گے۔‘

اقوام متحدہ کے ادارہ عالمی ادارہ صحت کے علاقائی سربراہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صرف ’24 گھنٹوں کے لیے پانی، بجلی اور ایندھن رہ گیا‘ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے بمباری میں تیزی آ گئی ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر احمد المنظری نے کہا کہ اگر زیر محاصرہ خطے میں امداد کی اجازت نہیں دی گئی تو ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تیار کرنا ہوں گے۔

بجلی منقطع ہونے سے لائف سپورٹ نظام، فوڈ ریفریجریشن اور ہسپتالوں کے انکیوبیٹرز کا نظٓم درہم برہم ہونے کا خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہریوں کو روزمرہ زندگی کے معمولات ٹوائلٹ، صفائی اور کپڑے دھونا بھی ناممکن ہوگیا ہے۔

احمد المندھاری نے کہا کہ ایمرجنسی خدمات انجام دینے والے کم پڑگئے ہیں، ڈاکٹر 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں اور جگہ بھی کم پڑ رہی ہے جہاں لاشوں کو محفوظ نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بھر چکے ہیں جہاں انتہائی نگہداشت یونٹ، آپریٹنگ رومز، ایمرجنسی سروسز اور دیگر خدمات تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل کے وزیرتوانائی اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ جنوبی غزہ کے لیے اشیا کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے جہاں اسرائیل نے حماس کے حملے کے بعد غزہ کا مکمل محاصرہ کرتے ہوئے پانی، بجلی اور ایندھن کی فراہمی روک دی تھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے کہا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کو زندگی بچانے والی انتہائی اہم اشیائے سے محروم رکھنا منع ہے۔

اسرائیل نے سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں 23 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ تک خوراک اور ایندھن پہنچنے سے روکنے کے لیے علاقے کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے، اسرائیلی حکام کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران اب تک 1300 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے اپنی تاریخ کے مہلک ترین راکٹ حملے کا سامنا کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری شروع کر دی اور تقریباً دو ہزار 750 افراد مار ڈالے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، وزارت صحت کے مطابق حملوں میں نو ہزار 700 فلسطینی زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں