فاقہ کشی بطور ہتھیار استعمال، غزہ بموں اور روٹی کیلئے لائنوں کے درمیان پھنس گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امدادی ایجنسیوں نے اسرائیل پر قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد کے قافلوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور غزہ کے شہری خوراک اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کی شکایت کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امدادی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں بیکریوں پر بمباری کی گئی۔ ایکشن ایڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے زمینی حملے کی منصوبہ بندی سے پہلے قحط کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے بیکریاں اندھا دھند بمباری کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔ اس دوران غزہ کی پٹی کو ایندھن کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔

آکسفیم نے انکشاف کیا ہے کہ بحران کے آغاز میں سرحدیں بند ہونے کے بعد سے غزہ کو معمول کے مطابق خوراک کی صرف 2 فیصد فراہمی کی گئی ہے۔

آکسفیم نے کہا کہ 2.2 ملین لوگوں کو خوراک کی فوری ضرورت ہے۔ لڑائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لڑائی سے قبل ہر روز 104 ٹرک محصور غزہ میں پہنچائے جاتے تھے۔ اس حساب سے ہر 14 منٹ بعد ایک ٹرک غزہ میں داخل ہوتا تھا۔

اب اگرچہ ہفتے کے آخر سے امداد سے لدے 62 ٹرکوں کو رفح کراسنگ کے ذریعے جنوبی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن صرف 30 ٹرکوں میں خوراک کا سامان موجود تھا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دس بیکریوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

ایکشن ایڈ سے تعلق رکھنے والی ریھام الجعفری نے انکشاف کیا ’’ ہم بیکریوں کو بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھتے ہیں جب کہ شہری ہر روز اپنے اہل خانہ کے لیے کھانا لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا "جو لوگ بمباری سے بچ گئے وہ بھوک سے مر سکتے ہیں۔"

آٹھ بچوں کے باپ محمود محمد زعرب نے دوحہ بیکری کے سامنے لائن میں کھڑے ہوتے ہوئے بتایا کہ اس نے وہاں پہنچنے کے لیے چار یا پانچ میل کا فاصلہ طے کیا ہے۔ وہ دوحہ بیکری میں صبح پانچ بجے سے ایک لمبی لائن میں کھڑا تھا اور موقع کا انتظار کرتا رہا۔ طویل انتظار کے بعد بیکری کے مالک نے اسے بتایا کہ روٹی ختم ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں