اب خوشیوں کی کوئی جگہ نہیں، اردن کے نوجوان شادی تقریبات منسوخ کرنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بربریت میں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر سے جاری جارحیت کے دوران فلسطینیوں سے یکجہتی کرتے ہوئے اردن میں نوجوانوں نے اپنی شادی کی تقریبات منسوخ کرنا شروع کردی ہیں۔ اب تک کئی نوجوان اردنی باشندوں نے اپنی شادی کو منسوخ یا ملتوی کر دیا ہے۔ غزہ کے بڑے سانحے کو دیکھتے ہوئے فلسطینیوں کے غم میں نوجوانوں پہلے سے طے شدہ تقریبات کو ختم کردیا۔

ان نوجوانوں میں سے ایک طارق الفتاوی نے انکشاف کیا کہ اس نے خوشی کے تمام مظاہر اور پارٹیوں کو منسوخ کر دیا ہے ۔ غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اپنی شادی کا اعلان خاندان تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے باشندوں کی مصیبت تمام اردنیوں کی مصیبت ہے۔ جب دو ہفتوں سے زائد عرصے سے ہر روز ہزاروں بے گناہ افراد کا قتل ہو رہا ہے تو خوشی منانا اور کھلے عام اس کا اعلان کرنا شرمناک ہے۔

زرقا گورنریٹ کے رہائشی نوجوان محمد حجی نے بھی اپنی شادی کا اعلان کرنے اور ایک پارٹی کاانعقاد منسوخ کردیا۔ ان کے خاندان کا خیال تھا کہ غزہ کی پٹی کے لیے سب سے آسان چیز جو وہ پیش کر سکتے ہیں وہ ان مشکل وقتوں میں ان کے ساتھ ان کا درد محسوس کرنا، ان کے لیے دعا کرنا، مالی مدد کرنا اور انھیں خون کا عطیہ دینا ہے۔

فٹ بال کے الوحدات کلب کے گول کیپر عبداللہ الفخوری نے بھی اپنی شادی ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ اردنی قومی ٹیم کے سٹار محمد ابو زریق نے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنی شادی منسوخ کردی۔

اردن میں عربی اور انگریزی بولنے والے مقامی ریڈیو سٹیشنوں کی متحد نشریات کا آغاز آج کیا گیا تاکہ اردن میں غزہ کی پٹی کے لوگوں کے فائدے کے لیے اردن کی ہاشمائٹ چیریٹیبل آرگنائزیشن کے تعاون سے عطیات جمع کیے جائیں۔ اردنی ٹیلی ویژن کے زیر اہتمام ٹیلی تھون کے ذریعے 11.2 ملین اردنی دینار کے عطیات جمع کئے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں