حماس کی تل ابیب پرنئی بمباری، بلینکن اور نیتن یاھو نے قلعہ میں پناہ لی

ایران اور حزب اللہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر کسی تجربہ سے باز رہیں: اسرائیلی وزیر اعظم کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس نے ایک مرتبہ پھر تل ابیب پر راکٹ داغ دئیے، پیر کی شام چند گھنٹوں کے اندر تیسری مرتبہ تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں میزائلوں سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجے ۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے بھی اعلان کیا کہ غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں تل ابیب پر راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ بلینکن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران سائرن بجنے لگے تو دونوں پانچ منٹ تک قلعہ بند ہوکر محصو ر رہے۔ اس کے بعد دونوں باہر گئے اور اسرائیلی وزارت دفاع کے کمانڈ سینٹر میں اپنی بات چیت جاری رکھی۔

Advertisement

پیر کے روز ہی حماس کی جانب سے اس سے قبل تل ابیب اور القدس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ راکٹ اس وقت فائر کیے گئے جب کنیسٹ یعنی اسرائیلی پارلیمان کا اجلاس کے انعقادکا موقع تھا۔ کنیسٹ سیشن کے ساتھ ہی پورے تل ابیب میں سائرن بجنے لگے۔ بعد میں کنیسٹ کی عمارت خالی کرا لی گئی اور سیشن معطل کردیا گیا۔ اسرائیلی انٹرنل سکیورٹی سروس ’’ شن بیٹ‘‘ کے سربراہ رونن بار نے کہا کہ وہ اسرائیلی قصبوں پر حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ ہم اٹھائے گئے اقدامات کے سلسلے کے باوجود بدقسمتی سے 7 اکتوبر ہفتے کے روز ایک مناسب انتباہ جاری کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ایجنسی کے سربراہ کے طور پر اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ اس حوالے سے تحقیقات کرائی جائیں گی۔ اس وقت ہم لڑ رہے ہیں۔

کنیسٹ سیشن معطل کرنے سے پہلے چرچ کے سامنے اپنی تقریر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ غزہ میں فتح حاصل کرنے میں وقت لگے گا ۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کو شکست دینے کے لیے دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ جنگ آپ کی بھی جنگ ہے۔ نیتن یاھو نے حماس کو نازیوں سے بھی تشبیہ دی۔ اس دوران نیتن یاھو نے ایران اور حزب اللہ دونوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شمالی محاذ پر ہمیں نہ آزمائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں