مادی مراعات کے بدلے زمین، مصر میں فلسطینیوں کو بسانے کا اسرائیلی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی مسگاو انسٹی ٹیوٹ برائے قومی سلامتی اور سٹریٹجک ریسرچ نے غزہ کی پٹی کی پوری آبادی کو مصر کے جزیرہ نما سینا میں منتقل کرنے کے متوقع اسرائیلی منصوبے کا پردہ آشکار کیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے جو منصوبہ پلیٹ فارم "ایکس" پر شائع کیا ہے وہ ’’ غزہ کے تمام باشندوں کے لیے مصر میں دوبارہ آباد کاری اور بحالی کے حتمی منصوبہ کا اقتصادی پہلو‘‘ کے عنوان سے ہے۔

سٹریٹجک تجزیہ کار امیر وائٹ مین کی طرف سے تیار کی گئی اس تحقیق میں کئی اہم نکات شامل تھے جن پر اسرائیل غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے کے لیے مصر کو دی گئی مراعات پر انحصار کرتا ہے۔

منصوبے کے مطابق مصری حکومت کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر خالی کرانے کا ایک منفرد اور نادر موقع ہے کیونکہ وہاں پوری عرب آبادی کی آبادکاری اور انسانی بنیادوں پر بحالی کے لیے فوری، حقیقت پسندانہ اور پائیدار منصوبے کی ضرورت ہے۔

"السادس من اکتوبر‘‘ اور ’’ العاشر من رمضان‘‘

اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 2017 میں رپورٹس نے اشارہ کیا کہ مصر میں تقریباً 10 ملین مکانات خالی ہیں جن میں سے تقریباً نصف تعمیر اور باقی آدھے زیر تعمیر تھے۔ مثال کے طور پر قاہرہ سے منسلک دو بڑے شہروں "السادس من اکتوبر‘‘ اور ’’ العاشر من رمضان‘‘ میں حکومت اور نجی شعبے کی ملکیت میں تعمیر شدہ اور خالی اپارٹمنٹس کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ہر عمارت کا ایک رہائشی یونٹ 6 افراد کے رہنے کے لیے کافی ہے۔ اس طرح یہ اپارٹمنٹس دس لاکھ لوگوں کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ مذکورہ بالا دو شہروں میں سے کسی ایک میں تقریباً 5.14 افراد پر مشتمل خاندان کے لیے 95 مربع میٹر کے رقبے والے تین کمروں کے اپارٹمنٹ کی اوسط قیمت تقریباً 19 ہزار ڈالر ہے۔ دوسری طرف غزہ کے سیکٹر میں رہنے والے رہائشیوں کی تعداد تقریباً 1.4 سے 2.2 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ اس منصوبے کی مالی اعانت کے لیے مصر کو 5 سے 8 بلین ڈالر منتقل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

فوری مالی مراعات

اسرائیلی منصوبہ مصری معیشت کو اس سطح پر فوری مالی مراعات فراہم کرنے پر منحصر ہے جس سے مصری حکومت کو بہت بڑا اور فوری فائدہ پہنچے گا۔

اسرائیلی معیشت کے لیے یہ رقم بہت کم ہے۔ اس مشکل مسئلے کو حل کرنے کے لیے 20 سے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے ۔ اس طرح یہ ایک جدید، سستا اور پائیدار حل ہے۔

مطالعہ میں کہا گیا کہ اس منصوبے کو حاصل کرنے کے لیے ایک ہی وقت میں بہت سی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ فی الحال یہ سب شرائط پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ واضح نہیں کہ ایسا موقع دوبارہ کب آئے گا۔

مصر اور فلسطین کی تردید

اس تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مصر اور اسرائیل کے درمیان رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ سے تارکین وطن کی آمد شروع ہونے کے چند دنوں کے اندر اندر اس معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے۔ آج پہلے سے ہی غزہ کے لاکھوں باشندے غزہ کی پٹی سے مصر پہنچنا چاہتے ہیں۔ مصری تعاون کے ساتھ ان افراد کو سرحد کے دوسری طرف منتقل کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ غزہ کی کل آبادی تقریباً 20 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ یہ مصر کی کل آبادی کا 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ مصر میں پہلے ہی کئی دیگر عرب قومیتوں کے تقریباً 9 ملین مہاجرین موجود ہیں۔ تاہم یاد رہے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کے فلسطینی ہم منصب محمود عباس نے فلسطینیوں کو سینا میں منتقل کرنے کے اس اسرائیلی منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size