سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن ٹی وی اینکر بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی ’جی بی نیوز‘ سے وابستہ ہو جائیں گے جہاں وہ موجودہ عالمی حالات میں اپنے "واضح خیالات" کی تشہیر اور برطانیہ کے لیے یورپی یونین چھوڑنے کے "زبردست مواقع" کو اجاگر کرنے کی مہم چلائیں گے۔

’جی بی‘نیوز نے اطلاع دی ہے کہ بورس جانسن 2024ء کے اوائل میں ایک پریزینٹر، پروگرام اور مبصر کے طور پر کام کریں گے۔ وہ برطانیہ میں آئندہ سال متوقع انتخابات کے ساتھ ساتھ امریکی انتخابات کو کور کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

"دی ٹیلی گراف" اخبار میں رپورٹ ہونے والی خبروں کے مطابق جانسن ایک نئی پروگرام سیریز بھی لکھیں گے اور اسے ٹی وی پر پیش کریں گے۔

چینل نے کہا تھا کہ ان کا پروگرام "برطانیہ کی طاقت کو دنیا بھر میں ظاہر کرے گا" اس کے علاوہ وہ "وقتاً فوقتاً لائیو ٹیلی ویژن پروگرام بھی پیش کریں گے"۔

"آزادانہ سوچ"

’جی بی‘نیوز ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بورس جانسن نے کہا کہ "جی بی نیوز ایک آزاد خیال چینل ہے جس کے ناظرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ میں جلد ہی اس چینل سے وابستہ ہو جاؤں گا اور عالمی امور کے بارے میں اپنی واضح رائے پیش کروں گا‘‘۔

جانسن نے ’ایکس‘پلیٹ فارم پر لکھا کہ "میں اس اہم نئے ٹی وی چینل کو روس سے لے کر چین تک، یوکرین کی جنگ، برطانیہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور آنے والے بے پناہ مواقع کے بارے میں اپنے واضح خیالات پیش کروں گا"۔

ٹیلی ویژن چینل کا آغاز 2021 میں خبروں، آراء اور تجزیوں کے امتزاج کے ساتھ کیا گیا جو امریکی نیٹ ورکس جیسے فاکس نیوز سے ان کے برطانوی ہم منصبوں سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔

یہ چینل اسٹیشن آل پرسیپٹیو کی ملکیت ہے، جب کہ اس کے سربراہ ایلن میک کورک اور اینجلوس فرانگوپولوس ہیں۔

یہ قابل ذکر ہے کہ بورس جانسن بریگزٹ تحریک کے پیچھے اہم سیاسی رہ نما تھے۔ انہوں نے 2019ء میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا اور اس سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے سنہ2022ء میں کئی سکینڈلز کے بعد استعفیٰ دے دیا جس کی وجہ سے انہیں کنزر ویٹو پارٹی کے بہت سے ارکان پارلیمنٹ کی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں