"لا غالب إلا الله".. سٹیٹس کیوں لگایا؟ اسرائیل نے فلسطینی فنکارہ گرفتار کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"لا غالب إلا الله" ... ان الفاظ کے ساتھ فلسطینی فنکارہ دلال ابو آمنہ نے غزہ میں ہونے والے واقعات پر متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا تو اسرائیلی شہر الناصرہ کی مجسٹریٹ عدالت نے ان کی گرفتاری کی مدت میں توسیع کر دی۔

دلال ابو آمنہ کی وکیل عبیر بکر نے بتایا کہ ان کی مؤکلہ سے ابھی تک تفتیش جاری ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک ان سے متعلق کوئی باقاعدہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

عبیر بکر کے بقول فنکارہ دلال کو فیس بک پر "لا غالب إلا الله" کے الفاظ میں سٹیس لگانے پر مزید تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا۔ یہ سٹیٹس دلال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ مینجمنٹ سٹاف نے گذشتہ سنیچر کو لگایا تھا۔

خاتون وکیل نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس اہلکار ان کے گھر انہیں حراست میں لینے کے لئے آئے حالانکہ دلال نے خود یہودی آبادکاروں کی طرف اپنے خلاف نفرت آمیز کارروائیوں کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے رکھی تھی۔

گرفتاری مہم

دلال ابو آمنہ کی یہ گرفتاری پیر کے روز ہوئی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر غزہ جنگ کے جلو میں قابل اعتراض مواد نشر کیا ہے۔

اسرائیل نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے آغاز سے عرب سوسائٹی میں گرفتاریاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان گرفتاریوں کی بنیاد زیادہ تر فلسطینی عربوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بیان کی جاتی ہیں۔

متعدد عرب ورکرز کو ان کی ملازمت کی جگہوں پر بھی روکا جا رہا ہے۔ نیز اسرائیلی جامعات اور کالجوں میں زیر تعلیم متعدد اسرائیلی عربوں کو غزہ پر جنگ کے تناظر میں مذمتی سٹیٹس لگانے پر ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں