مشرق وسطیٰ

امریکہ کے زیر نگرانی اسرائیل غزہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرے گا؟

غزہ کی سرنگوں میں ممنوعہ زہریلے اعصاب شکن ہتھیاروں کا استعمال امریکی 'ڈیلٹا فورس' کی مدد سے ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کو آنے والے دنوں میں اچانک کیمائی ہتھیاروں اور اعصاب شکن گیسوں کے حملے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیل کی فوج کے لیے امریکی بحریہ باقاعدہ طور پر غزہ میں 'ان ایکشن' آنے والی ہے۔

یہ انکشاف 'مڈل ایسٹ آئی' نامی ویب گاہ نے اپنی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی وائٹ ہاوس اور وزارت دفاع نے اس بارے میں سوالوں کو جواب دیا نہ کوئی تبصرہ کیا ۔

امکانی طور پر اسرائیل نے غزہ میں تعمیر شدہ سرنگوں کو بہا لے جانے کے لیے مختلف گیسز کے استعمال کی تیاری شروع کر رکھی ہے جو امریکی بحریہ کی مدد سے بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔

ان ہتھیاروں میں ایک اعصاب شکنی کے کام انے والی گیس ہے۔ جو کیمیائی ہتھیاروں میں شامل ہے۔ تاہم یہ کیمیائی ہتھیار اسرائیلی فوج امریکہ کی 'ڈیلٹا فورس ' کے کمانڈوز کی زیر نگرانی استعمال کرے گی۔ یہ کیمائی حملہ امریکی کمانڈوز کے سرپرائز حملے کا حصہ ہو گا۔

دوسری جانب اسرائیل اور امریکہ یہ توقع کرتے ہیں کہ اس حملے میں سرپرائز دینے کا پہلو اہم ہو گا۔ تاکہ حماس کی تعمیر کردہ سرنگوں تک پہنچا جا سکے اور 220 کے قریب مغویان کو پہلے محفوظ انداز میں نکال کر حماس کے ہزاروں سپاہیوں کو ہلاک کیا جا سکے۔

ذرائع نے اس بیان میں کہا ہے کہ یہ اطلاعات امریکہ سے ملی ہیں جو ایک ' لیکیج ' کے باعث سامنے آ سکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکہ میں اس منصوبے میں حیران کرنے والے پہلو کو اہمیت دی گئی ہے۔ اسرائیل کی فیصلہ کن کامیابی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کی ایک وجہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے۔ خصوصاً اعصاب پر اثر انداز ہونےوالے کیمیائی ہتھیار اور گیسزپر پابندی ہے۔

امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اعصاب کو شل کرکے انسانوں کو بے حس و حرکت بنا دینے والی گیسز غزہ کی سرنگوں کے اندر پمپ کی جائیں گی۔ اس طرح کی گیس کچھ سال پہلے شام میں استعمال ہوئی تھیں جس کے بعد دنیا میں بہت شور مچا تھا۔ بعد ازاں شام کے کنٹرول میں ان کیمائی ہتھیاروں اور خطناک گیسز کو عالمی اداروں نے تلف کیا تھا۔

ان ہتھیاروں کے ذریعے انسانی جسموں کو چھ سے بارہ گھنٹوں تک بے حس و حرکت کرنے والی یہ گیسز امکانی طور پر بھاری مقدار میں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان کے استعمال کی نگرانی امریکہ کی 'ڈیلٹا فورس' کرے گی۔ اس عرصے میں سرنگوں سے مغویوں کو نکالنے کا آپریشن بھی کیا جائے گا۔'

'مڈل ایسٹ آئی' نے ان اطلاعات کے بارے میں امریکی وائٹ ہاوس اور امریکی محکمہ دفاع سے رجوع کیا لیکن اس خبر کی اشاعت تک وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں