حماس حملہ روکنے میں ناکامی کے ذمہ دار نیتن یاھو: 80 فیصد اسرائیلیوں کا خیال

آرمی چیف ، سربراہ ملٹری انٹیلی جنس اور سربراہ شن بیٹ اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعہ کے روز اسرائیلی اخبار ’’ معاریف‘‘ میں ایک رائے عامہ کے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ 80 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے بڑے حملے کے موقع پر سکیورٹی کی ناکامی کی ذمہ داری وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو قبول کرنی چاہیے۔

آرمی چیف آف سٹاف، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور داخلی سلامتی سروس (شن بیٹ) کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی ایجنسیاں اس حملے کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس جنگ میں 1400 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد میں شریک وزیر خزانہ سموٹریچ نے بھی کہا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی قیادت اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی لیکن خود وزیر اعظم نے ابھی تک ذمہ داری کا اعلان کرتے ہوئے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا۔ نیتن یاہو کی حکمراں لیکود پارٹی کے ووٹروں میں سے بھی 69 فیصد نے کہا کہ وزیراعظم کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

سروے سے بہ بھی پتہ چلا کہ نیتن یاہو سابق وزیر دفاع بینی گانٹز سے بہت پیچھے ہیں جو سینٹرسٹ اپوزیشن پارٹی کے سربراہ ہیں جنہوں نے گزشتہ ہفتے متحدہ حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ 48 فیصد شرکاء کا خیال تھا کہ گانٹز بہتر وزیر اعظم ہوں گے۔ صرف 28 فیصد نے نیتن یاہو کے حق میں رائے دی۔ سروے میں 65 اسرائیلی غزہ میں متوقع زمینی حملہ کرنے والی اسرائیلی افواج کی حمایت کی۔

معارف نے رپورٹ کیا کہ رائے شماری 18 اور 19 اکتوبر کو کی گئی اور اس میں 510 شرکاء شامل تھے۔ اس سروے میں میں غلطی کا مارجن 4.3 فیصد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں