عمر رسیدہ لوگوں میں نیند کے مسائل بدتر ہوتے جا رہے ہیں مگر اس کا حل کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نیند کی خرابی ان شدید اور وسیع مسائل میں سے ایک سمجھی جاتی ہے جس سے بوڑھے افراد دوچار ہوتے ہیں،ان کی پوری زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور ان کی روزمرہ کی تکالیف میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ بعد میں آنے والی کئی بیماریوں کا بھی سبب بنتا ہے۔ عمر رسیدہ لوگوں کے لیے باقاعدہ اور اچھی نیند ضروری ہے۔ اسے انسانی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔

خصوصی طبی ویب سائٹ ہیپیسٹ ہیلتھ کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے گذری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بزرگوں میں نیند کے مسائل انتہائی تشویش کا باعث ہیں، جیسا کہ ماہرین امراضِ قلب کہتے ہیں۔

رپورٹ میں ماہرین صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ "بڑی عمر کے لوگوں کو دماغ کی غیرفعالیت کی وجہ سے نان ریپڈ آئی موومنٹ (NREM) مرحلے میں گہری نیند میں کمی کی وجہ سے نیند کی خرابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ NREM میں 2 فیصد کمی واقع ہوتی ہے‘‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ "یہ ایک عام جسمانی رجحان ہے۔ اس میں فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے"۔

ڈاکٹر منجوناتھ ایس کنسلٹنٹ انٹروینشنل پلمونولوجسٹ BGS گلوبل ہسپتال کہتے ہیں۔ میلاٹونن کی کمی ہماری عمر کے ساتھ ساتھ اس ہارمون کی سطح میں کمی کے ساتھ ہوتی ہے۔

لیکن بیرونی عوامل نیند کے معمولات میں خلل کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹر لینی ڈا کوسٹا جو ماہر امراض قلب اور ممبئی میں امراض قلب کے ماہر ہیں۔وہ بعض وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں جو سرکیڈین تال میں خلل کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "جوں جوں لوگ بڑے ہوتے جاتے ہیں ان کی نیند میں خرابی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں ماحول کے لیے حساس بناتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’اگروہ سوتے ہوئے شور کا سامنا کریں گے تو وہ فوراً پریشان ہو جائیں گے۔ اس سے وہ جاگ جائیں گے اور دوبارہ سونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔

بوڑھوں میں بے خوابی بہت سے طبی حالات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر منجوناتھ نے بے خوابی کو ایک اہم کارگر عنصر کے طور پر اجاگر کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ "بے خوابی کی وجہ سے وہ یا تو پوری رات جاگتے ہیں یا دن میں ضرورت سے زیادہ سوتے ہیں"۔ وہ بتاتے ہیں کہ "یہ ان کا موڈ خراب کرتا ہے، جس سے وہ تھکن اور سستی محسوس کرتے ہیں"۔

ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ ہوا کے راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے نیند کی کمی بھی دم گھٹنے یا کھانسی کا باعث بنتی ہے اور اس طرح نیند میں خلل پڑتا ہے۔

کامینی ہسپتال حیدرآباد، پاکستان کے سینیر پلمونولوجسٹ ڈاکٹر ڈی ایس سوجانیا کہتے ہیں کہ "روکنے والی نیند کی کمی موٹاپے کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے گردن کے گرد پٹھوں کی سستی ختم ہو جاتی ہے۔اس کی وجہ سے نیند کے دوران اینٹھن یا ہوا کی نالی تنگ ہو جاتی ہے۔ دماغ کو سانس لینے پر قابو پانے کے لیے سگنل بھیجنے سے روکتا ہے جو بعض صورتوں میں عارضہ قلب کا باعث بنتا ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ آنتوں کی صحت کے مسائل بھی رات کے وقت نیند میں خلل کا باعث بنتے ہیں کیونکہ گیسٹرو ایسوفیجل ریفلکس بیماری (GERD) نیند کے دوران تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر منجوناتھ بتاتے ہیں کہ "نیچے غذائی نالی کی سستی ایسڈ ریفلکس کا سبب بنے گی جس سے سینے میں جلن ہو گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں