سعودی عرب نے اعضاء کی پیوند کاری کے میدان میں صف اول میں کیسے جگہ بنائی؟

کنگ فیصل سپیشلسٹ ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر میں دنیا کی اولین جگر کی مکمل روبوٹک پیوند کاری کے ساتھ سعودی صحت کی نگہداشت کے شعبے نے درست اور باقاعدہ سرجری میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
16 منٹ read

حال ہی میں سعودی عرب کے ایک آپریشن تھیٹر میں جگر کی پیوند کاری مکمل طور پر روبوٹ کے ذریعے کی گئی جس میں سرجنز کی ایک ٹیم نے دس گھنٹے تک اس اہم سرجری کی نگرانی کی۔ اس سرجری نے اعضاء کی پیوند کاری میں مملکت کی پوزیشن کو دنیا میں مستحکم کرنے میں مدد کی۔

مانیٹر کی بیپ اور آلات جراحی کی جادوگری کے ساتھ کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کی سرگرم ٹیم نے ایک 66 سالہ سعودی شخص پر دنیا کی اولین جگر کی مکمل روبوٹک پیوندکاری کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی جو غیر الکوحل کے جگر کے سیروسس اور ہیپاٹو سیلولر کارسنوما سے دوچار تھا۔

تب سے اب تک اس طرح کی مزید چار پیوندکاری ہو چکی ہیں جو تمام سعودی شہریوں پر کی گئیں۔ وہ مریضوں کی لمبی قطار میں پہلے نمبر پر ہیں جو مستقبل میں روبوٹک جگر پیوندکاری سے فائدہ اٹھائیں گے۔

العربیہ سے خصوصی بات کرتے ہوئے کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی میں اعضاء کے پیوند کاری مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈائیٹر بروئرنگ نے کہا کہ خصوصی ہسپتال نے اعضاء کی پیوند کاری میں مملکت کو عالمی نقشے پر لانے کے لیے چار عشرے گذارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا سنگِ میل صحت کی نگہداشت کی جدت کے ایک نئے دور کا وعدہ کرتا ہے جہاں درستی کے ساتھ اعضاء کی پیوند کاری کو ایک نئے معنی ملتے ہیں۔

 کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی کے اعضاء پیوندکاری مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈائیٹر بروئرنگ نے کہا کہ خصوصی ہسپتال نے اعضاء کی پیوند کاری کے لیے مملکت کو عالمی نقشے پر لانے کے لیے چار عشرے گذارے ہیں
کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی کے اعضاء پیوندکاری مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈائیٹر بروئرنگ نے کہا کہ خصوصی ہسپتال نے اعضاء کی پیوند کاری کے لیے مملکت کو عالمی نقشے پر لانے کے لیے چار عشرے گذارے ہیں

سعودی عرب میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری

سعودی عرب میں اعضاء کی پیوند کاری کا سفر 1979 میں ایک زندہ عطیہ دہندہ کے گردے کی پیوند کاری سے شروع ہوا۔ اس کے بعد سے 44 سالوں میں مملکت نے اس میدان میں کافی پیش رفت کی ہے۔

حالیہ پیش رفت کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔ جبکہ کچھ طبی مراکز نے ہائبرڈ تکنیک کے ساتھ جگر کی پیوند کاری کے کم سے کم ناگوار طریقے تلاش کیے ہیں مگر کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی جگر کی مکمل روبوٹک پیوندکاری کے طریقہ کار کی پیشکش کرنے میں تنہا ہے۔ یہ اہم جراحی کامیابی ہائبرڈ طریقوں کی ضرورت کو ختم کر دیتی ہے اور پیوندکاری سرجری میں درستی کے لیے بالکل نیا معیار قائم کرتی ہے۔

ڈاکٹر بروئرنگ نے پیچیدہ بنیادوں کا انکشاف کیا جس نے اس تاریخی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے کہا۔ "یقینا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ سرجری راتوں رات نہیں ہوئی تھی۔ اہم سنگِ میل کے لیے اہم تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔"

ڈاکٹر نے کہا کہ یہ سفر 2018 میں پیوندکاری کے شعبے میں روبوٹک سرجری کے تعارف کے ساتھ شروع ہوا۔

ابتداً ٹیم نے "قابلِ ذکر کامیابی" کے ساتھ گردے اور جگر کی پیوند کاری کے لیے روبوٹک ڈونر سرجری پر توجہ مرکوز کی۔

ڈاکٹر بروئرنگ نے کہا کہ یہ طریقہ کار پیچیدگیوں میں نمایاں کمی، ہسپتال میں مختصر قیام، اور آپریشن کے بعد مریضوں کے لیے کم درد کا باعث بنا۔

متعدد مثبت نتائج نے ٹیم کو اگلا قدم اٹھانے کی ترغیب دی: روبوٹک پیوندکاری جو گردے کی پیوند کاری سے شروع کی۔

تاہم اصل پیش رفت اس وقت ہوئی جب ٹیم نے جگر کی روبوٹک پیوندکاری کا آغاز کیاجو اپنی پیچیدگیوں کے لیے مشہور ہے۔

'ایک اہم پیش رفت'

ڈاکٹر نے وضاحت کی۔ "یہ واقعی ایک بڑا قدم تھا کیونکہ جگر کی پیوندکاری کو ازخود پیچیدہ ترین سرجریوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں پیٹ اور ایک کھلا طریقہ کار شامل ہوتا ہے اور اس کی پیچیدگی کی شرح تقریبا 50 فیصد ہے۔ اس کا مؤثر مطلب یہ ہے کہ ہر دوسرے مریض کو بڑا چاک لگانے (چیرنے) کی وجہ سے کسی نہ کسی قسم کی پیچیدگی ہوگی۔ پیچیدگیوں میں زخم کا ہیماٹوما اور زخم کے انفیکشن شامل ہیں۔"

تاہم انہوں نے کہا کہ روبوٹس اور ٹیکنالوجی کی جانب سے پیش کردہ درستگی کی اعلیٰ سطح کا استعمال کرتے ہوئے چاک نمایاں طور پر چھوٹا ہو سکتا ہے یعنی سرجری کے دوران اور بعد میں کم پیچیدگیاں۔ اس طرح مریض کی جلد صحت یابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو شامل کرتے وقت مریض کا انتخاب اہم ہوتا ہے۔

جگر کی روبوٹک پیوندکاری کے معاملے میں مریضوں کو مثالی طور پر پیٹ کی کوئی بڑی سرجری اور جسمانی تحفظات نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ طریقہ کار منتخب معاملات کے لیے بہترین ہے نہ کہ جگر کی شدید ناکامی کے مریضوں کے لیے۔

انہوں نے کہا، "اگر ماضی میں پیٹ میں کوئی اور سرجری کی گئی تھی تو اس میں اتنی زیادہ پیچیدگی ہو سکتی ہے کہ آپ جگر تک آسانی سے رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔"

ڈاکٹر نے وضاحت کی۔ "دوسرا اہم عنصر اناٹومی ہے – عطیہ دہندہ کے جگر کا میچ کیونکہ یہاں ہم ایک زندہ روبوٹک ڈونر سرجری کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس کے بعد عطیہ دہندہ سے عطیہ کردہ گرافٹ کی روبوٹک امپلانٹیشن کی جاتی ہے۔"

اس کی وجہ سے پہلا مریض جو ایک سعودی مرد تھا، اس تاریخی پیوندکاری سے گذرا۔

سرجری کس قدر پیچیدہ تھی، اس پر روشنی ڈالنے کے لیے ڈاکٹر نے بتایا کہ مریض کو ہیپاٹائٹس سی، جگر کا مکمل سیروسس اور جگر میں رسولی تھی۔

دس گھنٹے کا عمل

اس کے بعد اینستھیسٹسٹ، ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیم نے سرجری کا منصوبہ بنایا۔

اس طریقہ کار میں تقریباً 10 گھنٹے لگتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ گھڑی کا وقت خود مریض کے لیے اتنا اہم نہیں ہے۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ سرجری بہت مستحکم صورتحال میں کی جائے۔"

سرجری کے پہلے مرحلے میں سیرروٹک جگر کو ہٹانا شامل تھا جسے خون کی نالیوں کے پیچیدہ نیٹ ورک اور خون بہنے کے زیادہ خطرے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر سب سے مشکل حصہ سمجھا جاتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ روبوٹک پلیٹ فارم کی اندرونی پیٹ کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اس مرحلے کے دوران خون کے ضیاع کو کم کرنے میں معاون ہے۔

سیرروٹک جگر کو ہٹانے کے بعد عطیہ دہندگان کے جگر کے دائیں حصے کو ایک چھوٹے چیرا کے ساتھ اندر لگا دیا جاتا ہے جو خون کی نالیوں اور بائل ڈکٹ سسٹم کو جوڑتا ہے۔ یہ عمل ایک وسیع طبی ٹیم بشمول اینستھیزیولوجسٹ، نرسیں، تکنیکی ماہرین اور سرجن کے تعاون کا متقاضی ہے۔

اس طریقۂ کار کا ایک انوکھا پہلو یہ ہے کہ یہ ایک زندہ ڈونر روبوٹک سرجری ہے یعنی یہ وصول کنندہ کی سرجری کے ساتھ بیک وقت ہوتا ہے جس میں روبوٹک سسٹم کی سہولت کے ساتھ دو آپریٹنگ رومز کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر بروئرنگ نے کہا کہ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ روبوٹک نظام خود مختاری سے کام نہیں کرتا بلکہ سرجن کی نقل و حرکت کی درستگی اور کنٹرول کو بڑھاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روبوٹک پلیٹ فارم انتہائی بڑا کر کےدکھاتا، آلے کا غیر معمولی بیان اور درست حرکت فراہم کرتا ہے جس سے سرجری محفوظ اور زیادہ درست ہو جاتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی۔ "اس لیے یہ ایسا نہیں ہے جو ہم کار انڈسٹری میں خود مختار ڈرائیونگ کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ روبوٹ صرف سرجن کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ وہ انتہائی بڑا نظر آنے کی وجہ سے زیادہ درستگی کے ساتھ آلات کو بہتر طریقے سے حرکت دے سکتا ہے۔"

ڈاکٹر نے کہا کہ جلد ہی روبوٹک کی مدد سے ہونے والی سرجری اعضاء کی پیوند کاری میں معیار بننے کے لیے تیار ہیں جیسا کہ دیگر طبی شعبوں مثلاً نیورولوجی یا او بی گائناکالوجی میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ یہ تبدیلی طویل مدت میں بہتر نتائج، مریضوں کے بہتر تجربات اور لاگت میں کمی کا وعدہ کرتی ہے۔

روبوٹکس کے فوائد

درد میں کمی اور چھوٹے نشانات سے لے کر تیزی سے صحت یاب ہونے اور پیچیدگی کی کم شرح تک روبوٹک سرجری کے فوائد کئی گنا ہیں۔ جن مریضوں کو کم پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے وہ ہسپتال میں کم وقت گزارتے ہیں، اپنی معمول کی سرگرمیوں میں زیادہ تیزی سے واپس آتے ہیں اور طویل مدتی زندگی کے اعلیٰ معیار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر بروئرنگ نے کہا کہ روبوٹک سرجری میں ابتدائی مالی سرمایہ کاری ان طویل مدتی فوائد سے پوری ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا۔ "اگر کسی مریض کو کم پیچیدگیاں ہوں تو ہسپتال میں قیام بہت کم ہوتا ہے - ہسپتال میں صرف ایک ہفتہ قیام کافی ہے جس سے صحت یابی میں تیزی اور مجموعی لاگت میں کمی ہوتی ہے۔"

اعضاء کی پیوند کاری کے شعبے میں مملکت کے منفرد مقام کے بارے میں سوال پر ڈاکٹر برورنگ نے حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کی غیر متزلزل حمایت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی آبادی کے لیے صحت کی بہترین نگہداشت فراہم کرنے کا عزم تازہ ترین طبی ایجادات کو اپنانے کا باعث بنتا ہے۔

ڈاکٹر بروئرنگ نے مزید کہا کہ اپنی قابلِ ذکر صلاحیتوں اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے جوش و جذبے کے ساتھ سعودی عرب نہ صرف پیوندکاری میں بلکہ صحت کی نگہداشت کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔

مملکت کا اعضاء کی پیوند کاری کا سفر

سعودی عرب میں اعضاء کی پیوند کاری کا سفر 1976 میں کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں گردے کی پیوندکاری سے شروع ہوا۔

جوں جوں پیوندکاری کا شعبہ مسلسل ترقی کرتا رہا، سعودی عرب نے جامع قانونی اور اخلاقی رہنما خطوط کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ 1980 کے عشرے میں ملک نے سعودی مرکز برائے اعضاء پیوندکاری قائم کیا جو مملکت میں اعضاء کی پیوند کاری کو ریگولیٹ کرنے، نگرانی کرنے اور فروغ دینے کے لیے ذمہ دار ایک اہم تنظیم ہے۔

اعضاء کی پیوند کاری کے ابتدائی مراحل میں سعودی عرب نے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی اداروں اور ماہرین کے ساتھ اشتراک کیا۔ یہ باہمی تعاون کا جذبہ مقامی طبی پیشہ ور افراد کی تربیت اور عالمی معیار کی سہولیات کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم تھا۔ دنیا بھر کے معروف پیوندکاری مراکز کے معالجین نے سعودی ڈاکٹروں کی تربیت اور پیوند کاری میں ان کی مہارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

سعودی عرب میں اعضاء کی پیوند کاری کی پیشرفت نے متعدد اہم لمحات کا تجربہ کیا ہے خاص طور پر 1989 میں جب ریاض کے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں جگر کی پہلی پیوند کاری کی گئی تھی جس سے ملک میں اعضاء کی پیوند کاری کی دستیابی کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا۔

1990 کے عشرے میں سعودی مرکز برائے اعضاء پیوندکاری نے مردہ افراد کے اعضاء کے عطیہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک قومی اعضاء عطیہ پروگرام متعارف کرایا جو اعضاء کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

2007 میں سعودی عرب نے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں دل کی اولین کامیاب پیوندکاری مکمل کی جس سے پیوندکاری میں ایک اہم ملک کے طور پر اس کی پوزیشن مستحکم ہو گئی۔

مارچ 2021 میں سعودی کابینہ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرِ صدارت ایک ورچوئل اجلاس کے دوران انسانی اعضاء کے عطیہ کے ضابطے کی منظوری دی۔ یہ ضابطہ جسے شوریٰ کونسل نے ستمبر 2019 میں منظور کیا تھا، انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے اعضاء کی منتقلی، کاشت، محفوظ کرنے اور نشوونما کی اجازت دیتا ہے، عطیہ دینے اور لینے والے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، صحت کی سہولیات کا لائسنس، اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری کے سلسلے میں ان کی ذمہ داریوں کی تعریف اور مریض یا عطیہ دہندہ کی ضرورت کے استحصال یا انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کو روکنا۔

اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری سے متعلق سینئر علماء کمیشن کی طرف سے 1982 کا فتویٰ "مردہ شخص سے عضو یا اس کے کچھ حصے کو نکالنے کی اجازت" دیتا ہے جس سے اعضاء یا اس کے کچھ حصے کو کسی زندہ شخص کو عطیہ کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

اس میدان کے چیلنجز

سعودی عرب کو بھی بہت سے دیگر ممالک کی طرح اعضاء کی پیوند کاری کے شعبے میں چیلنجز کا سامنا ہے جس میں بنیادی طور پر پیوند کاری کے لیے اعضاء کی کمی کا مسئلہ ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مملکت اعضاء کے عطیہ کو فروغ دینے اور اس کی اہمیت کے بارے میں شعور پیدا کرنے کی حکمت عملیوں پر فعال طور پر کام کر رہی ہے۔

سعودی عرب کی اعضاء کی پیوند کاری کی کوششوں اور عطیہ دہندگان کی فہرست کو 2021 میں اس وقت اہمیت حاصل ہوئی جب شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی مرکز برائے اعضاء پیوندکاری کے اعضاء عطیہ پروگرام کے لیے خود کو رجسٹر کیا۔ ان کا مقصد عطیہ دہندگان کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے مزید لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

مملکت میں اعضاء کی پیوند کاری کے مرکز میں کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی ہے۔

حالیہ برسوں میں کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی نے خود کو ٹھوس اعضاء کی پیوند کاری کے لیے ایک عالمی شہرت یافتہ مرکز بنالیا ہے جو فی الحال سالانہ 800 سے زائد آپریشن انجام دے رہا ہے۔

ڈاکٹر بروئرنگ نے کہا کہ اس سے یہ عالمی سطح پر سب سے اوپر تین یا چار ایسے مراکز میں شامل ہو جاتا ہے جہاں کوئی مغربی ادارہ اتنی بڑی تعداد پر فخر نہیں کرتا۔

معیار، نتائج، اور پیوندکاری کے بعد مریضوں کی نگہداشت پر ہسپتال کا زور بشمول اختراعی نقطۂ نظر مثلاً مصنوعی ذہانت اور ورچوئل نگہداشت کو یکجا کرنا اس عزم کا ثبوت ہے جو صحت کی نگہداشت میں بہترین کارکردگی کے حصول کے لیے ملک نے متعین کیا ہے۔

کے ایف ایس ایچ اینڈ آر سی میں اپنے 13 سالہ دور میں ڈاکٹر بروئرنگ نے پیوندکاری کی تعداد میں دس گنا اضافہ دیکھا ہے – تقریباً 800 اعضاء کی پیوند کاری ہر سال کی جاتی ہے – اور پیوندکاری کے معیار، نتائج اور مریضوں کی نگہداشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مملکت کی طبی جدت اور فضیلت کی انتھک جستجو اعضاء کی پیوند کاری اور درحقیقت مجموعی طور پر صحت کی نگہداشت میں سعودی عرب کی قیادت کے روشن مستقبل کو یقینی بناتی ہے۔

ڈاکٹر برورنگ نے کہا۔ "اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں حکومت کی طرف سے شاندار حمایت حاصل ہے۔ وہ سعودی آبادی کی بہترین نگہداشت چاہتے ہیں۔ وہ واقعی ہم پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دے رہے ہیں کہ ہمارے پاس بہترین دستیاب ٹیکنالوجی اور بہترین ادویات موجود ہیں تاکہ سعودی آبادی ہر قسم کی بیماریوں سے تیزی سے صحت یاب ہو۔ اس لیے یہ واقعی سرمایہ کاری کا معاملہ ہے اور جدید ترین طبی ایجادات کو آگے بڑھانے کا معاملہ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا۔ "مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ پیوند کاری کے شعبے میں ہم نہ صرف نقشے پر ہیں بلکہ ہم زندہ عطیہ دہندہ کے جگر کی پیوند کاری کے شعبے میں بھی دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں