غزہ کے الاھلی عرب ہسپتال میں دھماکے کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی صدر بائیڈن کے اسرائیل کے دورے سے عین قبل غزہ کے ایک ہسپتال میں خوفناک دھماکہ ہوا۔ اور اس دھماکے میں 500 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوگئے۔

غزہ کے ہسپتال پر بمباری کس نے کی؟

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں نے ایک دوسرے پر ہسپتال پر بمباری کا الزام عائد کیا ہے۔ بائیڈن جو تنازع کے آغاز سے ہی اسرائیل کے پیچھے کھڑے ہیں نے کہا کہ میں نے جو دھماکہ دیکھا ہے۔ اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ دھماکہ "دوسری ٹیم" کی وجہ سے ہوا ہے۔ دوسری ٹیم سے بائیڈن نے مراد فلسطینی عسکریت پسندوں کو لیا۔ بعض مغربی ملکوں نے اس مرحلے پر انگلی اٹھائے بغیر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب ریاستوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے۔

ہم ہسپتال کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

یہ ہسپتال 1882 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے اینگلیکن چرچ کے ذریعے چلایا گیا۔ ’’الاہلی عرب‘‘ ہسپتال نے اپنی ویب سائٹ پر خود کو دنیا کے سب سے زیادہ پریشان کن مقامات میں سے ایک کے درمیان امن کی پناہ گاہ کے طور پر بیان کیا۔ ہسپتال کے مطابق اس نے خدمات کے ساتھ 80 بستروں کی پیشکش کی ہے۔ ہسپتال نے چھاتی کے کینسر کا پتہ لگانے کے لیے ایک مفت پروگرام بھی پیش کیا ہے۔ بزرگ خواتین کے لیے ایک مرکزقائم کیا۔ ایک موبائل کلینک بھی تیار کیا جو آس پاس کے شہروں میں مفت خدمات پیش کرتا ہے۔ یہ ہسپتال غزہ شہر کے الزیتون محلے میں واقع ہے۔

ہسپتال میں کتنے لوگ تھے؟

اگرچہ ہسپتال میں بستروں کی تعداد محدود تھی لیکن 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی لڑائی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے یہ اور غزہ کے دیگر ہسپتال اپنی گنجائش سے بہت زیادہ بھرے ہوئے تھے۔ یہ مانتے ہوئے کہ ہسپتال حملوں کے خلاف محفوظ پناہ گاہیں ہیں، لوگوں نے پورے غزہ میں ہسپتالوں کے میدانوں میں پناہ لی ہے۔

آرتھوپیڈک سرجری کے سربراہ ڈاکٹر فضل نعیم نے بتایا کہ منگل کی صبح تقریباً ایک ہزار افراد ’’الاھلی عرب‘‘ ہسپتال میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے الزیتون محلے کے رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ ڈاکٹر ابراہیم النقا نے بتایا کہ حملہ کے وقت 3000 سے زیادہ افراد ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

حملہ سے پہلے کیا ہوا؟

سینکڑوں لوگوں کی موت کا باعث بننے والے اس حملے سے قبل اسرائیل نے غزہ کے شمال میں فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف چلے جائیں۔ ان شمالی علاقوں میں غزہ شہر اور الزیتون محلہ بھی آتا تھا۔ صہیونی فوج نے ’’ ایکس‘‘ پر خاص طور پر الزیتون محلے کے مکینوں کو ہجرت کرجانے کا کہا تھا۔ غزہ کے جنوب میں واقع رفح شہر میں کویتی خصوصی ہسپتال نے 16 اکتوبر کو بتایا کہ اسے انخلا کے لیے دو اسرائیلی انتباہات موصول ہوئے لیکن اس کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ اس کا عملہ وہاں سے نہیں جائے گا۔

حملہ کے متعلق تفصیلات کیا ہیں؟

ڈاکٹر فضل نعیم نے کہا کہ میں نے ایک سرجری مکمل کر لی تھی اور اپنی میڈیکل بنیان کو تبدیل کرنے کے لیے دوسری سرجری شروع کرنے ہی والا تھا کہ ایک زبردست دھماکے کی آواز سنی۔ ڈاکٹر نقا نے بتایا کہ دھماکہ شام 6.30 بجے جی ایم ٹی وقت کے مطابق 1520 بجے ہوا۔

کتنا نقصان ہوا؟

خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے ہسپتال کے اندر سے حاصل کی گئی فوٹیج اور تصاویر میں تقریباً دو درجن تباہ شدہ گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ دیواروں اور زمین پر خون کے دھبے تھے۔ تباہ شدہ عمارت بھی نظر آرہی ہے۔

فلسطینیوں کا موقف

فلسطینی حکام نے دھماکے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ تنظیم تحریک اسلامی جہاد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کا کوئی راکٹ دھماکے کی وجہ بنا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اس وقت اس کی غزہ شہر یا اس کے آس پاس کوئی سرگرمی نہیں تھی۔ حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ اس حملے کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ واشنگٹن نے اس جارحیت پر اسرائیل کی پردہ پوشی کی ہے۔ مغربی کنارے میں مقیم فلسطینی اتھارٹی کے وزیر صحت نے بھی اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ار اسے "قتل عام" قرار دیا۔

اسرائیل نے کیا کہا؟

اسرائیل نے اس دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کردی اور کہا کہ یہ دھماکہ اسلامی جہاد کے ناکام راکٹ لانچ کی وجہ سے ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے آپریشنل سسٹمز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں عسکریت پسندوں کی طرف سے راکٹوں کا ایک برسٹ مارا گیا۔ یہ برسٹ ہسپتال سے قریب سے گزرا تھا۔ اسی کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔

امریکہ کا موقف

امریکی صدر بائیڈن نے بھی دھماکہ کے حوالے سے الزام تراشی کرتے ہوئے انگلی فلسطینی عسکریت پسندوں پر اٹھائی ہے۔ نیتن یاہو کے ساتھ بات کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ گزشتہ روز غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے سے مجھے بہت دکھ ہوا اور غصہ آیا۔ جو کچھ میں نے دیکھا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ یہ دوسری ٹیم نے کیا ہے نہ کہ آپ لوگوں نے ۔

اینگلیکن چرچ نے کیا کہا؟

کینٹربری کے آرچ بشپ اور اینگلیکن چرچ کے سربراہ جسٹن ویلبی نے کہا ہے کہ یہ معصوم جانوں کا خوفناک اور تباہ کن نقصان ہے۔ ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اس سوگ میں شریک ہیں۔ میں اس تباہ کن جنگ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی اپیل کی تجدید کرتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size